حامد میرکالملکھاری

حامد میرکا کالم:سچّل کی عید روتے گزرے گی!

سچل اکیلا رہ گیا۔ وہ صرف چھ ماہ کا تھا جب اُس کا باپ غائب ہو گیا۔ کل اس کی ماں بھی اچانک یہ دنیا چھوڑ کر چلی گئی۔ سچل کی عمر صرف تین سال ہے۔ وہ کل سے اپنی ماں کو ڈھونڈ رہا ہے لیکن اُس کے ارد گرد موجود افراد مسلسل روئے چلے جا رہے ہیں۔ مجھے اجمل جامی کے ایک ٹوئٹ سے پتا چلا کہ سچل کی ماں ہارٹ اٹیک سے چل بسی۔ جامی نے اپنی ٹوئٹ میں تین سالہ سچل کی تصوپر پر لکھا کہ باپ لاپتہ، ماں چل بسی اب سچل کی زندگی میں کیا رہ گیا ہے؟ میں کل سے اس سادہ سے سوال کے سامنے سر جھکائے بیٹھا ہوں۔ میں چشمِ تصور میں دیکھ رہا ہوں کہ اگر سچل کا باپ واپس نہ آیا تو یہ بچہ ہوش سنبھالنے کے بعد سڑکوں پر یہ نعرہ لگاتا نظر آئے گا کہ ’’لاپتہ افراد کو بازیاب کرو‘‘۔
سچل کا باپ بھی شاعر تھا اور ماں بھی شاعرہ تھی۔ شاید اسی لئے اُن دونوں نے مل کر اپنے بیٹے کا نام سچل رکھا جو ہفت زبان تھے۔ سچل سرمست سندھی، سرائیکی، پنجابی، اردو، فارسی، بلوچی اور عربی میں شاعری کرتے تھے اور سچی بات کہنے کی وجہ سے سچل کہلائے۔ سچل سرمست کا نام پانے والا یہ بچہ جب چیخ چیخ کر یہ پوچھے گا کہ بتاؤ میرا باپ کہاں ہے تو اسے بھی غدار اور ملک دشمن قرار دے کر خاموش کرانے کی کوشش کی جائے گی۔ جب یہ سوال پوچھنے سے باز نہ آئے گا تو ہو سکتا ہے کہ ایک دن سچل کو بھی غائب کردیا جائے۔ کیا سچل کو غائب کر دینے سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے آوازیں خاموش ہو جائیں گی؟ نہیں۔ یہ آوازیں خاموش نہیں ہوں گی۔ ریاست نے بہت زور لگا لیا، بہت جتن کر لئے لیکن جب بھی کسی ایک فرد کو لاپتہ کیا گیا تو اس کے لئے سینکڑوں ہزاروں نئی آوازیں اٹھنے لگیں۔ ریاست کو فائدہ نہیں، نقصان ہوا۔ ریاست نے ایک نسل کو خاموش کرانے کے لئے بڑی تعداد میں لوگوں کو لاپتہ کیا تو دوسری نسل نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے آواز اٹھانا شروع کردی۔ اب یہ ریاست ایک تیسری نسل کو اسی کام پر لگانے کی تیاری میں ہے اور اس نسل کی قیادت سچل کرے گا۔ جو لوگ سچل کے باپ اور ماں کو ریاست کا دشمن قرار دیتے تھے وہ سچل کو بھی ریاست کا دشمن کہیں گے اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو سچل اور ریاست کے درمیان فاصلے کبھی کم نہ ہوں گے۔
سچل کا باپ کون تھا؟ سچل کے باپ کا نام مدثر محمود نارو تھا۔ وہ 1984 میں فیصل آباد میں پیدا ہوا۔ زمانۂ طالب علمی میں اس نے پنجابی کے ایک مقامی شاعر انجم سلیمی سے متاثر ہوکر شاعری شروع کردی۔ 2004میں وہ لاہور آگیا اور مشہور شاعر خالد احمد کی شاگردی اختیار کی۔ اس دوران پاکستان ٹیلی ویژن پر اسکرپٹ رائٹنگ شروع کردی۔ حلقہ اربابِ ذوق لاہور میں اپنی شاعری اور کہانیاں سنانی شروع کردیں۔ مدثر نارو کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا۔ وہ خود کما کر پڑھائی کرتا رہا۔ 2008میں اس نے ابلاغیات میں ماسٹرز کر لیا۔ پھر اس نے نیشنل کالج آف آرٹس لاہور سے فلم میکنگ کی تعلیم حاصل کی اور یہیں پڑھانا بھی شروع کردیا۔ طبیعت میں بےچینی تھی۔ درس و تدریس چھوڑ کر دستاویزی فلمیں بنانی شروع کردیں۔ پہلی ڈاکیومنٹری قائداعظم محمد علی جناحؒ پر بنائی جو ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل پر نشر ہوئی۔ دو تین چینلز پر نوکریاں کرنے کے بعد اس نے اپنا اسٹوڈیو بنا لیا۔ ایک ڈاکیومنٹری سعادت حسن منٹو پر بنائی۔ پھر فیصل آباد کی پاور لومز کے مزدوروں کے مسائل پر ’’لذت سنگ‘‘ کے نام سے ڈاکیومنٹری بنائی تو پتہ چلا کہ وہ محنت کش طبقے کے درد کو اپنا درد سمجھتا ہے۔ اس دوران اس نے صدف چغتائی سے شادی کر لی۔ یہ خاتون بھی شاعری اور فلم میکنگ میں دلچسپی رکھتی تھی۔ میاں بیوی اپنے کام میں مگن ہو گئے لیکن صدف کبھی کبھی مدثر نارو کے لب و لہجے میں غیرجمہوری قوتوں کے لئے موجود بہت زیادہ تلخی پر پریشان ہو جاتی۔ مدثر اپنے فیس بک پیج پر ایسی باتیں لکھ دیتا تھا جو کچھ محب وطن عناصر کو بڑی ناگوار گزرتیں۔ پھر مدثر کو دھمکیاں ملنے لگیں تو اس نے اپنے فیس بک پر لکھا کہ مجھے دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ اگست 2018میں مدثر اپنی بیوی صدف اور چھ ماہ کے بیٹے سچل کے ساتھ سیر و تفریح کے لئے کاغان گیا۔ ایک دن وہ اپنی چھوٹی سی فیملی کے ساتھ دریائے کنہار کے کنارے بیٹھ کر چائے پی رہا تھا۔ اس نے اپنی بیوی کو کہا کہ وہ دریا کے پاس ہی موجود ایک ٹریک پر واک کے لئے جا رہا ہے اور کچھ دیر میں واپس آ جائے گا۔ صدف نے خیال کیا یہ اپنی کسی ڈاکیومنٹری کے لئے لوکیشن ڈھونڈ رہا ہے۔ اس نے مدثر سے کہا کہ ذرا جلدی واپس آنا۔ مدثر واک پر نکل گیا اور صدف اس کا انتظار کرنے لگی۔ کافی دیر تک وہ واپس نہ آیا تو صدف نے اسے تلاش کرنا شروع کیا۔ ایک راہ گیر نے صدف کو بتایا کہ اس نے دو بجے دوپہر اس کے خاوند کو ٹریک پر واک کرتے دیکھا تھا۔ صدف مقامی پولیس کے پاس گئی تو پولیس کا رویہ بڑا مشکوک تھا۔ پولیس نے ناصرف صدف کی طرف سے خاوند کی گمشدگی کی ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کیا بلکہ جس مقامی شخص نے مدثر کو دوپہر دو بجے دیکھا تھا اس پر بیان بدلنے کے لئے دباؤ ڈالا۔ صدف نے شور مچایا تو اس پر الزام لگا دیا کہ تم نے اپنا خاوند خود غائب کیا ہے لیکن مدثر کے والد رانا محمود اکرام نے واضح موقف اختیار کیا کہ ان کے بیٹے کو اس کے سیاسی خیالات کی وجہ سے غائب کیا گیا ہے۔ پھر صدف نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے قائم کمیشن کے چکر لگانا شروع کئے۔ بڑی دوڑ بھاگ کرنے اور کافی مہینوں بعد مدثر کی گمشدگی کی ایف آئی آر درج ہوئی۔ اس دوران صدف اور اس کی ساس نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے مظاہروں میں جانا شروع کردیا جن میں صدف اپنے خاوند کی تصویر اٹھا کر نعرے لگاتی اور اس کی ساس بےبی اسٹرولر میں بیٹھے ننھے سچل کو سنبھالتی۔ مارچ میں یہ دونوں عورتیں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ہونے والے مظاہرہ میں بھی آئیں۔
مدثر کے والد نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں بیٹے کی بازیابی کے لئے درخواست دائر کی لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ اب صدف اپنے خاوند کی بازیابی کے لئے اقوامِ متحدہ سے رابطوں کی کوشش میں تھی لیکن 8مئی کو یہ جواں سال عورت ہارٹ اٹیک سے چل بسی۔ اب سچل اپنے دادا دادی اور نانا نانی کی ذمہ داری بن گیا ہے لیکن سچل دراصل اس ریاست کی ذمہ داری ہے۔ سچل نے اپنی زندگی کی تین عیدیں باپ کے بغیر گزاریں۔ اس عید پر ماں بھی ساتھ نہ ہوگی اور وہ بوڑھے دادا دادی کو روتے دیکھ کر عید گزارے گا۔ کاش کوئی سچل کو اس کا باپ لوٹا دے!
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker