ڈاکٹر اختر شمارکالملکھاری

ڈنڈا بردار باوردی فورس کا مارچ؟۔۔ڈاکٹراختر شمار

ان دنوں ہرطرف ”دھرنا دھرنا“ ہورہا ہے۔ یہ دھرنا اب مارچ بھی کرے گا۔ پی ٹی آئی والے کہتے ہیں کہ اچھا خاصا عالمی سطح پر کشمیر کا مسئلہ اجاگر ہورہا تھا۔ کشمیریوں پر بھارتی فوج کے مظالم انتہا کو پہنچ چکے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں نہ صرف کشمیریوں بلکہ ساری دنیا میں مسلمانوں کے مسائل پر بات کی اور اپنے موقف کی کھل کر وضاحت کی۔ گویا پی ٹی آئی حکومت عملی سطح پر نہ سہی بیانیہ سطح پر کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کررہی تھی کہ درمیان میں مولانا فضل الرحمن آن ٹپکے۔ مولانا فضل الرحمن پہلے روز سے عمرانی حکومت کے خلاف میدان میں ہیں۔ شروع میں تو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون جیسی سیاسی جماعتوں نے مولانا کو زیادہ لفٹ نہ دی لیکن جیسے جیسے پی پی اور نون لیگ کے سیاستدان اور ممبران پارلیمنٹ ایک ایک کرکے ”نیب“ کی گرفت میں آکر سلاخوں کے پیچھے بند ہوتے گئے۔ دونوں سیاسی جماعتوں نے بھی مولانا فضل الرحمن کو ”نجات دہندہ“ سمجھنے میں عافیت جانی۔ کھل کر نہ سہی مگر دونوں سیاسی جماعتیں دھرنے کی حامی ہیں وہ عمران خان کی حکومت کو ایک پل برداشت نہ کریں اگر ان کے بس میں ہو۔ یہی حال مولانا فضل الرحمن کا ہے۔ وہ پہلے تو حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے اسلام آباد میں دھرنا دینے کی باتیں کررہے تھے پھر یہی دھرنا کشمیر کی آزادی اور وہاں ہونے والے مظالم کے خلاف احتجاج تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔


احتجاج بھی جمہوریت کا حسن ہے۔ آزادی اظہار انسان کا بنیادی حق بھی ہے لیکن یہ سب کچھ قانون اور آئین کی حدود ہی میں برداشت کیا جاسکتا ہے۔
مولانا فضل الرحمن ایک طرف تو کشمیریوں کے لیے پہلی بار کھل کر آواز بلند کرنے کو ”آزادی مارچ“ کرنے والے ہیں تو دوسری طرف ان کا سارا غصہ موجودہ حکومت پر بھی ہے، وہ اپنی تقاریر میں حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہیں، وہ حکومتی مرغی کٹا پالیسی پر بھی طنز کرتے ہیں۔ اور فی الوقت ہرصورت اسلام آباد پر چڑھائی کا پختہ ارادہ رکھتے ہیں۔ شاید اس لیے میڈیا پر دھرنا دھرنا ہورہا ہے۔
اب توبلاول نے بھی نعرہ لگادیا ہے ”دھرنا ہوگا مرنا ہوگا“۔


یہاں تک بھی ٹھیک ہے۔ پُرامن احتجاج ہرسیاسی پارٹی کا استحقاق ہے مگر اب جو ” باوردی جوانوں“ کی پریڈ دکھائی جارہی ہے۔ یہ سب کچھ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔ یہ ڈنڈا بردار ”ملیشیا “ باقاعدہ ایک تربیت یافتہ فورس نظر آتی ہے، جس کے گارڈ آف آنر کا معائنہ خود مولانا فضل الرحمن کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ وطن عزیز میں ہماری افواج موجود ہیں جو ملک وقوم کی ہر قسم کے حالات میں خدمت پر مامور ہےں۔ ایسے میں کوئی سیاسی پارٹی باقاعدہ ” باوردی جتھہ“ تیار کرکے اگر احتجاجی جلسے جلوسوں میں دکھائی دے اور اگر کوئی قوت ان کو روکنے کی کوشش کرے تو کیا وہ ڈنڈا بردار فورس تماشائی بن کر دیکھتی رہے گی ؟ نہیں ہرگز نہیں۔ یہ تو سراسر تصادم کی فضا بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ یوں لگ رہا ہے ریاست کے اندر ریاست بنانے کی سرگرمیاں شروع ہیں۔


اگر یہ مارچ کشمیریوں کے لیے ہے تو اس میں بھارت کے غاصبانہ رویوں اور مظالم کے خلاف احتجاج ہونا چاہیے۔ اس احتجاج میں کشمیربنے گا پاکستان کے نعرے گونجنے چاہیں نہ کہ عمران خان کی حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی باتیں ….
یہ درست ہے مولانا فضل الرحمن ایک زیرک سیاستدان ہیں اور اپنی سیاست کی بدولت ہمیشہ ہرحکومت کے حلیف رہے ہیں چاہے وہ پرویز مشرف ہو بینظیر بھٹو یا نواز شریف اور زرداری ….کشمیر کمیٹی کے چیئرمین تو وہ برسوں رہے مگر انہوں نے کشمیرکے لیے ایسا کوئی ملین مارچ ترتیب نہیں دیا۔ نہ ہی مہنگائی اور کرپشن کے خلاف اس طرح کا احتجاج کرنے یا دھرنا دینے پر اترے ہیں مگر اس بار تو وہ باقاعدہ حقیقی اپوزیشن کے لب ولہجے میں گرج برس رہے ہیں۔ ضرور گرجیں برسیں، اپنے مدرسوں کے طلبا کو بھی جلسوں میں لائیں مگر یہ ڈنڈا بردار باوردی اور تربیت یافتہ فورس کی جھلکیاں دکھا کر آپ اس ملک میں ”خانہ جنگی“ کے دروازے کی طرف مت جائیں۔ اپنا احتجاج آئین اور قانون کے دائرے میں رکھیں گے تو شاید حکومت بھی آپ کو سہولیات دے لیکن اگر ڈنڈا بردار سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مڈبھیڑ ہوئی تو حالات بگڑ سکتے ہیں۔ سو مولانا فضل الرحمن کو تحمل سے احتجاج کو پرامن رکھنا پڑے گا۔
یہ دوسری بات ہے کہ اب تک دھرنوں سے کوئی حکومت فارغ نہیں ہوئی کیونکہ پی ٹی آئی سے بڑے دھرنے اور احتجاجی جلسے کسی سیاسی جماعت نے نہیں کیے، لہٰذا اب بھی سوچ لیں اس شخص کی طرح :”ایک شخص شادی کے سلسلہ میں میرج سنٹر گیا جو بندتھا باہر نوٹس لکھا ہوا تھا :
”ایک بجے سے تین بجے تک دفتر بند رہتا ہے
آپ ایک بار پھر سوچ لیں۔ “
(بشکریہ: روزنامہ نئی بات)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker