”ہالی وڈ“ اور ”ڈاکٹر ڈڈول“ حقیقی زندگی کے دو جیتے جاگتے کردار تھے۔ 1976ءکا ذکر ہے مَیں حصولِ تعلیم کی غرض سے لاہور میں مقیم تھا۔ رہائش ”جمیل گیسٹ ہاؤس“ کے نام سے موسوم ایک پرائیویٹ ہوسٹل میں تھی جو شاہ ابولمعالی روڈ پر واقع بزرگ شاہ ابوالمعالی کے مزار کے عقب کی ایک گلی میں واقع تھا۔ یہ سڑک لاہور ہوٹل چوک پر میکلوڈ روڈ کو دل محمد روڈ سے منسلک کرتی تھی۔ مزار کے اندر ایک قدیم مسجد کی محراب کے پیچھے گلی میں اس ہوسٹل کا صدر دروازہ کھلتا تھا۔ میکلوڈ روڈ سے آنے والی سڑک گوالمنڈی کی طرف نکل جاتی تھی۔ چوک میں دوسری سڑک ریاضی کے نامور معلّم خواجہ دل محمد کے نام سے موسوم ”دل محمد روڈ“ دالگراں چوک کو دیال سنگھ کالج اور اس کے ہوسٹل کے پہلو سے ہوتی ہوئی نسبت روڈ سے ملاتی تھی۔ چوک جہاں دونوں سڑکوں کا ملاپ ہوتا ہوسٹل کے عقب میں نہایت بارونق علاقے میں واقع تھا۔
جمیل گیسٹ ہاؤس میں لگ بھگ تیس کمرے تھے جن میں بیشتر ملازمت پیشہ افراد اور مجھ جیسے اکاؤنٹنسی کے شعبے میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم رہائش پذیر تھے۔ عمارت میں تین جانب رہائشی کمرے اور ایک جانب بیت الخلا اور غسل خانے تعمیر کیے گئے تھے۔ درمیان میں ایک وسیع صحن تھا جس میں اوپر کی منزل پر جانے کے لیے زینہ تھا۔ اوپر کی منزل میں رہائشی کمروں کے آگے چار فٹ کی بالکنی تھی۔ کسی بھی کمرے میں دروازے پر کھڑے ہو کر گیسٹ ہاؤس میں واقع تمام کمروں کا نظارہ کیا جا سکتا تھا بلکہ غسلخانوں کے کھلے دروازوں سے ان کی دستیابی کا اندازہ بھی لگایا جا سکتا تھا۔
پہلی اور دوسری منزل پر غسل خانوں کے دونوں جانب واش بیسن لگے ہوئے تھے جن کے اوپر بڑے آئینے نصب تھے۔ نچلی اور اوپر کی منزل پر صبح کے وقت خوب چہل پہل ہوتی جبکہ دن بھر یہ گیسٹ ہاؤس سونا پڑا رہتا تھا۔ مکینوں کی موجودگی کے دوران دروازے اکثر کھلے رہتے تھے اور کمروں کے دروازے اور کھڑکیوں پر چلمنیں آویزاں تھیں۔ واش بیسن کے گرد صبح کے وقت مسواک اور دانتوں کا برش لیے افراد اپنی باری کے انتظار میں کھڑے رہتے۔ چہرے پر شیونگ کریم سے جھاگ بنا کر اور ہاتھ میں سیفٹی ریزر پکڑے آئینے میں چہرے کی ذرا سی جھک دیکھ کر شیو بنانے والے بھی وہیں موجود ہوتے اور کسی غسل خانے کا دروازہ کھلتے ہی کئی افراد لپک کر بھاگتے۔ تیز و طرار بازی جیت لیتے اور پیچھے رہ جانے والے محض آوازے کستے رہتے۔
صحن میں ملکی سیاست اور حالاتِ حاضرہ پر تبصرہ ان ذاتی مشاغل کے دوران بھی جاری رہتا اور اس بحث میں غسل میں مصروف افراد بھی برابر کے شریک رہتے۔ غسل خانوں میں قد کے برابر نصب ٹونٹیوں سے پانی کی موٹی دھار گرمیوں میں ٹھنڈا اور جاڑوں میں سادہ پانی بہاتی باہر منجمد کر دینے والی سردی کے باعث یہ سادہ پانی بھی کوسا محسوس ہوتا تھا۔ چھت تک تقریباً چار فٹ جگہ خالی تھی لہٰذا دورانِ غسل باہم گفتگو میں کوئی رخنہ نہ پڑتا تھا۔ کبھی کسی دروازے کی چلمن سرکتی اور اندر سے خالی غسلخانے کی تاک میں بیٹھا کوئی مکین کاندھے پر تولیہ ڈالے ہاتھ میں صابن دانی پکڑے نہایت سرعت سے نکلتا اور غسلخانے میں داخل ہو جاتا۔ انتظار میں کھڑے دیگر افراد ہاتھ ملتے رہ جاتے۔ پھر اس کے بعد محبت سے لبریز دشنام طرازی اور قہقہوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا۔ ان میں دو آوازیں ہمیشہ نمایاں ہوتی تھیں ایک سلیم عرف ”ہالی وڈ“ کی اور دوسری اختر المعروف ”ڈاکٹر ڈڈول“ کی۔
گیسٹ ہاؤس کے مالک کا نام غوری تھا۔ چھوٹے قد اور برمی خدوخال والا ایک ادھیڑ عمر ملنسار شخص۔ وہ رنگ محل کے علاقے میں رہائش پذیر تھا اور بلاناغہ گیسٹ ہاؤس میں آ کر بیٹھتا تھا۔ گیسٹ ہاؤس میں داخل ہوں تو بائیں جانب ایک چھوٹا سا کمرہ اس کا دفتر تھا جس میں ایک میز دو کرسیاں اور ایک الماری رکھی ہوئی تھی۔ غوری نے اپنا دفتر بھی کرایہ پر دے رکھا تھا۔ سلیم ہالی وڈ کی ڈیوٹی کے اوقات میں یہ کمرہ غوری کے دفتر کا کام دیتا تھا اور اس کی واپسی پر جب غوری اپنے گھر روانہ ہو چکتا تو یہ کمرہ سلیم کے تصرف میں آ جاتا۔ دفتر میں سلیم کی اشیاءبکھری رہتی تھیں۔ چارپائی کے نیچے ٹرنک، کھونٹی کے علاوہ دروازوں اور کھڑکیوں پر کیلوں سے لٹکے ہوئے کپڑے غوری کی میز کرسی کے نیچے رکھے جوتے، سفری تھیلے اور سٹینو سلیم کی دفتر سے لائی ہوئی فائلیں۔ غوری کی میز پر سلیم کے کپڑوں کا ڈھیر اور بجلی کی استری رکھی رہتی تھی۔ فرش پر ڈمبلوں کی جوڑی اور غوری کی کرسی پر چھاتی چوڑی کرنے والا سپرنگ رکھا رہتا تھا۔ سلیم کی چارپائی عین دروازے کے آگے رکھی ہوتی تھی۔ اس کا قیام تو کمرے کے اندر مگر تمام تر مشاغل دروازے کے باہر ادا ہوا کرتے تھے۔ گیسٹ ہاؤس کے سب مکین اس کے مشاغل کا بھرپور نظارہ کیا کرتے اور اس کے پُرمذاق جملوں اور تبصروں سے لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔
سلیم وزیرآباد کا رہائشی تھا اور لاہور میں کسی پرائیویٹ فرم میں سٹینو کے طور پر ملازمت کرتا تھا۔ وہ گیسٹ ہاؤس میں ”ہالی وڈ“ کے نام سے پہچانا جاتا تھا اور وجہ تسمیہ اس کا ہالی وڈ کی فلموں میں کام کرنے کا دیرینہ شوق تھا۔ سلیم ایک گورا چٹا وجیہہ نوجوان تھا۔ چھ فٹ سے نکلتا ہوا قد، ورزشی جسم، گھنگریالے براؤن بال، سلیقے سے ترشی ہوئی لانبی قلمیں، گھنی مونچھیں اور چہرے پر پھیلی ہوئی دائمی شریر مسکراہٹ۔ یہی شرارت آمیز تبسم آنکھوں میں بھی رقصاں اور ہونٹ ہمہ وقت کوئی جملہ کسنے کے لیے تیار۔سلیم بظاہر غمِ زندگی سے آزاد ایک خوشگوار شخصیت کا مالک نوجوان تھا۔ سٹینو کی ملازمت کی بظاہر کم آمدنی کے باوجود وہ خوش خوراک تھا اور خوش پوش بھی رہتا تھا۔ گیسٹ ہاؤس کے اطراف میں لاہور کے معروف سینما ہال موجود تھے۔ مال روڈ کا فاصلہ بھی زیادہ نہ تھا جہاں الفلاح، ریگل، پلازہ اور ایبٹ روڈ پر واقع گلستان سینما میں اکثر انگریزی فلموں کی نمائش جاری رہتی تھی۔ اس دور میں فلم بینی ایک مقبول مشغلہ تھا۔ دوستوں میں بیٹھ کر گھنٹوں ان فلموں پر بحث مباحثہ بلند معیارِ زندگی کے اظہار کا بہترین ذریعہ تھا۔
سلیم کے پاس ہالی وڈ کی فلموں، اداکاروں، فلم سازوں اور ان کے ایوارڈز کی معلومات کا بے بہا ذخیرہ تھا اور وہ ہم جیسے تفریح کو ترسے ہوئے شوقین طالب علموں کی محفل میں ایک مرکزی حیثیت اختیار کیے رکھتا تھا۔ اسے یقین تھا کہ ایک روز وہ بذریعہ افغانستان یا ایران ملک سے باہر چلا جائے گا اور اس کی آخری منزل ہالی وڈ ہو گی۔ ہالی وڈ تک کے درمیانی راستے کے بارے میں وہ زیادہ معلومات نہ رکھتا تھا مگر تخیل کی پرواز کے ذریعے لمحوں میں ہالی وڈ پہنچ جاتا اور پھر گھنٹوں اپنے رنگین منصوبہ جات کی جزئیات بیان کرتا اور ہم کامرس کے خشک مزاج طالب علموں کو مسحور کیے رکھتا تھا
سویرے آنکھ کھلتے ہی جب ہم اپنے کمرے سے باہر نکلتے تو سلیم سے آمنا سامنا ہوتا۔ وہ اپنے دروازے کے باہر بنیان اور نیکر میں ملبوس ورزش میں مصروف ہوتا تھا۔ اشارے سے سلام دُعا ہوتی اور وہ ہمارے دروازے سے باہر نکلنے کے انداز سے رات کے دیکھے ہوئے خواب کا اندازہ لگاتا اور کوئی چُست سا فقرہ کستا جو پورے گیسٹ ہاؤس میں نشر ہوتا۔ وہ اسی لہر میں جوابی فقرے کی توقع بھی رکھتا تھا۔ جیسے جیسے گیسٹ ہاؤس کے مکین اپنے کمروں سے برآمد ہوتے یہ منفرد سی محفل اور بھی پُرجوش ہو جاتی۔ ورزش کے بعد سلیم چھوٹی قینچی، موچنا، کنگھا اور آئینہ لے کر دروازے کے آگے بیٹھ جاتا اور بڑے انہماک سے مونچھیں، بھنویں، کانوں اور ناک کے بال نوچتا اور تراشتا۔ پھر بالوں میں تیل لگاتا اور اس دوران واش بیسن کی دستیابی کے مطابق شیو بنانے لگ جاتا۔ شیو بنانے کے بعد وہ اپنی موٹر سائیکل چمکاتا اور دروازے کے آگے جوتے پالش کرنے بیٹھ جاتا تھا۔ اسی دوران وہ غوری کی دفتری میز پر اپنے کپڑے استری کرتا اور دروازے کے کواڑ پر پھیلا دیتا۔ سلیم ایک طویل وقت کپڑے استری کرنے میں صَرف کرتا تھا۔ استری کرتے ہوئے نہایت اہتمام سے ”کریز“ بناتا خواہ پتلون ہو یا شلوار۔ ازاربند ڈالنا بھی کوئی عام عمل نہیں ہوتا تھا۔ نیفے میں سے ایک جانب ازاربند کو دانتوں میں دباتا اور نیفے کی دوسری جانب سے بازو لمبے کر کے ازاربند کھینچتا اور شلوار کے بل برابر تقسیم کرتا۔ اس عمل میں اس کی محویت دیکھنے کے قابل ہوتی تھی۔ چونکہ اس کے تمام مشاغل دروازے کے باہر ادا ہوتے تھے وہ تمام مکینوں کی نظر میں رہتا تھا۔ سلیم کی تیاری کا آخری مرحلہ اس کا غسل ہوتا تھا جس میں وہ غیر معمولی وقت صرف کرتا اور اس دوران انتظار میں باہر کھڑے افراد سے اس کا مکالمہ بھی جاری رہتا۔ یوں سلیم اپنی تیاری میں روزانہ دو اڑھائی گھنٹے صَرف کرتا۔ گیسٹ ہاؤس کے کمروں کی ترتیب ایسی تھی کہ ہر کوئی اس کے معمولات کا نظارہ کر رہا ہوتا تھا لہٰذا اس دوران پُرمزاح جملوں، مکالموں اور تبصروں کا سلسلہ بھی جاری رہتا۔ سلیم کی فقرے بازی کسی کی ذات کو مخاطب کر کے نہیں بلکہ ریڈیو کی نشریات کی طرح فضا میں نشر عام تبصرہ ہوتی تھی مگر اس کا ہدف اس کی گہرائی اور اثر محسوس کر لیتا تھا۔ جواب دینا پورے گیسٹ ہاؤس میں خود کو نمایاں کر دینے کے مترادف تھا لہٰذا اس کے چست کیے گئے فقروں کو کسی ردِ عمل کے بغیر خوش دلی سے قبول کر لیا جاتا تھا کہ عافیت اسی میں تھی سوائے ڈاکٹر ڈڈول کے جو اس کے ہر فقرے کو اپنی ذات پر حملہ تصور کر کے اس کا جواب دینا اپنا فرض سمجھتا۔ یوں کبھی کبھار حالات ہنگامی صورتحال اختیار کر جاتے مگر پھر سلیم کا خوش دلی سے لگایا ہوا قہقہہ حالات کی سنگینی کو کم کر دیتا تھا۔
