ڈاکٹرصغراصدفکالملکھاری

دربار کی دیواروں کے گلے لگ کر۔۔ڈاکٹر صغرا صدف

جب کبھی اندھا دھند بھاگتی جیون کی گاڑی کے شیشے بے یقینی کی دھند سے مَیلے ہونے لگیں، تکبر اور اَنا کا شر وجود کے شجر کو آکاس بیل کی نگاہ سے دیکھنے لگے، اپنے ہونے کا احساس اس کے ہونے کے احساس سے ج±دا رستے پر نکل پڑے، زمانے اور ذات کے درمیان چپقلش کے باعث ہونے والی پسپائی اور رسوائی روگ بن جائے، دل کے تہہ خانے میں رکھی خواہشات کے جواہر کوڑا کرکٹ میں ڈھلنے لگیں، فکر کی ہر منزل پر شکوک بسیرا کر لیں اور اعمال کی جیب میں بھرے دینار دیمک کے ب±ورے میں بدل جائیں تو ڈانواں ڈول جیون کو خطِ مستقیم پر رواں کرنے کے لئے کسی صوفی یا ولی کے دربار پر رات گئے آلتی پالتی مار کر بیٹھ رہنا ضروری ہو جاتا ہے۔
کئی دن سے احساس ہو رہا تھا کہ ظاہر میں ہونے والی غلطیوں اور کوتاہیوں کا تعلق باطن سے برتی جانے والی بے توجہی ہے۔ نتیجتاً دونوں کی سمت الگ ہوئی جا رہی ہے اسی لئے تو دھیان کہیں اور قدم کہیں ہیں اور یہ بے سمتی وجود کو مسلسل مضمحل کئے جا رہی ہے۔ اندر بیٹھے رہبر نے کئی بار خواب خیال کے ذریعے سوتے جاگتے خبردار کیا، دل نے سائرن بجا کر متحرک کرنے کی کوشش کی، روح نے جگانے کی سعی کی مگر شب و روز کے درمیان جاری دوڑ میں ایک نیم غنودگی جسم و جان پر طاری رہی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کثافت بڑھتی گئی۔ سامنے پڑی شے نظر آنا بند ہوئی، چلتے چلتے ٹھوکر کھا کر گرنے ہی والی تھی کہ کسی الوہی جذبے نے ہاتھ پکڑ لیا۔ میں ا±س کی انگلی تھامے چل پڑی۔ حضرت علی ہجویری کے دربار کے باہر جوتے ا±تار کر پاﺅںنے اس زمین کو چھوا ہی تھا کہ محسوس ہوا کسی نے مضمحل اعصاب میں روحانیت کا انجکشن لگا کر چاق و چوبند کر دیا، نوازشات کی بارش ہونے لگی، ہر شہر پر کرامات کا سایہ ہوتا ہے۔ اسی طرح وجود بھی رحمتوں، برکتوں اور کرامات تلے اپنی سمت درست رکھتا ہے، لاہور کرم کی نوازشات میں بھیگا ہوا شہر ہے۔
اس کی روحانیت میں رچی بسی فضاﺅں نے کتنے اولیاءاور صوفیاءکو بلایا جو اس کی محبت میں یہیں کے ہو رہے اور اس کے نام کو اپنی روشنی سے چمکا کر مزید ا±جاگر کیا۔ حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش کا مزار اس شہر کا مرکزی مقام ہے جو مجھ جیسے عقیدت مندوں کو اپنی جانب کھینچتا رہتا ہے۔ ہر وقت ایک ریل پیل لگی رہتی ہے۔ میں نے دیکھا میں دَرگاہ کی ا±س کھڑکی کے سامنے کھڑی ہوں جس کے اندر علم و عرفان کے پیامبر کی آخری آرام گاہ تھی۔ چھوٹی سی کھڑکی سے صرف چند لمحے نظارے کی اجازت تھی کہ عقیدت مندوں کا ایک ہجوم پیچھے سے ا±منڈا ا?رہا تھا، ا±ن کو بھی اپنے د±کھ بیان کرنے تھے، اپنی خواہشات کو تشفی دینا تھی، اپنے دل میں حوصلہ بھرنا تھا، خود کو دِلاسا دینا تھا اور اپنے جیون کو توازن کی سوئی پر لا کر ٹکانا تھا اِس لئے میں تھوڑا پیچھے ہٹ کر نگاہ اس مقام پر مرکوز کرکے بیٹھ گئی۔
جس جذبے نے میرا ہاتھ پکڑ کر اس مقام تک میری رسائی کو ممکن بنایا تھا، ا±س کے لئے تشکر کے آنسو بہانا لازم تھا۔ پھر تشکر کے یہ آنسو بارش کا روپ دھار گئے۔ میرے احساسات کی، میرے دکھوں کی، میری تشنہ کامیوں اور کوتاہیوں کی د±ھلائی ہونے لگی کیونکہ مجھے میرا ر±وپ لوٹایا جانا تھا، وہ ر±وپ جس پر وقت کی گرد نے کئی تہیں جما رکھی تھیں۔ میں ا±س دِیے کو دیکھ رہی تھی جس کی لَو نے میرے وجود سے رابطہ قائم کر لیا تھا کہ روشنی کا کنکشن ج±ڑتے ہی منظر واضح ہونے لگا۔ دِیے کی آگ میرے دل کے اندر سرایت کر گئی اور ا±ن سب کو جلا کر راکھ کرنے لگی جو میرے لئے نقصان دہ تھے۔ میں نے کئی آوازیں سنیں، رات کے آخری پہر تک وہاں ہزاروں دعاﺅں، خواہشوں اور سسکیوں کی قطار لگی ہوئی تھی۔ بے آسرا لوگوں کے علاوہ وہ بھی شامل تھے جن کو معاشی حوالے سے تو شاید کوئی مسئلہ نہ تھا مگر انہیں کوئی ایسا د±کھ لاحق تھا کہ جس کی داد رسی کے لئے کسی ولی اور صوفی کا سہارا درکار تھا۔ یوں سب عرصے سے باندھ کر رکھی آنسوﺅں کی پوٹلی ا±ٹھائے وہاں آ رہے تھے۔ وہ کچھ دیر روتے، گِڑگڑاتے، نفل پڑھتے، وِرد کرتے اور چلے جاتے۔ یوں تو نیاز کا ایک خاص سلسلہ ہے مگر میرے وہاں بیٹھے میری جھولی میں کبھی کوئی پھل گرتا کبھی ٹافیاں، کبھی مٹھائی اور کبھی کسی آواز پر مجھے ہاتھ پھیلا کر نیاز حاصل کرنا پڑتی۔ واپسی پر چادریں اوڑھے بے س±دھ سوئے لوگوں کو دیکھ کر دل سے د±عا نکلی کہ خ±دا اِس سائبان کو آباد رکھے جہاں دیہاڑی دار مزدوروں، بھکاریوں اور بے سہاروں کو دو وقت کی روٹی بھی م±یسر ہے اور بغیر کرائے کے رہنے کا مقام بھی۔
کئی صاحبِ ثروت لوگوں نے لنگر شروع کر رکھے ہیں مگر وہاں ایک مخصوص تعداد ہی رسائی حاصل کر سکتی ہے۔ یہ صرف اولیاءکا امتیاز ہے کہ ا±ن کے دروازے 24گھنٹے خلق خدا کے لئے کھلے رہتے ہیں۔ یہاں لنگر بھی ہے اور رہنے کا آسرا بھی۔ سوچئے یہ دربار نہ ہو تو د±کھیارے کس کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روئیں، اپنا کتھارسس اور اپنے د±کھوں کا اظہار کریں۔ یہ دیواریں بڑی رازدار ہیں، کسی کو کسی اور کی بات نہیں بتاتیں، تسلی ضرور دیتی ہیں، درد کھینچ لیتی ہیں، آنسو جذب کرلیتی ہیں اور انسان کو شفاف بنا کر دوبارہ زندگی کی سڑک پر دھکیل دیتی ہیں۔
(بشکریہ:روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker