آج آٹھ جنوری ہے میرے والد صاحب کی برسی کا دن َ ۔ 57 برس قبل یہی وہ دن تھا جب وہ 1968 میں ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوئے تھے ۔۔ ہجری سال 1387 میں سات شوال کو عید الفطر کے ایک ہفتے بعد انہوں نے 34 برس کی عمر میں رخت سفر باندھا تھا ۔ ان ستاون برسوں کے دوران وہ بارہا ہمیں یاد آئے ، لیکن اس مرتبہ یہ دن ایک خاص اداسی اور تنہائی کے ساتھ آیا ہے ۔ان کی یاد میں پہلا مضمون میں نے 2006 میں لکھا تھا جس کا عنوان تھا ’’ پہلا جنازہ ‘‘ 2006 کے بعد جب گزشتہ برس ’’رفتگان ملتان ‘‘کا نیا ایڈیشن شائع ہوا تو اس میں شامل کرنے کے لیے اس مضمون کو از سرِ نو تحریر کیا لیکن آج ایک بار پھر میں ان کو یاد کر رہا ہوں اور یہ مضمون میں ابو کے بہانے امی جان کی یاد میں ہی لکھ رہا ہوں کہ اور اس لیے ان کی یاد میں تحریر کر رہا ہوں کہ وہ میری ماں ہی نہیں میرا باپ بھی تھیں ۔ مجھے اپنی سکول ٹیچر مس جمیلہ کے بیٹے شیری کی پوسٹ یاد آ رہی ہے ۔ وہ ہر سال فادرز ڈے پر مس جمیلہ کے ساتھ اپنی تصویر لگاتا ہے اور کہتا ہے یہ میری ماں ہی نہیں باپ بھی ہے ۔۔
مجھے یاد ہے کہ1990 کے عشرے میں ملتان پریس کلب کے الیکشن ہر سال آٹھ جنوری کو ہوتے تھے ۔ ان الیکشنوں میں کئی برس تک ہمارا پینل کلین سویپ کرتا رہا ۔۔ خود مجھے بھی سینئر نائب صدر ، فنانس سیکریٹری اور مجلس عاملہ کے عہدوں پر کامیابی ملتی تھی ۔۔ میں بہت سے گلدستے لے کر ہار پہنے ہوئے جب گھر میں داخل ہوتا تو امی میری منتظر ہوتی تھیں ۔۔ میں ہار ان کے گلے میں ڈالتا تو ان کی آنکھیں بھیگ جاتیں ۔ وہ ابو کی تصویر کی جانب دیکھتیں جو ان کے کمرے میں ہی آویزاں تھی اور پھر میں وہ ہار اس تصویر پر ڈال دیتا ۔ یہ ان کی برسی پر ایک نذرانہ عقیدت ہوتا تھا ہم ماں ، بیٹے کی جانب سے ۔۔
آج ابو کی برسی کے موقع پر میں ایک خط ان کے نام ہی تحریر کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔
پیارے ابو مجھے نہیں یاد کہ میں آ پ کو ابو کہتا تھا ، ابا جی کہتا تھا یا ابا جان کے نام سے پکارتا تھا ۔ ایک ساڑھے تین سال کے بچے کو بھلا کیا یاد ہو گا کہ وہ اپنے باپ کو کس نام سے پکارتا تھا کچھ دھندلے دھندلے منظر میرے ذہن میں ہیں اور 1968 سے ہیں، جب میں ساڑھے تین برس کا تھا اور آپ گھر سے جانے لگے تو میں نے ساتھ جانے کی ضد کی تھی اور آپ نے امی سے کہا تھا میرے لیے آلو والے پراٹھے بناؤ میں ابھی رضی کے لیے ٹافیاں لے کر آتا ہوں ۔ پھر کچھ ہی دیر بعد آپ کی میت گھر آئی تو مجھے گھر کے قریب ہی میاں صاحب کے گھر بھیج دیا گیا تھا ۔ کہ کہیں میں گھر میں بپا کہرام سے گھبرا نہ جاؤں ۔۔۔میں نے آپ کی شخصیت کو اپنی ماں اور آپ کے دوستوں کی یادوں کی مدد سے ہی ترتیب دیا ۔۔ آپ کے دوستوں میں صابر چچا ، اور سلطان فوٹو گرافر شامل تھے ۔۔ آپ کی میت کی تصویر سلطان صاحب نے ہی بنائی تھی ۔۔ بعد کے برسوں میں مجھے جب بھی کوئی تصویر بنوانا ہوتی تو میں سلطان صاحب کے سٹوڈیو میں ہی جاتا تھا ۔۔ آپ کے انہیں دوستوں اور امی جان کی زبانی معلوم ہوا کہ آپ کو قلمی دوستی اور ڈاک ٹکٹ جمع کرنے کا شوق تھا ۔۔ آپ یورپ کے مختلف ممالک سے ڈاک ٹکٹ منگواتے تھے ۔ انگریزی میں ان قلمی دوستوں کے ساتھ خط و کتابت کرتے تھے ۔۔ آپ کی سیر و سیاحت کی بہت سی تصاویر بھی البموں میں محفوظ ہیں ۔۔ کوئٹہ کی پہاڑیوں پر دوستوں کے ہمراہ ۔۔ آپ کی تصاویر میں صابر چچا بھی موجود ہیں اور کچھ ایسے دوست بھی جنہیں میں نہیں پہچانتا ۔۔آپ کی شخصیت کے دھندلے دھندلے مناظر کے ساتھ میں نے زندگی کا یہ کٹھن سفر طے کیا ۔۔ آج آ پ کو اس لیے بھی یاد کر رہا ہوں اور بے پناہ یاد کر رہا ہوں کہ آ پ جاتے ہوئے اپنی کچھ امانتیں امی جان کے حوالے کر گئے تھے ۔اور وہ امانتیں تھیں دو بیٹے اور ایک بیٹی ۔۔آ پ کپڑے سیتے تھے ۔ کو ٹ پینٹ کے بہت اچھے کاریگر تھے اور صدر بازار میں ’’ گڈ فٹ ٹیلرز کے نام سے جو ایک دکان تھی آپ وہاں سلائی مشین چلاتے تھے ۔ مجھے وراثت میں بس وہ ایک سلائی مشین ہی ملی تھی ۔۔ آپ کے جانے کے بعد میری امی نے اس سلائی مشین کو ہمارے روزگار کا ذریعہ بنایا ۔۔ہم نے انہیں دن رات اسی سلائی مشین پر محلے والوں کے کپڑے سیتے دیکھا ۔اور ان کپڑوں کی سلائی کے عوض جو پیسے آ تے تھے وہ اس کے اس سے ہماری زندگیاں آسان بناتی تھیں ۔۔
صرف امی نے ہی نہیں ہمیں گھر کے دیگر افراد نے بھی بہت محبت سے پالا بہت محبت سے ہم سب بہن بھائیوں کی تربیت کی مجھے انگلش میڈیم سکول داخل کروایا ، میں اپنی پھوپھو جان کے ساتھ سکول جاتا تھا ۔۔ واپسی پر کئی بار مجھے چچا بھی لینے آتے تھے ۔۔ یہ سب اپنی جگہ لیکن ہم نے اپنی والدہ کو دن رات محنت کرتے دیکھا ۔۔’’ کریم منزل کےبالائی حصے میں ایک کمرہ تھا جو آپ کی زندگی میں آپ کے حصے میں آیا ہو گا وہی کمرہ ہمارا مسکن تھا ۔اس کمرے میں ایک سبز رنگ کا پرانا پنکھا تھا جو آواز دیتا تھا ایک چارپائی تھی اور دو الماریاں تھیں ۔ باہر ایک ڈیوڑھی تھی ۔ پرانی طرز کے ہندوؤں کے زمانے کے بنے ہوئے اس گھر میں سوئی گیس کا ایک چولہا ہمارے کچن میں موجود تھا ۔ جس کے گرد ہم سب بہن بھائی بیٹھ کر صبح صبح ناشتہ کرتے اور پھر سکولوں کی جانب روانہ ہو جاتے تھے ۔۔
ابو جان آج پہلی بار میں آپ کی برسی امی جان کے بغیر منا رہا ہوں ۔۔ ایک طویل عرصہ تک وہ آج کے دن ختم شریف بھی دلاتی تھیں ۔۔ کچھ نہ کچھ پکا کر محلے میں بانٹ دیا کرتی تھیں ۔۔ پھر انہوں نے کچھ عرصہ قبل یہ سلسلہ ترک کر دیا اور اب تو وہ کئی برس سے خود کو بھی فراموش کر چکی تھیں ۔۔ اٹھائیس نومبر کو وہ ہجر اور دکھوں کے 57 برس گزارنے کے بعد آپ کے پاس آ چکی ہیں ۔۔ میں چشمِ تصور میں آپ دونوں کو مسکراتے دیکھ رہا ہوں ۔۔ جس کے قدموں تلے ہماری جنت تھی وہ اب خود جنت میں آپ کے پاس ہے ۔۔ مجھے یقین ہے آپ دونو ں اب جی بھر کر ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہوں ۔ جو لمحات آپ جیون میں ایک دوسرے کے ساتھ نہیں گزار سکے اب وہ آپ کو میسر ہے ۔۔ یہ خط صرف اس لیے لکھ رہا ہوں کہ آپ امی کا شکریہ ضرور ادا کریں کہ انہوں نے آپ کی امانتوں کی حفاظت کی اور انہیں یہ بھی بتا دیں کہ میں جو صرف عید کے روز ایک ٹافی جیب میں ڈال کر آپ سے ملنے قبرستان حسن پروانہ جایا کرتا تھا آج پہلی بار آٹھ جنوری کو آپ دونوں کو سلام کرنے وہاں گیا تھا ۔۔ میری جانب سے دادا جان ، دادی اماں ، نانا ، نانی ، چچا، چچی ، دونوں ماموؤں انکل ستار ، اور طاہر اوپل کو سلام کہیں ۔۔
فیس بک کمینٹ

