پاکستان میں کم عمری کی شادی ایک گمبھیر مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ عمل نہ صرف انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیارات کی خلاف ورزی ہے بلکہ لاتعداد بچوں بالخصوص لڑکیوں کی فلاح و بہبود اور مستقبل کے امکانات کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
پاکستان مختلف بین الاقوامی کنونشنوں اور معاہدوں کا دستخط کنندہ ہے جو واضح طور پر کم عمری کی شادی پر پابندی لگاتے ہیں، بشمول بچوں کے حقوق کے کنونشن (CRC) اور خواتین کے خلاف ہر قسم کے امتیازی سلوک کے خاتمے سے متعلق کنونشن (CEDAW) کے ۔ مزید برآں پاکستان کا اپنا قانونی فریم ورک، بشمول چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929، شادی کی کم از کم عمر مردوں کے لیے 18 اور خواتین کے لیے 16 سال مقرر کرتا ہے۔ تاہم، ان قانونی دفعات کے باوجود، ثقافتی، سماجی اور اقتصادی وجوہات کے باعث پاکستان میں کم عمری کی شادیاں ہورہی ہیں۔
بچپن کی شادی پاکستان کے معاشرتی اصولوں میں گہرائی سے جڑی ہوئی ہے، جو غربت، تعلیم کی کمی، صنفی عدم مساوات اور پدرانہ رویوں جیسے عوامل سے چلتی ہے۔ بہت سی دیہی اور پسماندہ علاقوں میں، لڑکیوں کو معاشی بوجھ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اور چھوٹی عمر میں ان سے شادی کرنا خاندانوں پر مالی دباؤ کو کم کرنے کا ایک طریقہ سمجھا جاتا ہے۔
کم عمری کی شادی کے باعث لڑکیوں کی تعلیم رک جاتی ہے شادی شدہ لڑکیوں کو اکثر اسکول چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے، جس سے وہ ذاتی ترقی اور معاشی بااختیار بنانے کے مواقع سے محروم رہتی ہیں۔ کم عمری کی شادیوں کے نتیجے میں ہونے والے ابتدائی حمل صحت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بنتے ہیں، کم عمر لڑکیوں بچیوں پر گھریلو تشدد اور جنسی استحصال کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔
پاکستان میں کم عمری کی شادی کی روک تھام کے لیےقانون ساذی اور قانون پر عمل درآمد ضروری ہے۔اس کے ساتھ ہی بچیوں کی تعلیم کو فروغ دینااور بچوں کے حقوق، صحت اور بہبود پر کم عمری کی شادی کے منفی اثرات کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
قانونی اصلاحات کی بات کی جائے تو کم عمری کی شادی سے متعلق موجودہ قوانین کو مضبوط اور نافذ کرنا، بشمول شادی کی کم از کم عمر میں اضافہ اور مجرموں کو سزائیں دینا جیسے اقدامات کرنے چاہیں
کم عمری کی شادی کی روک تھام میں کمیونٹیز، مذہبی رہنما اہم کرداد ادا کر سکتے ہیں۔
لڑکیوں کو بااختیار بنانے سے بھی کم عمری کی شادیوں کی روک تھام ہو سکتی ہے حکو متی سطح پر لڑکیوں کے لیے ایسے پروگراموں کا نفاذ ہونا چاہیے جس سے لڑکیاں کو معاشی طور پر خود مختار ہوسکیں۔
فیس بک کمینٹ

