ا یران نے فلسطینیوں کی خاطر یا سامراج کو زک پہنچانے کے لیے اسرائیل پر حملہ نہیں کیا۔ اگر ایسا ہوتا تو ایران بہت پہلے اسرائیل پر اور امریکی بحیری بیڑے پر حملہ کر چکا ہوتا۔ ایران کو یمن سے کنفیوز نہ کریں۔ ایران نے اسرائیلی حملے کے ردعمل میں کارروائی کی ہے۔ ایران کی ملائیت کوئی سامراج مخالف قوت نہیں بلکہ ایک رجعتی سرمایہ دار طاقت ہے جو کئی معاملوں میں امریکی سامراج کی اتحادی رہی ہے۔ اس کا سامراج سے کوئی بنیادی تضاد نہیں ہے۔ 1979 کے انقلاب میں یہ امریکی سامراج تھا جس نے خمینی سے نفرت کرنے والی ایرانی فوجی قیادت کو رام کر کے اور بغاوت سے باز رکھ کر خمینی کی ایران امد اور اقتدار کے لیے راہ ہموار کی تھی۔ یہی خمینی حکومت تھی جس نے ایرانی کمیونسٹوں اور جمہوریت پسندوں کا قتل عام کیا تھا اور اس کی ظالمانہ روش آج بھی برقرار ہے۔
امریکہ اور ایران کا تنازع اس وجہ سے ہے کہ ایران امریکہ بہادر کے ہر حکم پر سر تسلیم خم نہیں کرتا۔ اسرائیل-ایران جنگ کو سرمایہ دارانہ ریاستوں کے مابین تضاد اور سامراجی جنگ کے تناظر میں دیکھنا چاہیے نا کہ سامراج مخالف جدوجہد کے تناظر میں۔
فیس بک کمینٹ

