عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

عطا ء الحق قاسمی کا کالم:ایک بدذوق ماتحت

میرے قریبی دوست جانتے ہیں کہ میں لباس کے معاملے میں کمپرومائز کا قائل نہیں ہوں، چنانچہ میری خوش لباسی کی دھومیں چار دآنگ عالم میں ہیں۔ ٹھیک ہے پیسے تو بہت خرچ ہوتے ہیں، مگر آٹھ دس لاکھ روپے لباس پر خرچ کرنا میرے لیے چنداں مشکل کام نہیں، میں نے جب لباس خریدنا ہوتا ہےمجھے بیرون ملک سفر کرناپڑتا ہے، ایک تو اس لیے کہ میرے پسندیدہ برانڈ یہاں کم کم ملتے ہیں، زیادہ تر شاپس کے ہاں تو دستیاب ہی نہیں ہوتے اور اگرہوں بھی تو اس میں دو نمبری کا امکان ہوتا ہے، چنانچہ میں گزشتہ روز دبئی سے اپنے ملبوسات کی خریداری کے بعد واپس لوٹا ہوں،وہاں بھی اپنے لیے سوٹ خریدنے کی خاطر مجھے سب سے بڑے مال کا چکر گانا پڑا، سوٹ کے اچھے اچھے برانڈ موجود تھے مگر ذاتی طور پر ارمانی قدرے بہتر لگتا ہے، یہاں بھی مجھے اپنی پسند کے صرف تین شیڈز مل سکے۔ شرٹ مجھے کارل لاگر فیلڈ (KARL LAGERELD) کی پسند ہے۔ اور شوز میں بوڈاپیسٹ میرے فیورٹ ہیں۔ شکر ہے یہ سبھی کچھ ایک ہی مال میں مل گئے۔ خریداری کے بعد جب میں واپس آنے کا سوچ رہا تھا، مجھے ہوگو باس کا سوٹ بھی نظر آیا، میں نے یہ بھی خرید لیا۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ میں مہنگے برانڈ کے ملبوسات خریدنے بیرونِ ملک گیا یا کسی پبلشرز ٹرپ کے دوران خریداری کرلی بلکہ یہ میری روٹین ہے، میں ان باتوں کا ذکر اپنے کالم میں ہرگز نہ کرتا کہ مجھے یہ چھچھورا پن لگتا ہے، مگر یہ ذکر کچھ چھچھورے لوگوں ہی کی وجہ سے کرنا پڑ رہا ہے، ایک بار میں لاہور ریلوے اسٹیشن سے واک کرتا ہوا دور تک نکل آیا، بس اس دن میرا واک کا موڈ تھا، چلتے چلتے میں ایک ایسے بازار میں آگیا جہاں ریڑھیوں میں اور دکانوں میں بے شمار ملبوسات دھرے تھے۔ میں نے تجسس کی بنیاد پر وہ دیکھنے شروع کر دیے۔ وہاں میری ملاقات ایک شناسا سے ہوگئی، اس نے مجھے دیکھا تو کہا ’’آپ اچھا کرتے ہیں لنڈا بازار سے کپڑے خریدتے ہیں، البتہ گھر لے جاکر یہ ڈرائی کلین ضرور کروا لیا کریں۔ ممکن ہے یہ کسی کھرک کے مارے انگریز کی اترن ہوں‘‘۔ میں نے اسے گھور کر دیکھا اور کہا ’’آپ اگرمیرے جاننے والے نہ ہوتے تو میں آپ کی اس بدگمانی کو کبھی معاف نہ کرتا، میں تو ادھر سے گزر رہا تھا اور یہ تماشا دیکھنے کھڑا ہوگیا‘‘۔یہ سن کر اس نے میری باوقار شخصیت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کہا ’’جناب آپ نے مجھے اگر یہاں دیکھ ہی لیا ہےتو یقین جانیں میں بھی ادھرسے یوں ہی گزر رہا تھا، لوگوں کا ہجوم اور کپڑوں کے ڈھیر دیکھےتو رک گیا۔ آپ کو میرے بارے میں حسنِ ظن سے کام لینا چاہیے تھا‘‘۔
مجھے پتہ ہے وہ ’’غلط العام‘‘ قسم کا انسان مجھے بھی اپنے جیسا ہی سمجھ رہاتھا اور اپنی صفائی پیش نہیں کر رہا تھا، بلکہ مجھ پر طنز کرکے اپنی کمینی حس کی تسکین میں مشغول تھا۔ میں نے یہ واقعہ اس لیے بیان کیا کہ انسان کو پتہ ہوتا ہے کہ جہاں وہ کھڑا ہے وہ میری کلاس کے لوگوں کو زیبا نہیں ہوتی، ممکن ہے ایسا پہلے بھی ہوا ہو اور متعدد بار ہوا ہو، چنانچہ میرے ایک عزیز دوست نے بتایا کہ تمہارے حاسد بہت زیادہ ہیں تم امپورٹڈ کپڑے نہ پہنا کرو، کیونکہ جن لوگوں کے نصیب میں یہ قیمتی ملبوسات نہیں وہ انہیں لنڈے کا مال سمجھتے ہیں۔ ابھی کل ہی ایک چول قسم کا آدمی کہہ رہا تھا کہ قاسمی صاحب اس بازار سے چن کر مال لیتے ہیں، اس میں کمال کی بات یہ ہوتی ہے کہ وہ کپڑے انہیں بالکل فٹ ہوتے ہیں، لگتا ہی نہیں لنڈے سے خریدے گئےہیں۔ میں نے پوچھا کہ پھر اس کی بکواس کے جواب میں تم نے اسے کیا کہا۔بولا میں نے اس کے منہ لگنا مناسب نہ سمجھا، بس اتنا کہا ،اللہ بہتر جانتا ہے، مجھے تو کبھی ساتھ لے کر نہیں گئے۔ افسوس صد افسوس میں جسے اپنا عزیز دوست سمجھتا تھا وہ کیا نکلا:
دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی
ایسا میرے ساتھ ایک بار پہلے بھی ہوا تھا، میں ایک دن ارمانی کا سوٹ پہن کر اپنے دفتر گیا تو میرے عملے کے ایک ایک فرد نے اس سوٹ کے مختلف پہلوؤں کی تعریف کی، جب سب تعریف کر چکے تو ان میں سے ایک جو تعریف میں سب سے پیچھے رہ گیا تھا، اس نے ایک نظر مجھ پر اور ایک سوٹ پر ڈالی اور کہا ’’سر سب سے زیادہ تعریف کی بات تو یہ ہے کہ یہ آپ کوبالکل فٹِ ہے اور ایسا بہت کم ہوتا ہے‘‘۔
اب آپ بتلائیں میں نے بادل نخواستہ اپنی خوش لباسی کا جو تذکرہ کیا تھا کیا مفاد عامہ کے لیے یہ ضروری نہیں تھا کہ سب حاسدوں کو حقیقت حال بتاتا؟بہرحال انسان کا پتہ ایسے ہی مواقع پر چلتا ہے’’انسان کو چاہیے کہ وہ ہر طرح کا دوست بنا لے، کسی ایسے بدذوق کو دوست نہ بنائے جس کا دعویٰ ہو کہ اسے اصل اور نقل کی پہچان ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker