نیو یارک : معروف نقاد محقق اور اردو کے اسکالر آج طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ وہ کچھ عرصہ سے امریکہ میں مقیم تھے۔ 91 سالہ گوپی چند نارنگ نے آج صبح امریکہ میں آخری سانس لی۔ انہوں نے اردو ادبی تنقید میں نئے نظریات متعارف کرائے جن میں اسلوب نگاری، ساختیات، مابعد ساختیات وغیرہ شامل ہیں۔
انہیں یہ اعزاز حاصل تھا کہ انہیں ہندوستان اور پاکستان دونوں کے صدور نے اعزازات سے نوازا ۔ پروفیسر نارنگ کو حکومت پاکستان کی طرف سے ستارہ امتیاز اور حکومت ہند کی طرف سے پدم بھوشن اور پدم شری سے نوازا گیا۔
ان کے کاموں نے انہیں کئی اور اعزازات بھی دلائے، جن میں سے کچھ میں اٹلی کا مزینی گولڈ میڈل، شکاگو کا امیر خسرو ایوارڈ، غالب ایوارڈ، کینیڈین اکیڈمی آف اردو لینگویج اینڈ لٹریچر ایوارڈ، اور یورپی اردو رائٹرز سوسائٹی ایوارڈ شامل ہیں۔ ساہتیہ اکادمی نے انہیں 2009 میں اپنی باوقار فیلوشپ سے نوازا تھا۔ نارنگ نے ہندی اور انگریزی میں کتابیں بھی تصنیف کیں۔ وہ اردو کے زبردست حامی تھے اور اس پر افسوس کرتے تھے کہ یہ زبان سیاست کا شکار رہی ہے ان کا مؤقف تھا کہ اردو کی جڑیں ہندوستان میں ہیں اور یہ ہندی کی بہن زبان ہے۔
ڈاکٹرگوپی چند نارنگ نے ادب، شاعری، تنقید اور ثقافتی علوم پر60 سے زائد کتب تصنیف کیں۔ ان کی تصنیفات کی دیگر زبانوں میں بھی ترجمے کیے گئے۔
فیس بک کمینٹ

