صوبہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے نہ صرف آدھا پاکستان ہے بلکہ قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ اللہ تعالی نے بلوچستان کو ایک ایسے ساحل سے نوازا ہے جہاں سال بھر سمندری راستہ کھلا رہتا ہے ۔ گوادر جیسے عظيم بندرگاہ بھی بلوچستان کو نصیب ہوا ہے طویل ساحل سمندر اور گوادر بندرگاہ نے بلوچ سرزمين کی اہمیت و افادیت میں اضافہ کردیا ہے ۔
گوادر اور بلوچستان کی یہ ا ہمیت ہمیشہ رہی ہے اور طاقتور قوتوں نے ہردور میں قبضہ و تاراج کرنے کی کوشش کی ہے ۔وہ الگ بات ہے کہ سپوتوں نے اپنے خطے کی دفاع ہمیشہ بہادری و جوانمردی سے کیا ہے۔بلوچ ساحل میں آبادی کی اکثریت ماہی گیری کے پیشے سے تعلق رکھتی ہے۔ ساحلی علاقوں میں آباد مقامی ماہی گیر سخت محنت اور جانفشانی سے گہرے سمندر میں جاکر اپنی روزی روٹی تلاش کرتے ہیں۔ گوادر شہر جہاں 2002 میں جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں چین کی تعاون سے چوبيس کروڑ ڈالر روپے کی لاگت سے گوادر پورٹ بنایا گیا اور 2007 میں پورٹ تکمیلی مرحلے میں پہنچا . گوادر پورٹ سے قبل یہاں کی آبادی کو ہر وقت حکومتی حلقوں نے یقين دلانے کی کوشش کی کہ پورٹ کی تکميل سے بلوچستان کی معاشی ، معاشرتی اور سماجی حیثیت تبدیل ہوگی ، مگر حقيقت اس کے برعکس ثابت ہونا شروع ہوگیا ہے ۔
پورٹ ایریا میں مقامی ماہی گیروں کےگزرگاہ محدود کردی گئی ہے ۔ دوسری جانب ماہی گیروں کے مستقبل کے خواب اس وقت چکنا چور ہوگئے جب حکومتی سرپرستی میں سمندری حیات کی نسل کشی غیر قانونی ماہی گیری اور ممنوع جالوں کے استعمال سے شروع کی گئی ۔گزشتہ چند سالوں سے ماہی گیروں کے روزگار غیر قانونی ٹرالر مافيا کی وجہ سے ختم ہوگیا ہے۔
حکمرانوں اور محکمہ فشریز سے تنگ آخر 15نومبر سے گوادر کے ہزاروں ماہی گيروں نے جماعت اسلامی کے صوبائی سکریٹری جنرل مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کی قیادت میں ،، حق دو بلوچستان ،، تحریک شروع کررکھی ہے. گزشتہ ایک مہینے سے گوادر میں دھرنا جاری ہے. مقامی لوگوں کا مطالبہ ہے کہ سمندری حیات کی نسل کشی اور غیر قانونی ماہی گیری ختم کی جاٸے اور ایرانی بارڈر ٹریڈ کے بندش اور ٹوکن سسٹم کا خاتمہ کیا جائے ۔ وزیراعظم نے گوادر کے ماہی گیروں کے مطالبات کو جائز قراردے کر سخت نوٹس لیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ عمل درآمد کی صورت میں اپنا دھرنا ختم کریں گے۔
دوسری جانب بلوچ قوم پرست حلقوں میں مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کے دھرنے سے شدید بے چینی پائی جاتی ہے کیونکہ قوم پرستوں کو خدشات لاحق ہے کہ کہیں ان کی سیاست ختم نہ ہوجائے اگر دیکھا جائے ساحلی علاقوں میں قوم پرست پارليمانی پارٹيوں کی کارکردگی شدید مایوس کن ہے۔
قوم پرست حلقوں کے مایوسی میں اس وقت اضافہ ہوا جب حقوق انسانی کے عالمی دن کی مناسبت سے مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کی قیادت میں گوادر شہر میں دو لاکھ کے قریب افراد نے ریلی میں شرکت کیا ۔ اب بھی مولانا پر مید ہیں کہ وہ جمہوری طریقے سے اپنے بنیادی حقوق لینے میں کامیاب ہوں گے۔۔
فیس بک کمینٹ

