عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

نواب آف لُدھڑ!: روزن دیوار سے / عطا ء الحق قاسمی

بہت دنوں سے خاندان غلاماں کے نواب آف لُدھڑ سے میری ملاقات نہیں ہوئی گزشتہ روز سر را ہے مل گئے۔ میں انہیں ایک ریستوران میں لے گیا میں نے کہا ’’نواب صاحب جب سے موسم بدلا ہے آپ سے ملاقات ہی نہیں ہوئی ’’بولے ‘‘ میں موسم کے مزید بدلنے کا انتظار کر رہا تھا ’’میں نے پوچھا نواب صاحب بائی دے وے آپ کو موسم کون سا پسند ہے ؟کہنے لگے ’’آرام دہ موسم‘‘ خدا جانے میرے دل میں کیا سمائی کہ میں ان سے فلمی قسم کا انٹرویو کرنے لگا اور نواب صاحب نے جس جوش وخروش سے میرے سوالوں کے جواب دیئے اس سے میں نے اندازہ لگایا کہ ان کے اندر اداکار بننے اور پھر اس طرح کے انٹرویو دینے کی خواہش بہت شدید ہے چنانچہ میں بھی مزید شیر ہو گیا اور تابڑ توڑ سوالات کا سلسلہ شروع کر دیا۔
’’نواب صاحب ،آپ کو پھول کون سا پسند ہے ؟‘‘
’’جس میں خوشبو نہ ہو‘‘
’’کوئی پسندیدہ شعر ؟‘‘
صداقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے
کہ خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے
’’گویا آپ کو کاغذ کے پھول پسند ہیں ‘‘
’’جی ہاں، یہ صرف دیکھنے کے کام آتے ہیں، نہ انہیں قبروں پر چڑھایا جا سکتا ہے نہ یہ کسی کے گلے میں ڈالے جا سکتے ہیں‘‘
’’تاہم کوئی خوشبو بھی تو آپ کو پسند ہو گی ‘‘
’’جی ہاں نئے کرنسی نوٹوں کی خوشبو پسند ہے!‘‘
’’آپ صبح اٹھتے ہی پہلا کام کیا کرتے ہیں ؟‘‘
’’اخبار پڑھتا ہوں تاکہ پتہ چل سکے کہ کون مضبوط جا رہا ہے ؟‘‘
’’اس کا مقصد ؟‘‘
’’اس کا مقصد واضح ہے جو مضبوط ہو اس کے ہاتھ مضبوط کئے جائیں اس سے انسان جلدی اپنی منزل تک پہنچ جاتا ہے ‘‘
’’آپ کو اداکار کون سا پسند ہے ؟‘‘
’’کوئی بھی نہیں ‘‘
’’اور اداکارہ؟‘‘
’’سبھی پسند ہیں ‘‘
’’ہجڑوں کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے ؟‘‘
’’مجھے بہت پسند ہیں یہ کسی ایک طرف نہیں ہوتے ‘‘
’’آپ کا پسندیدہ رنگ؟‘‘
’’سفید !‘‘
’’میں نے خون کا رنگ نہیں پوچھا‘‘
’’اچھا ؟تو پھر سیاہ!‘‘
’’وہ کیوں‘‘
’’کیونکہ مجھے ماتمی ماحول سازگارلگتا ہے انسان کسی کے بھی گلے لگ کر اسے پرسا دے سکتا ہے جبکہ عام حالات میں صرف مردوں سے گلے ملا جا سکتا ہے ‘‘
’’آپ نے کبھی کسی سے محبت کی ؟‘‘
’’جی ہاں جو شخص محبت نہیں کر سکتا میں اسے انسان ہی نہیں سمجھتا ،میں اب تک ڈیڑھ دو سو محبتیں کر چکا ہوں‘‘
’’معاف کیجئے میں پادری نہیں ہوں کہ آپ کنفیشن(Confession)کرنے بیٹھ گئے ہیں میں نے محبت کا پوچھا ہے اور آپ بڑہانکنے لگے ہیں ؟‘‘
’’کبھی سچی محبت بھی کی ؟‘‘
’’ہاں ایک بزرگ خاتون سے کی تھی ‘‘
’’بزرگ خاتون؟‘‘
’’جی ہاں وہ کوئی اسی کے پیٹے میں تھیں بے اولاد تھیں اور تازہ تازہ بیوہ ہوئی تھیں میں ان کو دل دے بیٹھا مگر میری یہ محبت آغاز ہی میں ناکام ہو گئی ‘‘
’’وہ کیسے ؟‘‘
’’مرحومہ نے اپنی ساری جائیداد اپنے ایک دور پار کے عزیز کے نام کر رکھی تھی مجھے اس کا صدمہ ہوا ؟‘‘
’’لوگ آپ کو خواہ مخواہ بے وفا کہتے ہیں حالانکہ بیوفائی تو آپ کے ساتھ ہوئی ‘‘
’’جی ہاں، اس کے بعد میں وفا کے لفظ ہی سے چڑنے لگا ہوں یہ سب بکواس ہے کوئی کسی کا نہیں ہوتا اس نے اسی برس کے ہوتے ہوئے بھی بے وفائی کی ،دھوکہ کیا، اور میری سچی محبت کا یہ صلہ دیا ‘‘
’’آپ صحیح کہتے ہیں نواب صاحب ‘‘
’’جی، ایسا صرف میرے ساتھ ہی نہیں ہوا ہماری سات نسلوں کے ساتھ بے وفائی ہو رہی ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ الٹا لوگ ہمیں خاندانی بے وفا، خاندانی لوٹا اور اللہ جانے کیا کیا کہتے ہیں ۔مگر ہم برا نہیں مانتے برا اس وقت مانیں گے جب ہمیں اس رویے سے کبھی نقصان اٹھانا پڑا اللہ کا شکر ہے سب عزت کرتے ہیں !‘‘
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker