لاہور :اردو اور پنجابی کے نام ور شاعر ، محقق ، کالم نگار اور ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر اختر شمار سوموار آٹھ اگست کو انتقال کر گئے ۔ ان کی عمر62 برس تھی اور وہ جگر کے عارضے کا شکار تھے ۔ دو روز قبل ان کی علالت کی خبریں سامنے آئی تھیں ۔ان کے پس ماندگان میں چار بیٹے اور بیوہ شامل ہیں ۔
ڈاکڑ اختر شمار کے صاحبزادے کے مطابق اختر شمار ایک ڈیڑھ برس سے جگر کے عارضے کا شکار ہیں ان کا علاج جاری تھا کہ ان کے پھیپھڑے بھی متاثر ہو گئے اور سانس لینے میں دشواری کے بعد انتہائی نگہداشت وارڈ میں منتقل کر دیا گیا ۔
اختر شمار کا اصل نام اعظم خان تھا وہ 17 اپریل 1960ء کو پیدا ہوئےڈاکٹر اختر شمار کا آبائی تعلق گاؤں سہال نزد چکری ضلع راولپنڈی سے تھا ، ان کے والد گرامی بہت عرصہ پہلے ملتان میں آباد ہو گئے تھے ۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم ملتان سے حاصل کی ۔ گورنمنٹ ہائی سکول پاک عرب ملتان سے میٹرک کے بعد انہوں ملتا ن سے ہی انٹر میڈیٹ کیا ۔ ڈاکٹر صاحب نے بی اے تک تعلیم ملتان میں حاصل کی ، ایم اے اردو اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کیا۔۔
ڈاکٹر اختر شمار نے اپنے تدریسی سفر کا آغاز گورنمنٹ کالج قصور سے کیا بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے ہوتے ہوئے ایف سی کالج تک پہنچے ، ڈاکٹر صاحب نے ” حیدر دہلوی: احوال و آثار” کے عنوان سے مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی،
ایف سی یونیورسٹی لاہور میں شعبہ اردو کے چیئرپرسن کے طور پر کام کر رہے تھے ۔ اسے قبل وہ جامعۃ الازہر (مصر) میں 10ء تا 2013ء) پڑھاتے رہے، چیئرمین ادبیات اردو، عین الشمس یونیورسٹی (مصر) بھی رہے،
وہ اسی کی دہائی کے وسط میں لاہورمنتقل ہو گئے تھے مختلف اخبارات و رسائل میں کام کرنے کے علاوہ ” بجنگ آمد” کے نام سے اپنا جریدہ جاری کیا
پروفیسر ڈاکٹر اختر شمار کے شعری سفر کی باقاعدہ ابتداء 1985ء میں ہائیکو کے مجموعے ’’روشنی کے پھول‘‘ سے ہوئی تھی۔ 1992ء میں ’’کسی کی آنکھ ہوئے ہم‘‘ ۔ 1993ء میں ’’یہ آغازِ محبت ہے‘‘ ۔ 1994ء میں ’’جیون تیرے نام‘‘۔ 1996ء میں ’’ہمیں تیری تمنا ہے‘‘شائع ہوئی ۔ 1996ء ہی میں ڈاکٹر اختر شمار نے اپنی مادری زبان میں ’’اکھیاں دے وچ دل‘‘ کا مژدہ سنایا۔ اکیسویں صدی کے پہلے ہی سال ’’آپ سا نہیں کوئی“ ۔ 2002ء میں ’’تمھی میری محبت ہو‘‘ شائع ہوئی ۔ 2005 اور 2007ء میں ’’دھیان‘‘ کی اشاعت ہوئی ۔ 2010ء میں ایک بار پھر ڈاکٹر صاحب نے پنجابی کا مجموعہ ’’میلہ چار دیہاڑے‘‘ شائع کیا۔ ان کے نثری پلڑے میں ’’مسلم تہذیب و فکر کا مطالعہ‘‘( 2002ء)’ ’پنجابی ادب رنگ‘‘ (2002ء)’’انتخابِ جمال‘‘ (2003ء) ’’بھرتری ہری:ایک عظیم شاعر‘‘ (2004ء)، ’’مَیں بھی پاکستان ہوں‘‘ (2010ء)،’’ہم زندہ قوم ہیں‘‘ (2005ء)، ’’ویلے دی اکھ‘‘ (2009ء) ،’’دنیا مسافرخانہ اے‘‘(2010ء) ،’خطوں میں دفن محبت‘‘ (2010ء)، ‘’آدابِ خود آگاہی‘‘ (2011ء)، ’’موسیٰ سے مرسی تک‘‘ (2013ء)، ’’لاہور کی ادبی ڈائری‘‘ (2014ء )، ’’جی بسم اللہ‘‘ (2016ء) تیزی سے شامل ہیں ۔پھر اسی برس ان کا پی ایچ۔ڈی کا مقالہ بھی’ ’حیدر دہلوی: احوال و آثار‘‘ کے نام سے کتابی شکل اختیار کر گیا۔ 2017ء میں وہ ’’عاجزانہ‘‘ کے ساتھ اُردو کی شعری دنیا میں حاضر رہے۔ ا
وہ ”اختر شماریاں “ کے نام سے نوائے وقت سمیت مختلف اخبارات میں کالم بھی لکھتے رہے۔ انہوں نے ریڈیو اور پی ٹی وی کے لیے بھی بہت سے پروگراموں کی میزبانی کی ۔
اخترشمار کی کئی غزلیں اوراشعار زبان زدعام ہیں۔ خاص طورپرنصرت فتح علی خان کی گائی ہوئی ان کی ایک غزل کوبہت شہرت ملی۔
اس کے نزدیک غم ترک وفاکچھ بھی نہیں
مطمئن ایسا ہے وہ جیسا ہوا کچھ بھی نہیں
فیس بک کمینٹ

