موجودہ انسانی سماج ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں معاشی دباؤ ، ذہنی تناؤ ، غیر فطری طرزِ زندگی، پراسیسڈ خوراک، نیند کی کمی، سماجی تنہائی اور مسلسل غیر یقینی کیفیت انسانی جسم اور ذہن دونوں پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ جدید حیاتیاتی سائنس، خصوصاً ’’ ایپی جینیات ‘‘ ، یہ ظاہر کرتی ہے کہ ماحول صرف انسان کے رویّوں ہی کو نہیں بلکہ جینز کے اظہار کو بھی متاثر کرتا ہے۔ یعنی جینز کی اصل ساخت تبدیل ہوئے بغیر یہ طے ہو سکتا ہے کہ کون سے جینز فعال ہوں اور کون سے غیر فعال۔ مسلسل تناؤ، ناقص خوراک، آلودگی، جنگی ماحول اور بے ترتیب زندگی انسانی اعصابی نظام، ہارمونز اورانسان کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں، اور ان کے بعض اثرات تو آئندہ نسلوں تک منتقل ہونے کےقوی امکانات بھی پائے جاتے ہیں۔
آج کا سرمایہ دارانہ اور منافع پر مبنی نظام انسان کو ایک مستقل ذہنی دباؤ میں رکھتا ہے۔ بے روزگاری، مہنگائی، عدم تحفظ، مقابلے کی اندھی دوڑ، سوشل میڈیا کی نفسیاتی یلغار اور صارفیت پر مبنی ثقافت انسان کو جسمانی اور ذہنی طور پر کمزور کر رہی ہے۔ انسان کی توجہ منتشر ہو رہی ہے، نیند کم ہو رہی ہے، تعلقات کمزور پڑ رہے ہیں اور فوری لذت کی نفسیات بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ تمام عوامل نہ صرف بیماریوں بلکہ سماجی بے چینی، اضطراب اور نشے جیسے رجحانات کو بھی فروغ دیتے ہیں۔
مستقبل کا انسان شاید جسمانی طور پر کم متحرک مگر مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل نظاموں پر زیادہ انحصار کرنے والا ہو۔ اگر موجودہ رجحانات اسی شدت سے جاری رہے تو انسانی صحت، ذہنی توازن اور سماجی رشتوں میں مزید کمزوری پیدا ہو سکتی ہے۔ تاہم انسان میں خود کو بدلنے اور بہتر نظام تشکیل دینے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسئلے کا حل صرف طبی یا حیاتیاتی نہیں بلکہ سماجی اور معاشی بھی ہے۔
ایک ایسا منصوبہ بند سماجی نظام، جہاں معیشت کا مقصد صرف منافع کے بجائے انسانی فلاح ہو، اس بحران کے اثرات کو کم کر سکتا ہے۔ لیکن یہ منصوبہ بندی سخت گیر بیوروکریسی کے ذریعے نہیں بلکہ مقامی انسانی انجمنوں، اجتماعی مشاورت، سماجی شرکت اور عوامی فلاح کے اصولوں پر مبنی ہونی چاہیے۔ ایسا نظام صحت مند خوراک، مناسب اوقاتِ کار، ذہنی سکون، سماجی تحفظ، معیاری تعلیم، جسمانی سرگرمی اور انسانی وقار کو ترجیح دے سکتا ہے۔ اگر انسان اپنی معاشی اور سماجی ساخت کو انسانی ضرورتوں کے مطابق ڈھال لے تو سائنس اور ٹیکنالوجی انسان کو کمزور بنانے کے بجائے ایک زیادہ متوازن، باشعور اور صحت مند مستقبل کی طرف بھی لے جا سکتی ہیں۔
آخرکار، موجودہ عالمی بحران صرف معیشت یا سیاست کا بحران نہیں بلکہ انسانی بقا، ذہنی توازن اور تہذیبی سمت کا بحران بنتا جا رہا ہے۔ اسی لیے مستقبل کے نئے سیاسی و سماجی نقشے کا بنیادی خاکہ ایک ایسے انسانی برابری کے نظام میں پوشیدہ دکھائی دیتا ہے جو جبر، مرکزیت اور بیوروکریسی کے بجائے انسانی انجمنوں، سماجی شراکت، سائنسی منصوبہ بندی اور اجتماعی فلاح پر قائم ہو۔ ایک ایسا نظام جہاں انسان منافع کی مشین نہیں بلکہ سماج کا مرکزی مقصد ہو۔ یہی وہ سمت ہے جس کی ابتدائی فکری بنیاد مشہور معیشت دان اور فلسفی کارل مارکس نے انسانی سماج کے تجزیے اور سرمایہ دارانہ نظام کی تنقید کے ذریعے پیش کی تھی۔
فیس بک کمینٹ

