میں نے خود سے بڑھ کر جسے چاہا جسے سینچا جسے سوچا اسی نے میرے ارمانوں سے سجے خوابوں اور امیدوں بھرے دل کو مرجھاۓ ہوۓ پھول کی طرح مسخ اور ٹوٹے ہوۓ کانچ کی طرح کرچی کرچی کر دیا۔۔۔میرے اعتبار اور کردار کے خزانوں کولوٹنے والے رہزن وہی بنے جنہیں میں نے رہبر کارواں سمجھا اور مانا تھا۔۔۔میرے خوابوں کی کرچياں میری روح کو لہو لہان کرتی ہیں میری امیدوں کے لاشے میرے وجود پر بوجھ کی طرح لدے ہیں اور میری رائيگاں جانے والی قربانیوں سے میرا تن بدن نیلو نیل ہے۔۔۔تکلیف پہنچانے والے اور دل توڑنے والے اپنے جہان میں اپنے دھیان میں گم ہیں انہیں ہمارے کھو جانے کا اندیشہ نہیں تھا اور ہمیں دھتکار دینے کا کوئی غم بھی نہیں ہے اس نا قدری کا زخم ناسور سےکم نہیں۔۔۔
صحرا کی ویرانیاں لیے ہمارا دل شدت الم سے آتش فشاں کی طرح پھٹ جانے کو تیار ہے شعلہ زن ہو کر سب کو جلا کر بھسم کر دینا چاہتا ہے بپھرے ہوۓ بے قابو غصیلے سیلابی ریلے کی طرح حد برداشت کے تمام بند توڑ کر سب کچھ تہس نہس کرنے کو بیتاب ہوا چاہتا ہے جنون زدہ مجنوں کی طرح گریباں چاک کیے حلیہ بگاڑے گلی گلی کی خاک چھاننے کو آمادہ نظر آتا ہے …جس طرح میرے ارادوں اور تمناووں کے ستونوں پہ کھڑے میرے خيالی جہان کو مسمار کر دیا گيا اور مجھے حالات و واقعات اور دنیا والوں کے بے رحم تجزيات اور گرم سرد لہجوں کے طوفانوں میں بھٹک جانے کیلئے تنہا چھوڑ دیا گيا دل چاہتا ہے کہ میں بھی اسی طرح اینٹوں کا جواب پتھر سے دوں تذلیل کرنے والوں کو سر عام رسوا کر دوں چيخ چيخ کر ساری دنیا کے خوش سوز آوازوں کو نوحے میں بدل دوں لیکن پھر خيال آتا ہے کہ کیا میرا غم اتنا ارزاں ہے کہ اشتہار لگاتی پھروں بہتر نہیں کہ میں اس زہر کو زہر سے مارنے کی بجاۓ تریاق سے کاٹنے کی سعی کروں۔ جو مجھے نہیں ملا کسی اور کو حاصل کرتے دیکھ کر جو تمانیت حاصل ہوتی ہے وہ میرے لا حاصل کو حاصل میں بدل دیتی ہے میری روح میں پا لینے کا سکون سرائيت کرتا ہے ۔۔
آنسو بے بسی بے چینی یاسیت مایوسی اضطراب دکھ کے مختلف درجے ہیں جن سے گزر کر انسان اعتماد اور برداشت کا وہ آب حیات پا لیتا ہے جہاں انتقامی جذبوں اور آہوں بدعاؤں کی جگہ ہمت بھرا صبر اور کامیابی بھرا مقام حاصل ہوتا ہے انسان انسانیت کی میراث پا لیتا ہے دکھ چننے اور خوشیاں بانٹنے والا بن جاتا ہے انسان جان لیتا ہے کہ زخموں کے بھرنے کیلئے لازم ہے کہ زخم کو کریدا نہ جاۓ زخم کو چھیڑ چھاڑ کی گرد سے محفوظ رکھنے میں ہی شفا اور صحت یابی کا راز ہے اور آنسو پونچھنے والے کی حیثيت سیپ سے موتی ڈھونڈنے والے سے ز يادہ ہے دلجوئی کرنےوالے کا درجہ سجدوں میں پڑے رہنے والوں سے بڑھ کر ہے۔۔جس نے بھوک خوف گھر سے نکالے جانے کی اذيت اور دلوں کے ٹوٹنے کا غم سہا ہے صرف وہی انسان ان سب جذبوں کو جان سکتا ہے اور ساتھی انسانوں کو بچا سکتا ہے۔۔لیکن اس سب کیلئے ضروری ہے کہ ہم خود پر انحصار کریں اپنے پاوں پر جم کر کھڑا ہونے کی سعی کریں اپنے قدموں تلے اپنی زمین اور سر اٹھا کے چلنے کے قابل بنائيں تاکہ وہ کم ظرف جنہوں نے ہمیں جس بھی وجہ سے دھتکارا تھا کبھی ہم تک پہنچ نہ پائيں معافی مانگنے کیلئے بھی نہیں کیونکہ معاف کرنے نہ کرنے سے ہمارے کسی نقصان کا مداوا نہیں ہو سکتا اور معافی مانگنے والے لوگ اس معافی کو مزيد غلطیاں کرنےکا اجازت نامہ سمجھتے ہیں ہم کسی کے ساتھ غلط نہیں کریں مگریہ ہمارا حق ہے کہ ہم کسی کو اپنے ساتھ بھی غلط نہ کرنے دیں۔۔۔حقوق کا استحصال کرنے والوں سے سب سے بڑا انتقام یہ ہے کہ ہم اتنے بلند مقام پر پہنچ جائيں جہاں سے ان کو ہمیں دیکھنے کیلئے بھی بہت محنت درکار ہو مگر دیکھ کر بھی ہم تک پہنچ نہ سکیں پہنچ جائيں تو پا نہ سکیں ۔۔۔ان سب حوصلہ افزاء خيالوں اور مایوسی بھری باتوں کے درمیان ڈولتا ہے ہمارا دل تمام عمر ۔۔کسی پنڈولم کی طرح۔۔بڑھتے گھٹتے چاند کی طرح اور ترازو کی طرح کبھی وزن میں ہلکا پھلکا اور کبھی دل پر بوجھ آ پڑنارنگوں کی طرح بدلتے تیوروں سے لڑ کر خود کو مثبت سوچوں میں مصروف رکھنا۔۔۔۔
فیس بک کمینٹ

