عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

سیٹھ صاحب!۔۔عطا ء الحق قاسمی

ہم لوگوں کو دن میں اتنی دفعہ ’’معاف کرو بابا‘‘ کہنا پڑتا ہے کہ بعض اوقات بےدھیانی میں کسی اچھے خاصے معزز شخص کو ہم فقیر سمجھ کر ’’معاف کرو‘‘ کہہ بیٹھتے ہیں۔ چونکہ ان دنوں فقیر (خواتین و حضرات) دروازے کی گھنٹی بجا کر، کار کا شیشہ کھٹکھٹا کر اور دامن کو حریفانہ کھینچ کر بھیک مانگتے ہیں چنانچہ اس طرح کی کسی حرکت پر ہم لوگ بغیر دیکھے ’’معاف کرو‘‘ کہہ بیٹھتے ہیں حالانکہ بعض دفعہ ہمارا کوئی قریبی دوست ہمیں مخاطب کرنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی کچھ ایسے لوگ ہمارے درمیان موجود ہیں جو اگرچہ کروڑ پتی ہوتے ہیں مگر بقول غالبؔ
بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔ
تماشائے اہلِ کرم دیکھتے ہیں
ان کی ہیئت کذائی دیکھ کر دایاں ہاتھ خوامخواہ جیب میں چلا جاتا ہے۔ فقیروں والا بھیس تو انہوں نے خود دھارا ہوتا ہے بلکہ فقیر ان سے بہتر لباس پہنتے ہیں۔ اس طرح ان کے چہرے پر پائی جانے والی غربت بھی سراسر ان کی اپنی دی ہوتی ہے۔ اوپر سے جب یہ لوگ اپنا بزنس ڈائون ہونے کی بات بتاتے ہیں اور یہ کہ بینکوں کے کروڑوں روپوں کے مقروض ہیں تو ان کے قریبی لوگ بھی اس خدشے میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ آیا اس شخص کو دوپہر کا کھانا بھی میسر ہوا ہے کہ نہیں؟
میرے اپنے دوستوں میں ایک کروڑ پتی فقیر موجود ہے۔ ہم دوستوں نے اس کا نام سیٹھ فقیر خان رکھا ہوا ہے۔ اس کے اپنے کارخانے ہیں، غلہ اگانے والی زمینیں ہیں، ذہین و فطین اولاد ہے مگر اس نے نہ صرف یہ کہ اپنا حلیہ فقیروں والا بنایا ہوتا ہے بلکہ اس کی سوچ بھی اس کے ’’سیٹھ فقیر‘‘ ہونے کی دلیل ہے۔ اس کی صحت بھی دیوالیہ ہو چکی ہے مگر بیماریوں کی وجہ سے وہ صبح شام صرف دہی کھاتا ہے اور یوں خوراک پر اٹھنے والے اخراجات سے بھی محفوظ رہتا ہے بلکہ ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق وہ صبح شام واک بھی کرتا ہے چنانچہ وہ اپنی قیمتی گاڑی گیراج میں بند رکھتا ہے اور دفتر بھی پیدل آتا جاتا ہے۔ اس کی واحد خوشی ہر ماہ بینک اسٹیٹمنٹ کا معائنہ ہے جو اس کی دولت میں اضافہ ظاہر کرتی ہے لیکن اس سے بات کریں تو وہ یہی بتاتا ہے کہ وہ بمشکل اپنا اور بچوں کا پیٹ پال رہا ہے۔ ایک دن اس نے مجھ سے اس یقین دہانی پر ایک ہزار روپے ادھار بھی لئے تھے کہ جونہی حالات اچھے ہوئے میں تمہاری رقم تمہیں لوٹا دوں گا!
سیٹھ ایک دن اچھے موڈ میں نہیں تھا اور اس اچھے موڈ میں نہ ہونے کی وجہ سے اس روز وہ اپنی دولت کو آگ لگانے پر بھی تلا ہوا تھا۔ چنانچہ اس نے مجھے چائے کا ایک کپ پیش کیا جس میں چینی نہیں تھی۔ اس کا کہنا تھا چینی سفید زہر ہے اور وہ اپنے کسی دوست کو زہر نہیں پلانا چاہتا۔ صرف یہی نہیں اس روز اس نے مجھے ایک سگریٹ بھی پیش کیا جو اس نے اپنے ڈرائیور کے کوارٹر سے بطور خاص میرے لئے منگوایا تھا۔ اس نے مجھے پیار سے مخاطب کیا اور کہا میں جانتا ہوں کہ تم سب دوست میرا مذاق اڑاتے ہو۔ میری کنجوسی اور دولت سے محبت کے قصے مزے لیکر بیان کرتے ہو مگر میری جان ایک بات یاد رکھو غریب ہونے سے بہتر ہے کہ انسان غریب دکھائی دے۔ میں نے اس فلسفے کی وجہ پوچھی تو سیٹھ بولا ’’پاکستان غریب ملک نہیں ہے اس کے پاس سب کچھ ہے مگر وہ غریب دکھائی دیتا ہے چنانچہ دیکھ لو ان دنوں ہر طرف سے اس پر ڈالروں کی بارش ہو رہی ہے، یہ ڈالروں کی بارش دوسرے غریب ملکوں پر کیوں نہیں ہوتی؟ کیا تم نے اس پر غور کیا؟ مجھے یقین ہے غور نہیں کیا ہوگا کیونکہ تم لوگ حقائق پر غور کرنے والوں میں سے نہیں ہو لہٰذا دنیا کے طاقتور ملکوں کا صرف اس غریب ملک پاکستان پر مہربان ہونا کیا ہمارے لئے فخر کا مقام نہیں؟ اس لئے میں کہتا ہوں کہ غریب ہونے سے غریب دکھائی دینا زیادہ بہتر ہے۔ میں سیٹھ کو ایک احمق شخص تصور کرتا تھا جو غلہ اگانے والی زمینوں اور دھواں اگلتی ہوئی چمنیوں کا مالک ہونے کے باوجود غریب سا دکھائی دیتا تھا مگر مجھے اس روز پتا چلا کہ وہ احمق نہیں ہے بلکہ احمق ہم سب ہیں جو ایسے لوگوں کو احمق سمجھا کرتے ہیں۔
اور اب آخر میں آج کے عہد کے ایک بڑے شاعر خورشید رضوی کی میری پسندیدہ غزل
یہ جو ننگ تھے یہ جو نام تھے مجھے کھا گئے
یہ خیال پختہ جو خام تھے مجھے کھا گئے
کبھی اپنی آنکھ سے زندگی پہ نظر نہ کی
وہی زاویے کہ جو عام تھے مجھے کھا گئے
میں عمیق تھا کہ پلا ہوا تھا سکوت میں
یہ جو لوگ محوِ کلام تھے مجھے کھا گئے
یہ عیاں جو آبِ حیات ہے اسے کیا کروں
کہ یہاں جو زہر کے جام تھے مجھے کھا گئے
وہ نگیں جو خاتمِ زندگی سے پھسل گیا
تو وہی جو میرے غلام تھے مجھے کھا گئے
میں وہ شعلہ تھا جسے دام سے تو ضرر نہ تھا
یہ وسوسے تہہ دام تھے مجھے کھا گئے
جو کھلی کھلی تھیں عداوتیں مجھے راس تھیں
یہ جو زہر خندہ سلام تھے مجھے کھا گئے
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker