محترم جبار مرزا کا نام ادب اور صحافت میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ کتاب دوستی کے حوالے سے بھی ان کی خدمات کا سبھی اعتراف کرتے ہیں۔قلم فاؤنڈیشن کے روح رواں عبدالستار عاصم صاحب نے ان کی کتاب ” مزاح نگاروں کا کمانڈر انچیف ۔سید ضمیر جعفری” ہمیں اپریل میں ارسال کی تھی۔
یہ کتاب سید ضمیر جعفری کے بارے میں تحریر کیے گئے مضامین کا مجموعہ ہے۔کتاب کاانتساب میجر جنرل احتشام ضمیر کے نام ہے۔جو ضمیر جعفری مرحوم کے صاحبزادے تو تھے ہی لیکن ان کی ایک اور پہچان آئی ایس آئی کے سیاسی شعبے کے انچارج کی حیثیت سے بھی رہی ۔ احتشام ضمیر اس عہدے پر جنوری 2007ء تک فائز رہے۔ یہ پرویز مشرف کا دورِ حکومت تھاَ ۔
ا س حیثیت میں احتشام ضمیر نے 2002ء کے انتخابات میں’’ مطلوبہ نتائج‘‘ حاصل کرنے کے لیے اقدامات بھی کیے تھےاور انتخابات میں دھاندلی کا اعتراف بھی کیا ۔فروری 2008ء میں جب ان کی جانب سے دھاندلی کا اعتراف سامنے آیا تو یہ خبر اس زمانے کے اخبارات کا موضوع بن گئی ۔پھر انہوں نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اخبار کے نمائندے نے میری ذاتی گفتگو سیاق و سباق سے ہٹ کر شائع کی ہے حقیقت یہ ہے کہ پولنگ والے دن ہم نے دھاندلی نہیں کروائی تھی۔ہم نے صرف سیاسی انتظام کیا تھا اور قومی احتساب بیورو ( نیب ) کے ذریعے سیاستدانوں کو صدر پرویز مشرف کے کیمپ میں لائے تھے۔اسی زمانے میں ہم نے احتشام ضمیر کے بارے میں کہا تھا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہنسانے والے کا بیٹا لوگوں کو رُلا رہا ہے۔زیرِ نظر کتاب کے مطالعے کے دوران ہمیں اور بھی انکشافات پڑھنے کو ملے۔جن میں یہ اعتراف بھی شامل ہے کہ احتشام ضمیر نے بحیثیت سربراہ ایس پی ڈی (سٹریٹیجک پلانز ڈویژن ) یہ پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کے تحفظ کا ادارہ ہے ۔ احتشام ضمیر نے اس کے سربراہ کی حیثیت سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا اعترافی بیان بھی نشر کروایا جس میں انہوں نے یورینیم کی اسمگلنگ اور چوری کااعتراف کیا تھا۔مصنف کے مطابق احتشام ضمیر کو اس کارروائی پر بہت افسوس بھی تھا۔ احتشام ضمیر کا ذکر آیا تو ہمیں یہ بھی یاد آ گیا کہ 2007ء میں جب وہ آئی ایس آئی کے سیاسی شعبے کے سربراہ بنے تو ہم اس وقت روزنامہ جنگ سے وابستہ تھے اور اخبار کا ادبی صفحہ بھی شائع کرتے تھے ہمیں ادارے کی جانب سے ’’ متاعِ ضمیر ‘‘ کے نام سے جو پہلا کالم موصول ہوااس کے بارے میں ہمیں ہدایت کی گئی تھی کہ کالم ادبی ایڈیشن میں شائع کیا جائے گا اورکالم کا بقیہ حصہ بھی اندرونی صفحات پر بھیجنے کی اجازت نہیں تھی َ ۔ سو حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ہمیں پورا کالم اپنے صفحے کا لے آؤٹ تبدیل کر کے شائع کرنا پڑا تھا ۔ بعد ازاں ان کا کالم ادارتی صفحہ پر شائع ہوتا رہا۔378 صفحات پر مشتمل یہ کتاب خوبصورت کاغذ اور رنگین صفحات اور تصاویر کے ساتھ شائع کی گئی ہے۔
کتاب میں نادر تصاویر اور اہم خطوط ، اخبارات اور دستاویزات کے عکس بھی موجود ہیں۔بلاشبہ یہ کتاب پاکستان کی ادبی و سیاسی تاریخ کے حوالے سے ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے ۔۔ اس کتاب کی قیمت 3000روپے ہے اس کا سرورق محمد مختار علی نے بنایا ہے۔کتاب حاصل کرنے کےلیے رابطہ نمبر 03000515101
فیس بک کمینٹ

