ملتان : انسانی حقوق کےعلمبردار اور معروف صحافی آئی اے رحمان کی چوتھی برسی 12 اپریل کو منائی جائے گی ۔ وہ 2021 میں شوگر اور بلڈ پریشر کے باعث 90 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے ۔ آئی اے رحمان 1930 میں ہریانہ میں پیدا ہوئے ، انہوں نے آزادی اظہار، انصاف کی فراہمی اور آئین کے تحفط کے لیے بھر پور جدوجہد کی، وہ تقریباً 65 برس صحافت سے وابستہ رہے۔آئی اے رحمان نے صحافت کے کیرئیر کا آغاز ایک اخبارمیں بطور رپورٹر کیا اور انہوں نے صحافت کے پلیٹ فارم سے ملک کے مختلف مسائل کواجاگرکیا جب کہ وہ باقاعدگی سے اہم موضوعات پر کالم لکھتے رہے۔
آئی اے رحمان نے انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے ذریعے عوامی حقوق کی جدوجہدکی اور وہ تقریباً 2 دہائی تک ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کےڈائریکٹر رہے جب کہ 2017 تک ایچ آرسی پی میں سیکرٹری جنرل بھی رہے۔آئی اے رحمان کو 2017 میں ہیومن رائٹس آئیکون ایوارڈ دیا گیا اور انہیں امن کے لیے خدمات پر رامون مگسے ایوارڈ جب کہ نورمبرگ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔معروف دانش ور اور ماہر تعلیم ڈاکٹر انوار احمد نے اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آئی رحمان کا ملتان سے گہرا تعلق تھا ان کے بھائی اطہر رحمان اسی شہر میں رہتے تھے اسی طرح ان کے بھتیجے راشد رحمان بھی انسانی حقوق کی سربلندی کے لیے سرگرم رہے ۔
فیس بک کمینٹ

