باجوڑ : جب ہم ملبے تلے سے لوگوں کو نکال رہے تھے، اُس وقت بھی چیک پوسٹ پر فائرنگ ہو رہی تھی جس پر وہاں موجود اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی۔ اور جب ایمبولینس اور گاڑیوں پر زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا اُس وقت بھی فائرنگ ہوئی۔‘
یہ کہنا ہے ایک عینی شاہد کا جو پیر کی شام صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں واقع ایف سی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ چیک پوسٹ پر ہونے والے دھماکے کے بعد وہاں مدد کے لیے پہنچے تھے۔ علاقے کی صورتحال کے پیشِ نظر انھوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔
ان کے مطابق عشا کی نماز کے بعد علاقے میں دھماکے کی زوردار آواز سُنی گئی اور انھیں ایسا محسوس ہوا کہ جیسے یہ دھماکہ بالکل اُن کے قرب و جوار میں ہوا ہے۔ ’کم و بیش یہی حالات اِس علاقے کے ہر گھر کے تھے، جہاں لوگوں کو محسوس ہوا کہ جیسے زوردار دھماکہ اُن کے مکان کے آس پاس ہی ہوا ہے۔‘
منگل کی دوپہر پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا کہ اس حملے کے نتیجے میں 11 سکیورٹی اہلکار اور ایک بچی ہلاک ہوئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سوموار کے روز شرپسندوں نے ضلع باجوڑ میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک مشترکہ چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔ بیان کے مطابق شدت پسندوں نے دھماکہ خیز سے لدی ایک گاڑی چیک پوسٹ سے ٹکرا دی جس کے نتیجے میں چیک پوسٹ کی عمارت منہدم ہو گئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، دھماکے کے نتیجے میں قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا جس کے باعث ایک بچی ہلاک جبکہ سات شہری زخمی ہوئے۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں نے اس موقع پر جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں 12 شدت پسند بھی ہلاک ہوئے۔
اس واقعے کے بعد سے ضلع باجوڑ میں خوف کی سی صورتحال ہے اور مقامی افراد کے مطابق سکیورٹی فروسز نے لوے ماموند کے علاقے میں دھماکے کے مقام کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور کسی کو جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔
علاقہ مکینوں نے بتایا ہے کہ صبح سویرے فضا میں ہیلی کاپٹرز بھی دکھائی دیے، جس کے بعد لاشوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ تاحال کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
تحصیل ناواگئی کے چیئر مین ڈاکٹر خلیل الرحمان نے بتایا کہ کل رات وہ اپنے حجرے میں موجود تھے کہ اچانک حجرے کا دروازہ زوردار دھماکے کے نتیجے میں کُھل گیا، ’کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ ہمارا حجرہ اس دھماکے کے مقام سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ انھیں قریبی علاقوں سے فون آئے کہ اُن کے گھر کے قریب دھماکہ ہوا ہے، قریب گاؤں سے بھی اس طرح کی اطلاعات موصول ہو رہی تھیں مگر یہ معلوم نہیں ہو رہا تھا کہ کیا ہوا۔
ڈاکٹر خلیل الرحمان کے مطابق وہ اطلاعات ملنے کے بعد متاثرہ چیک پوسٹ پر گئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ اس چیک پوسٹ کے قریب واقع رہائشی مکانات کو بھی دھماکے کے نتیجے میں نقصان پہنچا ہے اور چند شہری زخمی ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر خلیل الرحمان کا کہنا تھا کہ جب زخمیوں کو ایمبولینس میں لے جایا جا رہا تھا، اس وقت بھی نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس پر فورسز کی جانب سے جوابی کاررائیاں کی گئیں۔
ایک عینی شاہد نے واقعے اور اس کے بعد کی جانے والی ریسکیو کارروائیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ منہدم ہونے والی چیک پوسٹ ایک دو منزلہ عمارت تھی۔
انھوں نے بتایا کہ دھماکے کے بعد مقامی مساجد سے اعلان کروا کر مقامی لوگوں کی اطلاع دی گئی اور کہا گیا کہ وہ ملبے تلے پھنسے افراد کو نکالنے میں مدد کے لیے موقع پر پہنچیں۔
مقامی افراد کے مطابق یہ عمارت ماضی میں ایک دینی مدرسے کے طور پر بھی زیر استعمال رہی ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

