Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
اتوار, مئی 17, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • Discover the amazing world of casinos: How to maximize your chances of winning Kasína sú fascinujúcim svetom plným vzruš
  • Traktandum 10: Unser Casino energy Login besten Androide Casino Echtgeld Apps 2026
  • Erreichbar Kasino PayPal 2026 » Jedweder PayPal Castle Builder Spielautomaten Casinos inoffizieller mitarbeiter Übersicht
  • 100 Freispiele ohne starburst kostenlose Spins keine Einzahlung Einzahlung Traktandum Register Wonnemond 2026
  • Beste Angeschlossen Beste Casino -Boni Echtgeld Poker Seiten 2026 inoffizieller mitarbeiter Kollation
  • Spielbank gebührenfrei online aufführen verde casino Promos 20 500+ Gebührenfrei Games 2026
  • Book of Dead Online -Casinos, die schnell zahlen Erfahrungen 2026 Abzocke unter anderem vertrauenswürdig?
  • Book Galactic Win Slot für Geld of Dead Vortragen Eltern jetzt inside Deutschland!
  • Mr Bet Casino Maklercourtage abzüglich Einzahlung fat santa Video -Slot einbehalten 50 FS
  • Mr Green Kasino Teutonia sphinx 3d Spielautomat Boni bloß Einzahlung 2026 Testbericht
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»تازہ ترین»ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کا کالم : امریکی ویزا، ایڈولیسنیس اور چودہ سالہ پاکستانی امریکن ٹک ٹاکر لڑکی کا قتل
تازہ ترین

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کا کالم : امریکی ویزا، ایڈولیسنیس اور چودہ سالہ پاکستانی امریکن ٹک ٹاکر لڑکی کا قتل

ایڈیٹراپریل 9, 202524 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
tik toker hira
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

پچھلے ہفتے بہت سی باتیں ہوئیں اور سب ہی سنانے کو جی چاہتا ہے۔امریکہ جو ہمارا محبوب بھی ہے اور دشمن جاں بھی، جہاں پہنچنے کو ہر کسی کا جی چاہتا ہے مگر گالی بھی اسی کو دی جاتی ہے۔ عجیب محبت و نفرت کا رشتہ ہے۔
پچیس تیس برس پہلے پاکستانی عوام ان ممالک میں شامل تھے جو ویزا لاٹری میں درخواست ڈال سکتے تھے۔ سچ پوچھیے تو لاٹری وغیرہ پہ یقین کچھ کم ہی تھا کہ ہمارا کبھی چار پیسے کا انعام نہیں نکلا کجا امریکی ویزا اس لئے درخواست ڈالنے کی زحمت ہی گوارا نہ کی۔ چونکے اس دن جب صاحب کے کزن نے بوریا بستر لپیٹا یہ کہتے ہوئے کہ لاٹری میں نام آ گیا ہے۔
بہت لوگ امریکہ گئے، وہاں آباد ہوئے مگر امریکہ جانے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اپنی اولاد کو امریکی بننے کی چھوٹ دے دی جائے، خاص طور پہ بیٹیوں کو۔ بھلے وہ امریکی سکول جائیں، امریکی بچوں کے ساتھ پڑھیں، دن رات اس کلچر میں رہیں مگر صاحب ان کا رہن سہن طور طریقہ اماں ابا کے آبائی وطن جیسا ہی ہونا چاہیے۔ اماں ابا کیوں پروا کریں کہ سکولز میں ساتھی بچے ان کا مذاق اڑاتے ہیں، اکیسویں صدی میں رہتے ہوئے پچھلی صدی میں زندگی بسر کرنے کی جستجو، پاگل پن ہی تو ہے۔
ہم میں سے بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے کہ ٹین ایج سے گزرتا بچہ طبعی طور پہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں ہوتا۔ نہ وہ بچہ ہے اور نہ بڑا۔ بیچ میں کہیں جھولتا ہوا، تبدیلی کے پل سے گزرتا بچہ کس قدر خوفزدہ اور شکوک و شبہات کا شکار ہے، یہ کوئی نہیں جان پاتا۔ اور اگر یہ بچہ ایشیائی ہو تو مرے پہ سو درے۔ ایشیائی ماں باپ کی خونخوار نظریں، دن رات کی نصیحتیں، بچوں کو بدیس سے واپس دیس لے جانے کی ترکیبیں، جلد از جلد نکاح پڑھوانے کے منصوبے تاکہ ان کی لڑکی کہیں ویسی امریکی نہ بن جائے جنہیں دیکھ کر وہ لاحول پڑھتے ہیں۔ ناسمجھ لوگ، پودا بدیسی زمین میں لگا کر چاہتے ہیں کہ پھل دیسی آئے۔ ایک اور ستم ظریفی یہ کہ بیٹوں کی طرف سے آنکھ بند کر لی جاتی ہے کہ غیرت وغیرہ کا مسئلہ نہیں ہوتا مگر بیٹیوں کی طرف سے چوکنی آنکھیں مزید کھول لی جاتی ہیں کہ کہیں کوئی پرندہ بھی نہ پر مارے۔
یہ تمہید کیوں باندھی گئی ہے وہ تو ہم بعد میں بتائیں گے پہلے یہ سن لیں کہ پچھلے ہفتے نیٹ فلیکس پہ adolescense نامی ڈرامہ ریلیز ہوا جس نے سب والدین کے پاؤں نیچے سے زمین نکال دی۔ تیرہ سالہ بچہ اپنی ہی عمر کی کلاس فیلو لڑکی کو قتل کر دیتا ہے۔ وجہ ٹین ایج بچوں میں رونما ہونے والی جنسی تبدیلیاں، خود کو نا اہل سمجھنے کی غلط فہمی، ساتھی بچوں کی طرف سے تضحیک، تحقیر اور مذاق، سوشل میڈیا ایپس اور استعمال ہونے والے وہ اشارے اور زبان ہیں جو میں اور آپ سمجھ ہی نہیں سکتے۔ جب سمجھ نہیں سکتے تو بچوں کو سمجھا کیا سکتے ہیں؟ قتل کی تحقیق کرنے والے پولیس افسر کو جب قتل کرنے کی وجہ ڈھونڈنے میں ناکامی ہوتی ہے تو اس کی مدد کرنے کے لیے اسی کا ٹین ایجر بیٹا سامنے آتا ہے جو باپ کو اُدھر اُدھر سر پٹختے دیکھ کر جان چکا ہے کہ ہماری دنیا کی بات باپ کی سمجھ میں آنے والی نہیں چاہے وہ Detective ہی کیوں نہ ہو۔
سوچیئے برطانوی پولیس افسر ان اشاروں کی زبان نہیں سمجھتا تو ہم اور آپ کس کھیت کی مولی ہیں؟
اکیسویں صدی کے اس دور میں سوشل میڈیا، انٹرنیٹ اور مختلف گیجٹس نے پوری دنیا کی نئی نسل کو آپس میں جوڑ تو دیا ہی ہے لیکن وہ ایک نئی دنیا میں بھی داخل ہو گئے ہیں جس کے متعلق والدین کچھ نہیں جانتے۔ کسی سے بھی کچھ چھپا ہوا نہیں اور کوئی بھی کچھ بھی دیکھ سکتا ہے۔ مختلف گھروں / کلچر / معاشروں سے تعلق رکھنے والے بچوں کے لیے تو یہ اور بھی مشکل ہے کہ گھر کے بڑوں کا پریشر بھی برداشت کریں اور باہر کے ساتھیوں کا طعن و تشنیع بھی۔
لمحہ فکریہ ہے لیکن کیا کیا جائے؟ جدید دنیا کے آندھی کی مانند بدلتے تقاضوں سے بچے تو بوکھلائے ہوئے ہیں ہی، ساتھ میں جاہل والدین نے زندگی مزید مشکل بنا دی ہے۔ لیکن کیا اس کا حل یہ ہے کہ بچوں کو موت کے گھاٹ اتار کر سمجھا جائے ہم پُگ گئے اور عزت بچ گئی۔ ایسا کرنے والے کو احمقوں کی جنت کا باسی ہی سمجھا جا سکتا ہے۔لیکن کیا کریں وطن عزیز سے اٹھ کر ایسے بے شمار احمق دنیا بھر میں اپنی جنت بنا چکے ہیں جنہیں رہائش کے لیے تو جدید دنیا چاہیے مگر لوازمات پچھلی صدی والے۔ جس میں بیٹی کو نکیل ڈال کر بھیڑ بکری کی طرح ہانکا جاتا تھا۔ وقت پہ چارہ، ادھر ادھر جانے کی پاداش میں ہاتھ میں پکڑی سوٹی کا بے دریغ استعمال اور ضرورت پڑنے پہ قربانی۔
لیکن ہوا کا رخ بدلنے کے ساتھ ساتھ جدید دنیا کی بچی کو علم ہے کہ وہ دوسرے درجے کی شہری نہیں۔ جتنی ڈھیل اس کے بھائی کو دی جاتی ہے وہ بھی اسی کی مستحق ہے۔آغاز میں ہم نے جو تمہید باندھی تھی، اس کی طرف آتے ہیں۔
نیویارک میں پیدا ہونے والی پاکستانی ماں باپ کی چودہ سالہ بیٹی پاکستان واپس لا کر قتل کر دی جاتی ہے۔ پچیس برس پہلے پاکستانی باپ امریکی لاٹری کے ذریعے امریکہ پہنچا، ٹیکسی ڈرائیونگ سے روزی کمائی، تین بیٹیوں کا باپ بنا اور پھر یاد آ گیا کہ اس کی خاندانی روایات کے مطابق لڑکیوں کو اس قدر ڈھیل نہیں دی جا سکتی۔
بیٹی کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ ابا کو پسند نہیں آیا، بیٹی اکاؤنٹ بند کرنے پہ راضی نہیں ہوئی سو اس کا حل یہ نکالا گیا کہ اس بچی کو اگلی دنیا روانہ کر دیا جائے۔ زمینی خداؤں کی غیرت کے بھی کئی تقاضے ہوتے ہیں جن میں سب سے اہم بیٹیوں اور بہنوں کو موت کے حوالے کرنا ہے۔
نیویارک میں رہتے ہوئے تو یہ ممکن نہیں سو بچی کو پاکستان گھمانے کے بہانے لایا جاتا ہے گھومنا پھرنا، شاپنگ کروانا۔ بچی بے انتہا خوش نظر آتی ہے اور اس تفریح کی تصویریں و وڈیوز اپنے امریکی دوستوں کو بھیج کر بتاتی ہے کہ وہ کس قدر خوش ہے۔ غالباً ابا بیٹی کو قربان کرنے سے پہلے دنیا / خاندان کو یہ امپریشن دینا چاہتا تھا کہ اسے بیٹی سے کس قدر محبت ہے۔ اس مصنوعی محبت کے ساتھ ساتھ وہ بچی کے ماموں سے مل کر بچی کو قتل کرنے کا منصوبہ بناتا ہے۔ سنگدلی کی انتہا دیکھیے کہ دو مرد، باپ اور ماموں، چودہ برس کی بچی کو قتل کرنے کے منصوبے تیار کر رہے ہیں اور بچی باپ اور ماموں کے ساتھ خوشی اور اعتماد سے دن گزار رہی ہے۔ آخر ڈکیتی کا رنگ دیتے ہوئے بچی کو دن دیہاڑے گولی مار دی جاتی ہے اور بچی باپ کو پکارتے پکارتے مر جاتی ہے یہ جانے بغیر کہ وہی اس کا قاتل ہے۔
نیویارک ٹائمز نے حرا کی کہانی سیاق و سباق کے ساتھ لکھی ہے۔ اور ایک ایسے وقت میں جب پاکستانیوں کو امریکی ویزا دینے کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ حرا کے متعلق سوچتے ہوئے ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ شاید ایسا کرنا ٹھیک ہی ہے۔اگر والدین بیٹیوں کو غاروں کے زمانے میں رہ کر پروان چڑھانا چاہتے ہیں تو پھر امریکہ جانے کی کیا ضرورت؟ دیس ہی بھلا، جہاں جب چاہیں خود گردن اتاریں، جب چاہیں کسی اور ظالم کے حوالے کر کے مونچھوں پہ تاؤ دیتے ہوئے اپنی غیرت کے قصے سنائیں چاہے غیرت کی بنیادوں میں بے شمار عورتوں کا لہو کیوں نہ ہو۔
( بشکریہ : ہم سب ۔۔ لاہور )

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

ٹک ٹاکر خواتین قتل کیس
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleیاسر پیر زادہ کا کالم : اور جب زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائیگا…!
Next Article پنجاب کے اسکولز میں خواتین اساتذہ کیلئے شلوارقمیض اور دوپٹہ لازم
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

کراچی پریس کلب کے باہر انسانی حقوق کی کارکن شیما کرمانی گرفتار : 5 پولیس افسران کے خلاف ایکشن

مئی 6, 2026

ممتاز آباد ملتان میں خاتون اور بچیوں کی خود کشی کا معمہ حل : شوہر نے قتل کا اعتراف کر لیا

مئی 6, 2026

عورت کا جائیداد میں حصّہ۔ تنقید کیوں؟ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم

اپریل 5, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • Discover the amazing world of casinos: How to maximize your chances of winning Kasína sú fascinujúcim svetom plným vzruš مئی 17, 2026
  • Traktandum 10: Unser Casino energy Login besten Androide Casino Echtgeld Apps 2026 مئی 17, 2026
  • Erreichbar Kasino PayPal 2026 » Jedweder PayPal Castle Builder Spielautomaten Casinos inoffizieller mitarbeiter Übersicht مئی 17, 2026
  • 100 Freispiele ohne starburst kostenlose Spins keine Einzahlung Einzahlung Traktandum Register Wonnemond 2026 مئی 17, 2026
  • Beste Angeschlossen Beste Casino -Boni Echtgeld Poker Seiten 2026 inoffizieller mitarbeiter Kollation مئی 17, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.