اس وقت دوپہر کے ساڑھے بارہ بجے ہیں اور مجھے ڈیڑھ بجے اپنے رائٹر دوستوں ڈاکٹر ضیاءا لحسن اور حمیدہ شاہین کی بیٹی کی شادی میں شرکت کے لئے مال روڈ کے ایک ہوٹل میں جانا ہے۔ وقت کتنی تیزی سے گزرتا ہے، عزیزہ حمیدہ شاہین میرے سامنے پلی بڑھی اور شاعرہ بنی اور پھر اسے شاعرہ سے بہترین شاعرات میں شمار ہوتے دیکھا۔ اس طرح ڈاکٹر ضیاء الحسن نے بھی دیکھتے ہی دیکھتے ادبی دنیا میں اپنا مقام بنایا، لیکن سب لوگ اتنے خوش نصیب نہیں ہوتے، وہ ساری عمر ریاضت کے نام پر جھک مارتے ہیں اور جھک مارنے سے انسان مشہور نہیں بدنام ہوتا ہے، جب تھوڑی بدنامی سے ان کی تسلی نہیں ہوتی تو پھر وہ کامیاب لوگوں کے خلاف فیس بک پر اور گفتگوئوں میں جھک مارنا شروع کردیتے ہیں۔ اس کے باوجود جب وہ ’’منزل مقصود‘‘ تک نہیں پہنچتے یعنی ان کے ہدف کی نیک نامی اور ان کی بدنامی میں کوئی کمی نہیں آتی تو وہ پبلک کی توجہ حاصل کرنے کے لئے چوک میں ’’اُلٹ بازیاں‘‘ لگانے جیسی کوششیں شروع کردیتے ہیں، پھر اس کوشش میں اپنا منکا تڑوا بیٹھتے ہیں، یعنی مکمل طور پر ادبی منظر نامہ سے آئوٹ ہو جاتے ہیں۔
یہ معاملہ مگر صرف شعر و ادب کے منظر نامے ہی سے خاص نہیں، سیاست میں بھی ایسے ایکروبیٹس ملتے ہیں، کچھ توخیر اس معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہوتے، محض شغل کرتے دکھائی دیتے ہیں مثلاً کچھ عرصے سے ایک صاحب نظر نہیںآ رہے، وہ اپنی خصوصیات کچھ اس نوع کی بیان کرتے تھے کہ وہ اول درجے کے جھوٹے ہیں، کرپٹ ہیں اور لوٹے ہیں لہٰذا اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہر دور میں وہ آپ کے دو نمبر کام کرسکیں تو انہیں ووٹ دے کر قومی اسمبلی کا ممبر بنائیں کیونکہ ان خصوصیات کے حامل افراد کی مانگ ہر دور میں ہوتی ہے۔جبکہ ان دنوں ایک نشئی فیس بک پر دکھائی دیتے ہیں جو وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں وہ ایک ویڈیو کلپ میں جھومتے جھامتے فرما رہے ہیں کہ اگر وہ وزیر اعظم بن گئے تو وہ عادی نشئی افراد کو لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے نہیں دیکھ سکیں گے۔ چنانچہ وہ وزیراعظم بنتے ہی ملک بھر کے نشیؤں کو ایک ایک کلو ہیروئن فری فراہم کریں گے تاکہ وہ اس معاشرے میں عزت کی زندگی گزار سکیں۔ ایک باریش صاحب کہتے ہیں کہ قائد اعظم ان کے خواب میں آئے اور انہیں کہا کہ تم ملک کی باگ ڈور سنبھالو، میں نے یہ خواب نظر انداز کیا، دوسرے دن خواب میں قائد اعظم نے انہیں پھر یہ حکم دیا، مگر اس بار بھی انہوں نے اسے محض خواب سمجھا تاہم جب تیسری بار قائد اعظم نے غصے سے انہیں کہا تمہیں میری بات سمجھ نہیں آتی، میں تمہیں کہہ رہا ہوں کہ میں نے جو ملک بنا کر تم لوگوں کو دیا تھا وہ برباد ہو رہا ہے، اٹھو اور اس کی باگ ڈور سنبھالو، چنانچہ موصوف کہتے ہیں کہ تیسرے خواب اور قائداعظم کے سخت رویے کو دیکھ کر میں نے ارادہ کرلیا کہ میں نے بہرصورت پاکستان کا وزیراعظم بننا ہے اور میرے اس عزم کے رستے میں جو کوئی بھی آیا اسے غدار تصور کیا جائے گا۔ موصوف کا یہ بیان مجھے تو ’’غدار سازی‘‘ کی مہم کا ایک حصہ لگتا ہے چنانچہ انہیں کون بتائے کہ ان کی یہ پیش گوئی کب کی پوری ہو چکی ہے۔ ملک کے کروڑوں عوام کو پہلے ہی غداری کی سند جاری کردی گئی ہے، چنانچہ اب وہ کوئی اور الزام تراشیں! ا سی طرح لاہور کی پرانی انار کلی میں ایک شریف النفس انسان قومی اسمبلی کے انتخابات میں بطور امیدوار کھڑا ہوا، اللّٰہ جانے علاقے کے لوگ اسے ’’کرِلا‘‘ کیوں کہتے تھے؟ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ لوگوں نے شغل میلہ کے لئے انہیں بھاری تعداد میں ووٹ دیئے مگر شومئی قسمت کہ وہ کامیاب نہ ہوسکے، حالانکہ ہم لوگ مذاق مذاق میں ایسے افراد کو بھی وزیراعظم بنا دیتے ہیں جنہوں نے کبھی بلدیاتی انتخابات میں بھی حصہ نہیں لیا ہوتا۔اسی طرح کا ایک کریکٹر میرے لیکچرر شپ کے زمانے میں یونین کی صدارت کا امیدوار بنا اور کمال یہ ہے کہ یاروں نے مذاق مذاق میں اسے واقعی صدر بنا دیا!
بس ثابت ہوا کہ انسان کو کبھی اپنی اوقات نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ لوگوں کی ذہنی اوقات دیکھ کر ایسے معاملات میں فیصلہ کرنا چاہیے، اس میں کامیابی بھی ہو سکتی ہے اور ناکامی بھی۔ ناکام ہونے پر ’’بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا؟‘‘ والے مصرعے کے حوالے سے کچھ نہ کچھ تو بہرحال ملے گا۔ اور اگر آپ صدر بن جائیں یا واقعی وزیراعظم بن جائیں اور کام آپ کو آتا نہ ہو تو بھی بدنامی تو کہیں نہیں گئی ہوئی۔ باتیں ابھی کچھ اور بھی کرنا تھیں مگر ڈیڑھ بج گیا ہے اور مجھے شادی میں شرکت کرنا ہے، لہٰذا اس تھوڑے لکھے کو ’’بوتا‘‘ سمجھیں، یار زندہ صحبت باقی!
(بشکریہ:روزنامہ جنگ)
فیس بک کمینٹ

