روجھان: پولیس نے چک دلبر گاؤں میں ایک فحاشی کے اڈے سے 13 سالہ لڑکی کو برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
مذکورہ لڑکی کے والد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جس نے اسے مبینہ طور پر مجرموں اور ایک نائیکہ کو فروخت کردیا تھا۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو آنے کے بعد منظر عام پر آیا۔
ویڈیو میں ایک نامعلوم شخص ایک 13 سالہ لڑکی تصویر دکھاتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ اسے اس کے والد نے روجھان کے گاؤں چک دلبر میں ایک فحاشی کا اڈا چلانے والے مجرموں کو فروخت کردیا ہے۔مذکورہ ویڈیو میں اس شخص نے عوام سے نابالغ لڑکی کو فحاشی کے اڈے سے بچانے کی اپیل بھی کی تھی۔
روجھان کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) محمد اسحٰق نے بتایا کہ اڈے پر نابالغ لڑکی کی موجودگی کی تصدیق کے لیے انہوں نے ایک مخبر کو گاؤں بھیجا جس نے خاتون نائیکہ سے رابطہ کیا۔تفصیلات بتاتے ہوئے ایس ایچ او نے کہا کہ مخبر نے اپنے آپ کو گاہک ظاہر کرتے ہوئے نائیکہ سے لڑکی کو لانے کو کہا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ خاتون نے پولیس مخبر سے 1500 روپے وصول کیے اور جیسے ہی وہ لڑکی کو لے کر آئی، پولیس کی ایک ٹیم نے کوٹھے پر چھاپہ مارا اور خاتون کو گرفتار کرنے کے علاوہ اسے حفاظتی تحویل میں لے لیا۔
ایس ایچ او نے بتایا کہ لڑکی نے پولیس کو تصدیق کی کہ اس کے والد نے اسے فحاشی کا اڈا چلانے والے مجرموں کو فروخت کردیا تھا۔
راجن پور کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد افضل نے ڈان کو بتایا کہ پولیس نے نابالغ لڑکی کے والد کو بھی گرفتار کر لیا ہے جبکہ خاتون اور لڑکی کے والد کے خلاف دفعہ 371اے، 371بی اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے ایکٹ 2018 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )
فیس بک کمینٹ

