ہمارے زمانے کی ایک ہیروئن ہوا کرتی تھی، نام تھا َََِِسُلکشنا پنڈت۔ بے حد خوبصورت اور دلکش۔ مگر کبھی صفِ اوّل کی اداکاراؤں میں اُس کا شمار نہیں ہوا، وہ ریکھا، ہیما مالنی، زینت امان وغیرہ سے بعد کے درجے میں گنی جاتی تھی۔ سلکشنا کو سنجیو کمار سے دیوانہ وار محبت تھی، کچھ فلموں میں دونوں نے ایک ساتھ کام بھی کیا، مگر سنجیو کمار صاحب ہیما مالنی کے عشق میں مبتلا تھے، انہوں نے ہیما مالنی کو شادی کی دعوت بھی دی مگر ہیما مالنی دھرمیندر سے پیار کرتی تھی سو اُس نے سنجیو کمار کی محبت کو ٹھکرا کر دھرمیندر سے بیاہ رچا لیا۔ سنجیو کمار صاحب اِس فیصلے سے بہت دلبرداشتہ ہوئے اور انہوں نے مرتے دم تک شادی نہیں کی۔ چھ نومبر 1985 کو 47 برس کی عمر میں اُن کا انتقال ہو گیا۔ اُدھر سُلکشنا پنڈت بھی سنجیو کمار سے ’عشق والا لو‘ کرتی تھی سو اُس نے بھی تمام عمر شادی نہیں کی، بالآخر گزشتہ برس 71 برس کی عمر میں اُس کا بھی انتقال ہو گیا۔ قدرت کا اتفاق دیکھیے، اُس روز بھی تاریخ چھ نومبر ہی تھی! دوسرا اتفاق دیکھیے۔ ابراہم لنکن اور جان ایف کینیڈی امریکی تاریخ کے دو مقبول ترین صدور تھے۔ لنکن 1860 میں صدر منتخب ہوئے، کینیڈی 1960 میں۔ دونوں کو جمعے کے دن گولی مار کر قتل کیا گیا، دونوں کے سر پر گولی لگی، دونوں کے ساتھ ان کی بیویاں موجود تھیں اور دونوں کے قاتل عدالت میں پیش ہونے سے پہلے مارے گئے۔ مزید عجیب بات یہ کہ لنکن کا سیکریٹری ’کینیڈی‘ کہلاتا تھا اور کینیڈی کے سیکریٹری کا نام ’لنکن‘ تھا۔ تیسرا واقعہ بھی سُن لیں جو شاید سب سے حیرت انگیز اور خوفناک ہے۔ 1898 میں مورگن رابرٹسن نامی لکھاری نے ایک ناول لکھا، نام تھا Futility۔ اُس میں ایک دیو ہیکل جہاز Titan بحرِ اوقیانوس میں برف کے تودے سے ٹکرا کر ڈوب جاتا ہے۔ 14 برس سال بعد بالکل اسی طرح ٹائٹینک بھی اسی مقام کے قریب، اسی موسم میں، اسی طرح ڈوب گیا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سب محض ’اتفاق‘ ہے یا اس کے پیچھے کوئی ’آفاقی دماغ‘ کام کر رہا ہے؟ جب ہم ایسے واقعات پڑھتے ہیں تو ہمارا ذہن فوراً تقدیر، نصیب اور بدقسمتی جیسے بھاری بھرکم تصورات کی طرف جاتا ہے، ہم سوچنے لگتے ہیں کہ شاید کائنات کے کسی خفیہ دفتر میں یہ سب کچھ پہلے سے لکھا جا چکا ہے اور ہم محض کٹھ پتلیاں ہیں جو اپنے مالک کے اشاروں پر ناچ رہی ہیں، مالک کا دل کرتا ہے تو اپنی تفنن طبع کی خاطر ٹائٹینک، کینیڈی، لنکن، سلکشنا پنڈت اور سنجیو کمار جیسے اتفاقات برپا کر دیتا ہے تاکہ کچھ رونق لگی رہے اور ہم جیسے انسان سوچ سوچ کر ہلکان ہوتے رہیں۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ ریاضی اور فلسفہ تو کچھ اور ہی بتاتے ہیں۔
کائنات کا سارا نظام دراصل امکانات (Probability) کے گرد گھومتا ہے، ریاضی کی زبان میں اسے ’Law of Truly Large Numbers‘ کہتے ہیں۔ یہ قانون کہتا ہے کہ اگر کسی واقعے کے ہونے کا امکان کروڑوں میں ایک بھی ہو، اور آپ اسے لاکھوں کروڑوں بار دہرائیں، تو وہ ’ناقابلِ یقین‘ واقعہ ہونا یقینی ہو جاتا ہے۔ ہمیں یہ معجزہ اس لیے لگتا ہے کہ ہم صرف اُن واقعات کو یاد رکھتے ہیں جو غیر معمولی ہوتے ہیں اور اُن اربوں واقعات کو بھول جاتے ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر بالکل نارمل طریقے سے پیش آتے ہیں۔ میری پسندیدہ کتاب The Drunkard ’s Walk میں دی گئی مثال بہت عمدہ ہے۔ اگر آپ ایک سکہ ہوا میں اچھالیں تو اس میں‘ چاند ’یا‘ ستارہ ’آنے کا امکان 50 فیصد ہوتا ہے لیکن اگر آپ بیک وقت ایک لاکھ سکے اچھالیں تو عین ممکن ہے کہ کسی ایک جگہ لگاتار دس مرتبہ چاند آ جائے۔ دیکھنے والا اسے کرشمہ سمجھے گا مگر شماریات کا ماہر اطمینان سے سِگرٹ سلگاتے ہوئے کہے گا کہ ”اتنے بڑے ڈیٹا میں ایسا ہونا ہی تھا“ ۔
سلکشنا پنڈت اور سنجیو کمار کی وفات کی تاریخ کا ایک ہونا، یا لنکن اور کینیڈی کی زندگیوں کی مماثلت، دراصل اعداد و شمار کے اسی کھیل کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ دنیا میں اربوں انسان بستے ہیں، ہر روز لاکھوں واقعات ہوتے ہیں، ان میں سے چند سو کا آپس میں ٹکرا جانا کوئی حیرت کی بات نہیں، بلکہ نہ ٹکرانا حیرت کی بات ہوتی!
فرانسیسی ریاضی دان لیپلاس (Laplace) نے اِس ضمن میں ایک دلچسپ تھیوری پیش کی تھی، اُس نے کہا تھا کہ اگر ہمیں کائنات کے ہر ذرے کا موجودہ مقام اور رفتار معلوم ہو تو ہم مستقبل کے واقعات کی پیش گوئی کر سکتے ہیں۔ اُس کے الفاظ میں لکھوں تو: ”اگر کوئی ایسا عقلِ کُل وجود میں ہو جو کسی ایک لمحے پر اُن تمام قوتوں کو جان لے جو فطرت کو حرکت میں رکھتی ہیں اور اُن تمام اجزا کے مقامات سے بھی باخبر ہو جن سے فطرت مرکب ہے اور اگر یہ دانش اِس قدر وسیع بھی ہو کہ ان تمام معلومات کو تجزیے کے دائرے میں لا سکے تو وہ ایک ہی فارمولے میں کائنات کے عظیم ترین اجسام کی حرکات اور چھوٹے سے چھوٹے ایٹم کی جنبش کا حساب بھی لگا لے گی۔ ایسی دانش کے لیے کچھ بھی غیر یقینی نہ ہو گا اور مستقبل بھی ماضی کی طرح اس کی نگاہ کے سامنے حاضر ہو گا۔“ بظاہر یہ بات بہت ٹھوس ہے، اِس کی نہایت سادہ مثال یہ ہوگی کہ اگر آپ کو یہ معلوم ہو کہ سو کلومیٹر طویل سڑک پر ایک گاڑی مسلسل سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلے گی تو لامحالہ نقطہ آغاز سے انجام تک پہنچنے میں اسے ایک گھنٹہ لگے گا اور یہ ’پیش گوئی‘ درست بھی ثابت ہوگی۔ مگر کاش کہ دنیا اتنی سادی ہوتی، یہاں تو اُس محبوب کا موڈ تبدیل ہونے کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی جس کے ساتھ دن رات گزارے جاتے ہیں، باقی دنیا کا کیا کہنا۔ ویسے بھی لیپلاس کی اِس تھیوری کو دیگر سائنس دانوں نے رد کر دیا ہے اور کوانٹم مکینکس کی دریافت کے بعد تو بالکل ہی کسی بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ کائنات میں کب اور کیا ہو جائے۔
معافی چاہتا ہوں بات کچھ زیادہ ہی سائنسی ہو گئی حالانکہ فلمی رومان سے شروع ہوئی تھی۔ دراصل اِس بحث کا ایک پہلو نفسیاتی بھی ہے، اسے ’Confirmation Bias‘ کہتے ہیں۔ جب ہم کسی چیز کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمیں ارد گرد وہی کچھ نظر آنے لگتا ہے۔ مثلاً اگر آپ نے آج ایک سرخ رنگ کی گاڑی خریدنے کا سوچا ہے تو سڑک پر آپ کو ہر دوسری گاڑی سرخ نظر آئے گی۔ مورگن رابرٹسن نے جب ’ٹائٹن‘ جہاز کا ناول لکھا تو اُس نے اُس وقت کی انجینئرنگ اور جہاز سازی کے رجحانات کو دیکھ کر ایک قیاس آرائی کی، چونکہ اس وقت بڑے جہاز بننا شروع ہو گئے تھے اور برفانی تودوں کا خطرہ ہمیشہ رہتا تھا اِس لیے اس کا تخیل حقیقت سے ٹکرا گیا اور سچ مچ کا ٹائٹینک بھی ڈوب گیا۔ سچ تو یہ ہے کہ کائنات خاموشی سے اپنے اصولوں پر چل رہی ہے، اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون سی تاریخ کو کس کا انتقال ہوا اور کس نے کب بے وفائی کی۔
جب سے یہ دنیا وجود میں آئی ہے تب سے اربوں لوگ اِس دنیا میں آئے اور چلے گئے، اِن اربوں لوگوں کے درمیان کھرب ہا واقعات پیش آئے، اگر اُن واقعات میں سے عجیب و غریب حادثات یا اتفاقات کی فہرست بنائی جائے تو شاید وہ واقعات چند ہزار بھی نہ نکلیں، لیکن ہم جیسے فانی انسانوں پر لرزا طاری کرنے کے لیے ایک واقعہ ہی کافی ہے۔ سوال تو پھر وہیں کا وہیں رہے گا کہ سلکشنا پنڈت چھ کی بجائے سات نومبر کو بھی فوت ہو سکتی تھی، آخر چھ نومبر ہی کیوں؟