اختر بھی گیسٹ ہاؤس میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد کردار تھا۔ اونچا لانبا قد، سانولی رنگت، بھاری تن و توش، گونجدار آواز، چہرے پر موٹے فریم کی عینک جس میں موٹے شیشے جڑے ہوتے۔ گیسٹ ہاؤس کے ملازموں سے بھی انگریزی میں گفتگو کرتا اور اس خوف سے کہ کام غلط نہ ہو جائے آخر میں اُردو میں بھی ترجمہ کر دیتا تھا۔ غسل خانے میں بھی عینک لگا کر جاتا تھا اور بظاہر نہاتے ہوئے بھی عینک لگائے رکھتا تھا۔ وہ کسی بینک میں ملازم تھا ایک تاثر تھا کہ مارشل لا لگنے کے بعد اپنے بریگیڈیئر بھائی کی سفارش پر جو ضیاالحق کا ملٹری سیکرٹری تھا آغا حسن عابدی کے توسط سے BCCI میں ایک اچھے عہدے پر تعینات ہو گیا۔ ”ڈاکٹر ڈڈول “ نجانے اختر کا خودساختہ نام تھا یا اسے گیسٹ ہاؤس کے مکینوں نے دیا تھا مگر اسے اس نام سے پکارتے کسی کو نہیں دیکھا گیا کیونکہ وہ زود رنج اور تنک مزاج تھا۔ اس کا کمرہ نچلی منزل کے کونے پر سلیم کے کمرے کے عین سامنے تھا۔ اختر کے پاس ایک بڑے حجم کا مرفی ریڈیو تھا جس کے والیم کا بٹن خراب تھا اور نشریات گیسٹ ہاؤس کے تمام کمروں میں بخوبی سنائی دیتی تھیں۔ ریڈیو کی بلند آواز کی وجہ سے آس پاس کے تمام مکین اختر کے ساتھ ناراض رہتے تھے۔ اختر کی کمرے میں موجودگی کے دوران ریڈیو مسلسل لگا رہتا اور اس کی آواز کے ساتھ اختر کے انگریزی میں فرمودات پورے گیسٹ ہاؤس میں سنائی دیتے تھے۔ کبھی کبھار سلیم کوئی جملہ چست کرتا تو اختر انگریزی میں ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگتا جس کا سلیم مزاحیہ انداز میں جواب دیتا۔ یہ بحث گھنٹہ بھر جاری رہتی جس میں اختر کے کڑوے کسیلے جملوں کے جواب میں سلیم کی پُرمذاق گفتگو لڑائی کو ایک حد سے بڑھنے نہ دیتی۔ درمیان میں کسی کمرے سے کوئی دل جلا اس بحث میں شریک ہو جاتا تو ایک مباحثہ شروع ہو جاتا تھا۔
جمیل گیسٹ ہاؤس کے اکثر مکین اچھے دوستوں کی طرح رہتے تھے۔ راجہ عباد، ظفر اقبال، باجوہ، مدثر، انوار چوہدری، حفیظ چوہدری، افتخار، صابر اور شیخ یونس۔ معروف مصنف نسیم حجازی کے فرزند ظفر حجازی بھی کچھ عرصہ وہاں رہائش پذیر رہے۔ سلیم کے ہالی وڈ جانے کے منصوبہ کا سب سے بڑا ناقد اختر تھا۔ اس کی دانست میں سلیم محض خیالی پلاؤ پکاتا اور محض اپنا دل بہلاتا تھا وگرنہ عملی طور پر اس کے ہالی وڈ تک پہنچ جانے کا کوئی امکان نہ تھا۔ اس کی گفتگو سن کر سلیم لمحہ بھر کو اُداس ہو جاتا مگر پھر اُمید کی کوئی کرن اس کی آنکھوں میں عیاں ہوتی اور وہ مناسب ترمیم کے ساتھ نئی منصوبہ بندی وضع کرنے میں مشغول ہو جاتا۔
( جاری )
فیس بک کمینٹ

