عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

بھائیو! میں وہ نہیں جو آپ مجھے سمجھتے ہیں!۔۔عطا ء الحق قاسمی

مجھے اللہ تعالیٰ نے عجز و انکسار کا پیکر بنایا ہے، میں نے کبھی اپنے بارے میں یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں ملک کا سب سے بڑا مزاح نگار ہوں، یا سفر نامہ نگاری میں میرے قریب بھی کوئی نہیں پھٹکتا، یا شاعری میری گھر کی لونڈی ہے، یا جب گھر سے نکلتا ہوں تو ماسک پہن کر نکلتا ہوں، کورونا یا قرض خواہوں کی وجہ سے نہیں بلکہ محض اِس لئے کہ مجھے پہچان کر مداحوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ نہ لگ جائیں۔ میں ایسی خود پسندی سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جو لوگ اِس حوالے سے میرے بارے میں مبالغہ آمیز آرا کا اظہار کرتے ہیں، یہ اُن کی ذاتی رائے ہوگی اور میں کبھی کسی سے اختلاف نہیں کرتا کیونکہ میں ہر قسم کی رائے پورے احترام اور انہماک سے سنتا ہوں کیونکہ میں آزادیٔ اظہار کا قائل ہوں۔
میرے عجز و انکسار کا تو یہ عالم ہے کہ میں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ آئن اسٹائن، فرائیڈ، نیوٹن، کارل مارکس، کوپر نیکس، گلیلیو، اسٹیفن ہاکنگ اور دوسرے دانشور یا سائنسدان، سب کے سب عالم رویا میں میرے شاگرد رہے ہیں، استغفراللہ، میں اپنی اِس عظمت کا اظہار کرکے قیامت کے روز اللہ کو کیا جواب دوں گا؟ اللہ سے ڈرتے رہنا چاہئے اور کبھی کوئی بڑا بول نہیں بولنا چاہئے، میں نے اظہار تو کیا کرنا ہے کبھی ایسا سوچا بھی نہیں کہ میرؔ، غالبؔ اور اقبالؔ عالم رویا ہی میں مجھ سے اپنے کلام کی اصلاح کراتے رہے ہیں، لاحول ولا، یا میں کہوں کہ مصحفی، آتش، مومن اور اسی مقام کے حامل دوسرے شعرا میرے شاگرد رہے ہیں، قراۃ العین حیدر، سعادت حسن منٹو، کرشن چندر، عصمت چغتائی، بلونت سنگھ، غلام عباس اور دوسرے بڑے افسانہ نگار عالم رویا میں مجھے پہلے اپنی تازہ تخلیق سناتے تھے اور پھر اشاعت کے لئے بھیجتے تھے۔ اور یہ تو ابھی کل کی بات ہے، میں نے کبھی اِس بات کا اظہار تک نہیں کیا کہ فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، مشتاق احمد یوسفی، منیر نیازی، مجید امجد، احمد فراز، محمد منشاء یاد، انتظار حسین، عبداللہ حسین، جون ایلیا، ظفر اقبال، ابنِ انشاء، ضمیر جعفری، کرنل محمد خان، حسن منظر، اسد محمد خان، رسا چغتائی، ن۔م۔راشد، جمیل الدین عالی، سلیم احمد،گل نصیر خان، شیخ ایاز، عطاءشاد، ڈاکٹر شاہ محمد مری، پریشان خٹک، ڈاکٹر ایوب بلوچ، فارغ بخاری اور میرے عہد کے دوسرے بڑے لکھنے والے سب کے سب میرے لنگوٹیے تھے، اگر یہ شخصیات اِس کا اظہار خود کرتی رہی ہیں تو یہ اُن کی ثواب دید پر ہے لیکن اللہ نے مجھے عجز و انکسار کا اتنا پیکر بنایا ہے کہ کبھی کبھی مجھے سوچنا پڑتا ہے کہ یہ عطاء الحق قاسمی کون ہے، نام کچھ سنا سنا سا لگتا ہے!
میں یہ کالم لکھتے ہوئے سوچ میں پڑ گیا ہوں کہ کیا آج وہ سب کچھ لکھ دوں جو لوگ مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہوئے میرے بارے میں کہتے رہتے ہیں، اور میری سرزنش کے باوجود آگے سے کہتے ہیں کہ کلمۂ حق کہنے سے اُنہیں کوئی نہیں روک سکتا۔ استغفر اللہ، کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ چاند میں میری تصویر نظر آتی ہے اور چاند پر پہنچنے والوں سے یہ بات بھی منسوب کی جاتی ہے کہ جب اُنہوں نے چاند کی سرزمین پر قدم رکھا تو اُنہوں نے مجھے وہاں چہل قدمی کرتے دیکھا، بقول اُن کے یہ دیکھ کر اُن کی خوشی کی انتہا نہ رہی کہ وہ اُن خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے روزِ آفرینش کے کچھ عرصہ بعد کی اتنی بڑی شخصیت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، یہ اُن کا کہنا ہے، ورنہ من آنم کے من دانم! ایک دفعہ میرے بارے میں یہ افواہ بھی اڑائی گئی کہ میری شبیہ سورج میں بھی نظر آتی ہے، مجھ سے اندھی عقیدت رکھنے والے مسلسل سورج کی طرف دیکھنے والے باقاعدہ اندھے ہوگئے، مگر بقول اُن کے یہ سودا مہنگا نہیں تھا کیونکہ بالآخر انہیں میری شبیہ سورج میں نظر آگئی تھی، اب اس احمقانہ عقیدت کا میرے پا س کیا علاج ہے، میں تو ایک حقیر انسان ہوں، مگر یہ بات صرف دیدۂ بینا رکھنے والے اصحاب کے سامنے کہتا ہوں۔
کچھ روز پہلے چند اہلِ علم میرے پاس آئے، وہ مجھے عقیدت کی جس انتہا کو ملے میں عجز و انکسار کا پیکر اُس کا ذکر نہیں کروں گا، اُنہوں نے مجھے بتایا کہ ہر سال یکم فروری کو پوری دنیا میں ایک گڑ گڑاہٹ سی سنائی دیتی ہے اور پھر دنیا کے کونے کونے میں ایک آواز گونجتی ہے کہ اِسے پہچانو، یہ تمہارے درمیان موجود ہے اور اِس کے ساتھ ہی پورے آسمان پر دنیا کے اُن خطوں میں نور کی شعائیں دکھائی دیتی ہیں جہاں عام حالات میں اس وقت رات ہوتی ہے، اہلِ علم نے مجھ سے پوچھا کہ اس کی کیا وجہ ہے اور اس کرشمے کا محرک کیا ہے، اب میں انہیں کیا بتاتا کہ یکم فروری میرا یومِ پیدائش ہے، میں نے اس کے جواب میں صرف اتنا کہا کہ مجھے نہیں پتا! جب انہوں نے بہت اصرار کیا تو میں نے بھی یہی کہنے پر اکتفا کیا کہ سب باتیں بتانے والی نہیں ہوتیں میں جانتا ہوں کہ میرے اِس جواب سے وہ الٹا مجھے بہت پہنچا ہوا سمجھنے لگ گئے ہوں گے کہ شاید انہیں کچھ راز مخفی رکھنے کے لئے کہا گیا ہے۔ میں اِس قسم کے مواقع پر دل ہی دل میں سخت شرمندہ ہوتا ہوں کہ میں ایک ذرۂ خاک ہوں اور لوگ مجھے کائنات کے رازوں کا امین سمجھتے ہیں۔ میرے خدا مجھے معاف کرنا، میں اپنی اوقات کو کبھی نہیں بھولا، مگر خلقِ خدا مجھے یقین دلانے میں لگی رہتی ہے کہ آپ ایک سپر ہیومن بینگ ہیں۔ اگر واقعی ایسا ہے تو اللہ ہر چیز پر قادر ہے، میں اس کے قادر مطلق ہونے سے کیسے انکار کرسکتا ہوں!
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker