ملتان (گردوپیش نیوز)نامور ماہر تعلیم ،محقق اوردانشور ڈاکٹر انوار احمد کے گھر ڈکیتی کی ایف آئی آر بارہ گھنٹے بعد بھی درج نہ ہوسکی۔ڈاکٹرانوار احمد نے پولیس تھانہ بی زیڈ کو ملزمان کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی فراہم کردی ہے لیکن اس کے باوجود پولیس کی جانب سے تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ایس ایچ اور تھانہ بہاءالدین زکریا حشمت بلال نے گردوپیش سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ملزمان کے خلاف رات گئے تک مقدمہ کرلیاجائے گا جبکہ ڈاکٹر انوار کی جانب سے دی جانے والی ویڈیو کی مدد ملزمان کی گرفتاری کی کوششیں کی جارہی ہیں،جلد ملزمان کو گرفتار کرلیا جائے گا۔
واضح ہو کہ ڈاکٹر انواراحمد کی رہائش گاہ23 شالیمار کالونی پروفیسر ایونیومیں ہفتے کی صبح ڈاکو داخل ہوئے اورگن پوائنٹ پر ڈاکٹر انواراحمد سے نقدی اور موبائل فون چھینا اور فرار ہوگئے۔ ڈاکٹرانوار احمد کے مطابق وہ صبح سوا چھے بجے اپنے گھر کے قریب دکان سے دودھ لینے گئے اور جیسے ہی وہ گھرواپس پہنچے تو دو نقاب پوش ڈاکوﺅں نے گھر کاگیٹ بند کیا اور ان سے پرس ،موبائل چھین کر فرارہوگئے۔ ڈاکٹر انواراحمد نے ملزمان کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی فیس بک پرشیئر کی ہے ۔ویڈیو میں ملزمان کو دیکھا جاسکتا ہے جنہوں نے اپنے منہ چھپائے ہوئے تھے اوروہ دونوں موٹرسائیکل پر فرارہونے میں کامیاب ہوگئے۔
دریں اثناءزندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے نامور ماہر تعلیم ،نقاد اور محقق ڈاکٹرانواراحمد کے گھر علی الصبح ہونے والی ڈکیتی کی واردات پر تشویش کااظہارکیاہے اوراسے ملتان انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان قراردیا ہے۔سخن ور فورم کے اراکین رضی الدین رضی، شاکر حسین شاکر، قمررضا شہزاد، نوازش علی ندیم ،وسیم ممتاز،قیصر عباس صابر،ممتازڈاہر ،امجد سعید تھہیم، شہزاد عمران خان،عدنان قریشی نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ بہت افسوسناک بات ہے کہ اب استاد بھی محفوظ نہیں رہے ۔معاشرے میں اس سے بڑھ کر اورکیا زوال ہوگا ۔انہوں نے اس واردات کو افسوسناک قراردیا اورمطالبہ کیا کہ ملزمان کوگرفتارکرکے کیفرکردارتک پہنچایا جائے۔
فیس بک کمینٹ

