اہم خبریںبلوچستان

ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملے: پنجگور میں کارروائی جاری، 15 حملہ آوروں اور چار فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق

اسلام آباد : وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے پاکستان کے صوبے بلوچستان کے دو مختلف علاقوں، نوشکی اور پنجگور میں ایف سی کے ہیڈکوارٹرز پر شدت پسندوں کی جانب سے کیے گئے حملوں کے نتیجے میں اب تک چار فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے جبکہ ان کا کہنا ہے کہ پنجگور میں اب بھی آپریشن جاری ہے اور چند حملہ آور سکیورٹی فورسز کے حصار میں ہیں۔
اپنے ایک ویڈیو بیان میں وزیر داخلہ نے بتایا کہ گذشتہ رات دیر گئے دہشت گردوں نے نوشکی اور پنجگور میں بڑا حملہ کیا جسے سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’نوشکی میں نو دہشت گرد مارے گئے ہیں جبکہ فوج کے چار جوان شہید ہوئے ہیں جبکہ پنجگور میں چھ دہشت گرد مارے گئے۔‘
شیخ رشید کے مطابق پنجگور اور نوشکی، دونوں جگہ سے دہشت گردوں کو باہر دھکیل دیا گیا اور فوج نے اپنی روایات زندہ رکھیں۔ ’تھوڑے سے چار یا پانچ دہشت گرد، پنجگور میں سکیورٹی فورسز کے گھیرے میں ہیں جس کو فوج شکست فاش دے گی۔‘دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم بلوچستان کے علاقوں، پنجگور اور نوشکی میں قائم فوجی کیمپوں پر دہشتگردوں کے حملے پسپا کرنے والے اپنے جری جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔‘
ٹوئٹر پر جاری کردہ اپنے پیغام میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پوری قوم اپنی افواج کی پشت پر متحد اور یکجا کھڑی ہے جو ہمارے حفظ و دفاع کے لیے پیہم عظیم قربانیاں پیش کر رہی ہیں۔یاد رہے کہ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے گذشتہ شب جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا تھا کہ پنجگور میں دہشت گردوں نے دو مقامات سے ایف سی کے دفتر میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن بروقت کارروائی سے انھیں ناکام بنا دیا گیا تھا۔
حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے جاری کیے گئے پیغام کے مطابق تنظیم کے مجید بریگیڈ کی جانب سے دعوی کیا گیا کہ پنجگور اور نوشکی میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں ان کے دو حملہ آوروں کی ہلاکت ہوئی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز کسی بھی قسم کی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے میں سکیورٹی فورسز کے عزم اور حوصلہ ناقابل شکست ہے اور دہشت گرد اپنے عزائم میں کسی صورت کامیاب نہیں ہو سکتے۔
بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے بدھ کی شب بی بی سی کو بتایا کہ پنجگور میں دھماکہ فرنٹیئر کور کے کیمپ کے قریب ہوا تھا، جس میں چھ اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ نوشکی میں دھماکے کے بعد آپریشن کلین اپ کا سلسلہ جاری ہے جس کے مکمل ہونے کے بعد جانی نقصانات کے بارے میں بتایا جا سکے گا۔

میر ضیا اللہ نے ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے سکیورٹی فورسز کے اہلکار دہشت گردی کے سامنے سینہ سپر ہیں اور دہشت گردوں کے تمام عزائم کو ناکام بنایا جائے گا۔یاد رہے کہ محض چند روز قبل بلوچستان کے علاقے کیچ میں 25 اور 26 جنوری کی درمیانی شب شدت پسندوں کے حملے میں 10 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
آئی ایس پی آر نے حملے کے دو روز بعد اپنی بیان میں تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پاکستان فوج کے 10 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ جوابی کارروائی میں ایک شدت پسند ہلاک ہوا ہے۔اس حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کی تھی۔
نوشکی میں ایف سی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کی فرحت جاوید کو بتایا کہ ’دہشت گرد کیمپ کے اندر داخل نہیں ہو سکے اور گیٹ پر موجود گارڈز نے متعدد حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا تھا جن کی لاشیں ایف سی گیٹ پر بکھری پڑی ہیں۔‘

نوشکی میں پولیس کے ایک اہلکار نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ کلی شریف خان روڈ کی جانب سے فرنٹیئر کور کے مین گیٹ پر زوردار دھماکے کی آواز سنائی دی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس نے قریب میں واقع پولیس سٹیشن، سول ہسپتال اور ڈپٹی کمشنر کے دفتر کی عمارتوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔پولیس اہلکار نے بتایا تھا کہ دھماکے کے بعد شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا جو دیر تک جاری رہا۔ان کا کہنا تھا کہ ایف سی کے ہیڈ کوارٹر سے فائرنگ کی آوازیں بھی آنے لگیں اور یوں محسوس ہوا کہ زوردار دھماکے کے بعد ایف سی کے ہیڈ کوارٹر پر کوئی حملہ ہوا ہے یا پھر ایف سی کے اہلکاروں نے اپنے دفاع کے لیے فائرنگ کا سلسلہ شروع کیا ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker