ایاز امیرکالملکھاری

دنیا کو تھوڑا آہستہ ہونے کی ضرورت تھی۔۔نقطہ نظر/ایازامیر

اس میں تو اب کوئی دو آرا نہیں ہونی چاہئیں کہ انسان دھرتی پہ بوجھ بن چکا ہے۔ ایک تو ہماری تعداد بہت ہو گئی ہے۔ پھر جو ترقی کا ماڈل ساری دنیا میں رائج ہے اس کو کرۂ ارض پتا نہیں کب تک برداشت کر سکے گا۔ کتنا دھواں ہوا میں پھینکا جا سکتا ہے؟ سمندروں کی کتنی تباہی کی جا سکتی ہے؟ ماحول کو کتنا آلودہ کیا جا سکتا ہے؟
کورونا وائرس نے زبردستی وہ کر دیا ہے جو انسانوں کو خود کرنا چاہیے تھا۔ یعنی ماڈرن طرزِ زندگی میں کچھ رکاوٹ آئے۔ اب جو ہو رہا ہے مجبوری کے تحت ہو رہا ہے۔ ہوائی سفر کو لے لیجیے۔ کچھ زیادہ ہی ہو گیا تھا۔ اب تو یہ بات عام سمجھ میں آ چکی ہے کہ ہوائی جہازوں کی بے دریغ آمدورفت ماحولیات کیلئے تباہ کن اثرات رکھتی ہے‘ لیکن ائیر پورٹ بنتے جا رہے ہیں، بڑے سے بڑے ہوائی جہاز تیار ہو رہے ہیں اور ائیر سفر کی بڑھوتری ترقی کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔ کورونا وائرس کی وبا نے ایسے بہت سارے خیالات کو ملیامیٹ کر دیا ہے۔
ٹورازم کو لے لیجیے۔ سیر سپاٹا اچھی چیز ہے لیکن ٹورازم بھی ان حدوں کو چھو چکا ہے کہ یہ بھی ایک بیماری بن گئی ہے۔ لوگوں کا آنا جانا اچھا ہے لیکن ایک حد سے بڑھ جائے تو تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ ہمارے شمالی علاقوں کو دیکھ لیجیے۔ کوہ پیمائی اچھی چیز ہے لیکن جو کوہ پیما آتے ہیں اتنا گند چھوڑ جاتے ہیں کہ پہاڑوں کی خوبصورتی متاثر ہونے لگتی ہے۔ ہر چیز ایک حد میں رہے تو بہتر ہے۔ یہ قدرت کا بھی قانون ہے کہ چیزیں ایک میزان یا بیلنس میں رہیں۔ بیلنس خراب ہو جائے تو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ یہی کچھ ہم نے اپنی دنیا کے ساتھ کر دیا ہے۔ انسانی سرگرمیوں سے زمین اور ماحول کا بیلنس غیر متوازن ہو چکا ہے۔ موسم کا تغیّر اسی کا نتیجہ ہے۔ ہمارے سامنے موسم بدل رہے ہیں لیکن جس تیزی سے اس امر کی ہمیں سمجھ آنی چاہیے وہ نہیں ہو رہی۔ ہاں، مغربی دنیا میں احساس پیدا ہو چکا ہے کہ پٹرول، گیس اور کوئلے کے استعمال سے پیدا ہونے والا دھواں آسمانوں کیلئے اچھا نہیں لیکن جس تیزی سے ترقی کا ماڈل تبدیل ہونا چاہیے ایسا نہیں ہو رہا۔ کوئلہ اب بھی استعمال ہو رہا ہے اور گو بیٹری پہ چلنے والی گاڑیوں پر بہت تحقیق اورکام شروع ہو چکا ہے لیکن پھر بھی آسمانوں کی فضا آلودہ ہوتی جا رہی ہے۔
سمندروں کا ہم نے کیا حال کر دیا ہے۔ جتنا کرۂ ارض برداشت نہیں کر سکتا اتنی ماہی گیری بدستور جاری ہے۔ ہر چیز انڈسٹریلائزڈ ہو رہی ہے، زراعت بھی، ماہی گیری بھی۔ ہر وسیلے کو انسان over-exploit کر رہا ہے۔ انسانی ایکٹیویٹی نے سمندروں اور دریاؤں کو گندا کر دیا ہے۔ اور ہمارا جو عشق پلاسٹک کی مصنوعات سے ہے اُس سے تباہی تو پھیل چکی ہے لیکن آبی ذخائر پر اس کا بہت ہی برُا اثر ہوا ہے۔ کسی نہ کسی شکل میں پلاسٹک وہیل مچھلیوں سے لے کر عام مچھلیوں تک کے پیٹ میں جا رہا ہے۔ پلاسٹک اب کھانے کی زنجیر یا جسے food-chain کہتے ہیں کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود جو پابندی پلاسٹک پہ لگنی چاہیے وہ نہیں ہو پا رہی۔ اس لحاظ سے پاکستان کا تو بُرا حال ہے۔ تباہی کے آثار اور مناظر ہمارے سامنے ہیں لیکن جو ہمیں کرنا چاہیے وہ ہم نہیں کر پا رہے۔ جن کو فیصلہ کرنا ہے اُن کی آنکھیں بند ہیں اور قوتِ فیصلہ سے وہ یکسر محروم ہیں۔
میں تو کہوں گا‘ یہ بیماری قدرت کی طرف سے وارننگ ہے۔ بنی نوع انسان کو وارننگ ہے کہ اپنی رفتار تھوڑا دھیرے کرو۔ ہم نے ویسے نہیں سمجھنا تھا لیکن کورونا وائرس نے کیا کچھ کر دیا ہے۔ کبھی یہ تصور بھی کیا جا سکتا تھا کہ اٹلی کے شہر بند ہو جائیں گے؟ وہاں سے ٹورسٹ غائب ہو جائیں گے؟ انڈسٹری کے لحاظ سے اٹلی کے شہروں میں میلان سب سے آگے ہے اور وہ مکمل بند ہو چکا ہے۔ کھلی ہیں تو صرف ادویات کی دکانیں۔ یہ بات قابلِ تصور تھی کہ کوئی امریکی صدر یورپ سے ہوائی سفر پہ پابندی لگا دے گا؟ جمعہ کے اجتماعات ایران میں بند کر دئیے گئے ہیں۔ سعودی عرب نے عمرہ پہ وقتی پابندی لگا دی ہے۔ دنیا کا کاروبار متاثر ہو چکا ہے۔ سٹاک مارکیٹیں گری ہیں۔ اتنا فوری اثر تو شاید جنگ عظیم دوئم کا نہ ہوا ہو۔ فوری طور پہ یورپ اُس جنگ عظیم سے متاثر ہوا تھا۔ باقی دنیا نارمل زندگی گزار رہی تھی۔ لیکن کورونا وائرس نے آنکھ جھپکنے میں دنیا کے بیشتر حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ کسی کو کوئی معلوم نہیں کہ یہ وبا کہاں جا کے تھمے گی اور اس کے اثرات کہاں ختم ہوں گے۔
جن ممالک میں وبا کا اثر زیادہ ہے جیسا کہ ایران یا اٹلی‘ وہاں کے لوگوں کو کہا جا رہا ہے کہ وہ گھروں میں رہیں اور وہیں سے کام کریں۔ کئی ممالک ہیں جہاں ایمرجنسی کی حالت کا اعلان ہو چکا ہے۔ امریکا میں تنقید ہے کہ حکومت کو جتنی تیاری کرنی چاہیے تھی وہ نہیں ہوئی۔ لیکن اس کے ساتھ ایک بات ماننا پڑے گی کہ اگر اس بیماری کے علاج پہ کہیں کام ہو رہا ہے وہ چین ہے یا مغربی دنیا۔ جو نامور ریسرچ انسٹیٹیوٹ ہیں وہاں ڈاکٹر اور ریسرچر سر جوڑ کے دھڑادھڑ کام کر رہے ہیں کہ اس وائرس کیلئے جلد کوئی ویکسین دریافت ہو جائے۔ اگر کہیں دریافت ہوئی تو وہیں ہو گی۔ ہمارا اس میں حصہ کچھ نہ ہو گا۔ جب ایڈز کی بیماری دنیا میں سامنے آئی تھی تب بھی وسیع پیمانے پہ خوف نے دلوں کو گھیر لیا تھا‘ لیکن اس بیماری پہ پھر کام بھی بہت ہوا اور اگر آج ایڈز کی وہ شدت نہیں رہی جو ایک زمانے میں تھی تو یہ اُن ریسرچرز کا کمال ہے جنہوں نے مناسب ادویات کیلئے تحقیق کی۔ جیسے عرض کیا‘ کورونا وائرس پہ بھی بہت کام ہو رہا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ مناسب ویکسین دریافت کرلی جائے گی۔ لیکن اس بات سے تو انکار ممکن نہیں کہ اس بیماری سے پوری دنیا ہل کے رہ گئی ہے اور ایک خوف کی فضا پیدا ہو چکی ہے۔ پاکستان میں اب تک اس بیماری کی سنگینی کا ادراک نہیں ہوا۔ اس حوالے سے ایمرجنسی کا نفاذ ضروری ہے۔ ہم تو ویسے ہی توّکل سے کام چلاتے ہیں۔ خدا نہ کرے کہ ایران جیسی صورتحال یہاں پیدا ہو، نہیں تو ہمارے صحتِ عامہ کے نظام کیلئے مسائل پیدا ہو جائیں گے۔
مجھ جیسے لوگ ایک لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ ہم ویسے ہی گھر سے کام کرتے ہیں‘ یعنی کسی دفتر میں حاضری نہیں دینا پڑتی۔ کام کے اوقات بھی مرضی کے ہوتے ہیں۔ کالم لکھا اپنی مرضی سے۔ ملنا ملانا بھی زیادہ نہیں۔ زبردستی کی ملاقات تو تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ بس جس سے دل چاہے مل لیا اور کچھ گپ شپ کر لی۔ پھر کچھ موسیقی سُن لیتے ہیں، کچھ پڑھائی ہو جاتی ہے اور کچھ ہلکی پھلکی ورزش۔ گھمنڈ میں نہیں آنا چاہیے لیکن اپنی مرضی کی زندگی گزارنا بڑی نعمت ہے۔ پھر بھی اس بیماری کا ڈر تھوڑا تھوڑا دل میں آ چکا ہے۔ کہیں وبا پھیل نہ جائے، کاروبار مزید تباہ نہ ہوں۔ عام زندگی زیادہ متاثر نہ ہو۔ احتیاطی تدابیر کیا ہیں؟ فضول کے سفر سے اجتناب کرنا چاہیے۔ جہاں رش ہو وہاں سے تو پناہ مانگنی چاہیے۔ اور ظاہر ہے صفائی کا خیال رکھنا چاہیے۔ بات صرف ہاتھ دھونے کی نہیں، مجموعی صفائی کی ہے۔ اس لحاظ سے اب ساری حکومتوں کو یعنی وفاقی اور صوبائی کو پلاسٹک شاپروں پہ فوری پابندی لگانی چاہیے۔ اس فیصلے میں کوئی دیر اور اس کے عملدرآمد میں کوئی ڈھیل نہ ہو۔ یقینا پلاسٹک شاپروں کے استعمال میں کمی آئی ہے لیکن اس لعنت کو جڑ سے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ جہاں دیکھیں ان شاپروں کا ڈھیر لگا ہوتا ہے۔ پابندی سے آدھا صفائی کا مسئلہ ختم ہو جائے۔ لیکن معلوم نہیں کیا وجہ ہے ہماری حکومتیں ایسا فیصلہ کرنے سے عاری ہیں۔
نیشنل سکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ کورونا وائرس کے حوالے سے آخر کار بلا ہی لی گئی۔ دیر آید درست آید۔ وزیر اعظم اس حوالے سے منظر سے غائب رہے ہیں۔ لیکن غفلت کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ متاثرہ مریض تھوڑے ہوں گے لیکن ہماری تیاری جتنی بھرپور ہو سکے ہونی چاہیے۔ یہ آفت قدرت کی طرف سے آئی ہے لیکن اس کا مقابلہ ہم ہی نے کرنا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker