عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

عطا ء الحق قاسمی کا کالم:ان سے ملئے !

گائے
ہم سب کو رب کا شکر ادا کرنا چاہئے اس نے ہمارے لئے کیا کچھ نہیں بنایا، مثلاًاس نے ہم سب کو گائے بنایا ! معافی چاہتا ہوں اس نے ہمارے لئے گائے بنائی ہے، گائے بہت مفید جانور ہے یہ دودھ دیتی ہے اس کے علاوہ بہت بھلی مانس بھی ہے کیونکہ جو آتا ہے اسے’’چو‘‘ کر چلا جاتا ہے ہم بھی بہت بھلے مانس ہیں گائے بھی بہت بھلی مانس ہے۔ گائے بھی مفید جانور ہے ہم بھی مفید جانور ہیں ہمیں بھی جو آتا ہے ’’چو‘‘ کر چلا جاتا ہے ؟
بکری
ہم سب کو رب کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئے جس نے ہمارے لئے بکری بنائی ہے، بکری دودھ دیتی ہے مینگنیں بھی دیتی ہے کئی دفعہ دودھ میں مینگنیں بھی ہوتی ہیں ہم بھی دودھ میں بہت کچھ ملا کر دیتے ہیں بکری درختوں کے پتے کھا کر خدا کا شکر ادا کرتی ہے ان دنوں ہماری حکومت ایک ارب درخت لگانے کا پروگرام بنا رہی ہے جس کے پتے بائیس کروڑ عوام کے لئے کافی ہوں گے ۔ بکری مکان بنا کر نہیں رہتی بکری کو مکان کی ضرورت نہیں ہوتی ہمیں بھی مکان کی ضرورت نہیں ،قبر سے اچھا مکان کوئی نہیں ،نہ وہاں بجلی جاتی ہے نہ گیس کا مسئلہ ہے نہ پٹرول کی بڑھتی قیمتوں سے قبر میں لیٹے انسانوں کو کوئی فرق پڑتا ہے چنانچہ عوام کو مکان کی فکر نہیں کرنا چاہئے بکری خدا کی بخشی ہوئی پوشاک پر گزارہ کرتی ہے ہمیں بھی روٹی ،کپڑا، مکان کی فکر نہیں کرنا چاہئے ہماری کھال ہی ہمارا لباس ہے ہمیں پتوں پر گزارہ کرنا چاہئے جب زیادہ بھوک لگے ہمیں زیادہ پتے کھا لینے چاہئیں قبروں کی صورت میں بنے بنائے مکان موجود ہیں بکری بہت صابر ہوتی ہے چنانچہ اس کی زندگی ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔
بلی
ہم سب کو رب کا شکر ادا کرنا چاہئے جس نے بلی بنائی اسے ہم گود میں لے کر پیار کرتے ہیں بلی چوہے کھاتی ہے مگر پیار کے رستے میں کوئی چیز حائل نہیں ہوتی بلی کی مونچھیں بہت لمبی ہوتی ہیں مگر یہ مونچھیں تائو دینے کے لئے نہیں ہیں ،چنانچہ وہ انہیں اکثر نیچا ہی رکھتی ہے ۔ بلی کی دم بھی بہت لمبی ہے جو وہ بوقت ضرورت ہلاتی اور پاؤں سے لپٹنے لگتی ہے ہمارے پاس اگر مونچھ ہے تو کبھی بھول کر بھی اسے تاؤ نہ دیں بلکہ کوشش کریں کہ کسی طرح ہماری دم بھی نکل آئے کہ بوقت ضرورت بڑے لوگوں کی طرح ہم بھی دم ہلاتے اور کسی کے پاؤں سے لپٹنے کے قابل ہو سکیں ۔
اونٹ
ہم سب کو خدا کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئے جس نے ہمارے لئے اونٹ بنایا ،اونٹ کی بہت قدرو قیمت ہے کیونکہ اس کی کوئی کل سیدھی نہیں ہوتی ان دنوں ترقی کے لئے کل کا سیدھا نہ ہونا بہت ضروری ہے اونٹ کئی روز تک بغیر کھائے پیئے رہ سکتا ہے موجودہ حالات میں ہمیں اس کی پیروی کرنا چاہئے ۔ اونٹ کی سواری بہت لذیذہوتی ہے تاہم اس پر ڈبل سواری کی پابندی ہونا چاہئے، اونٹ پر بیٹھا شخص خود کو بلند قامت سمجھنے لگتا ہے ان دنوں بہت سے بونے اونٹوں پر سوار ہیں اللہ کی قدرت ہے !
گھوڑا
ہم سب کو اللّٰہ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئے جس نے ہمارے لئے گھوڑا بنایا یہ میلوں دوڑتا ہے مگر اس کا سانس نہیں پھولتا کیونکہ یہ سگریٹ نہیں پیتا جنگلوں میں رہنے والے گھوڑے آزاد فضا میں رہتے ہیں ان پر کوئی سواری نہیں کر سکتا جبکہ شہروں کے گھوڑوں پر جو چاہے پلاکی مار کر ان پر سوار ہو سکتا ہے، تاہم ہمارے حکمرانوں کا کہنا ہے کہ اس سے ان کی آزادی اور خود مختاری پر کوئی حرف نہیں آتا ہم میں اور گھوڑے میں کچھ مماثلتیں بھی ہیں مثلا وہ دال کھاتا ہے، اسے بھی اس وجہ سے گیس کی شکایت رہتی ہے ہمیں بھی سردیوں میں ’’گیس‘‘ کی شکایت رہتی ہے چنانچہ ہماری سردیاں اور ہمارے چولہے گیس کی راہ دیکھتے رہتے ہیں گھوڑا ان کا غلام نہیں ہوتا اسے محنت میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی چنانچہ اس کی شرافت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے تانگے میں جوت دیا جاتا ہے ۔ویسے تو ہم بھی تانگے میں جتے ہوئے گھوڑے ہیں مگر خود کو گھوڑا نہیں اشرف المخلوقات کہتے ہیں ۔
گدھا
ہم سب کو رب کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئے جس نے ہمیں گدھا بنایا معاف کیجئے جس نے ہمارے لئے گدھا بنایا گدھا بہت محنتی جانور ہے مالک سے مار بھی کھاتا ہے مالک اسے کیوں نہ مارے وہ بھی تو گدھے جیسی زندگی بسر کر رہا ہوتا ہے۔ چنانچہ کئی دفعہ گدھے اور مالک کی پہچان مشکل ہو جاتی ہے کیونکہ دونوں کی شکلیں آہستہ آہستہ ایک جیسی ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker