اہم خبریں

ہفتہ کو اعتمادکاووٹ لوں گا۔ عمران خان۔۔۔۔۔عدم اعتماد کی تاریخ ہم دیں گے۔بلاول بھٹو

اسلام آباد:سینیٹ الیکشن کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان نے قوم سے اپنے خطاب میں الیکشن کمیشن اور اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیا۔
اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ قوم سینیٹ الیکشن کو سمجھ جائے تو ملک کے سارے مسائل سمجھ آجائیں گے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ پر ہوتا توتحریک انصاف کو اتنی ہی سیٹیں ملتی جتنی ملنی تھیں، اپوزیشن نے اسلام آباد سے سینیٹ کی سیٹ پر پیسہ لگایا ۔وزیراعظم نے کہا کہ صاف اور شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، سپریم کورٹ نے اپنی رائے کے ذریعے الیکشن کمیشن کو موقع دیا کہ سیکرٹ بیلٹ کرالیں لیکن ووٹ کو قابل شناخت رکھیں، الیکشن کمیشن 1500 بیلٹ پیپرز پر بار کوڈنگ نہیں کرسکتا تھا؟ الیکشن کمیشن نے تو سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کا موقع دیا، سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن میں اوپن بیلٹ کی مخالفت کی۔
انہوں نے الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ اس نے پیسے باٹنے کی ویڈیو کی تحقیقات نہیں کیں؟ کیا آپ کو نہیں پتہ کہ یہ آپ کی ذمہ داری تھی تحقیق کرنے کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں پتا چلنا چاہیے کہ ہمارے پندرہ ، سولہ ارکان کون سے ہیں جو بکے ہیں لیکن سیکرٹ بیلٹ کے ذریعے ان کو بچالیا گیا۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہفتے کو وہ اعتماد کے ووٹ کیلئے خود کو قومی اسمبلی میں پیش کررہے ہیں۔ انہوں نے ارکان قومی اسمبلی سے کہا کہ وہ ضمیر کے مطابق ووٹ دیں، اگر انہیں لگتا ہے کہ مجھے وزیراعظم نہیں رہنا چاہیے تو میرے خلاف ووٹ دیں۔
عمران خان نے کہا کہ اعتماد کے ووٹ میں اگر ان کے مخالفین جیت جاتےہیں تو وہ اپوزیشن میں بیٹھ جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ارکان اسمبلی کو لگتا ہے کہ میں نااہل ہو ں، اتناقابل نہیں ، آرام سےہاتھ اوپرکریں میں اپوزیشن میں چلاجاؤں گا، ارکان اسمبلی سب کے سامنے بتائیں کہ عمران خان کےساتھ نہیں ہیں، یہ آپ کا جمہوری حق ہے میں اس کی عزت کروں گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگر انہیں اعتماد کا ووٹ نہیں ملتا اور تو وہ اپوزیشن میں جاکر بیٹھ جائیں گے، انہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا، وہ اپنے گھر میں رہتے ہیں ، تمام اخراجات اپنے خود برداشت کرتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ اقتدار چلا بھی جائے تو جب تک زندہ ہوں قوم کا پیسہ چوری کرنے والوں کو نہیں چھوڑوں گا، اقتدار چلاگیا تو قوم کا پیسہ نکلوانے کیلئے عوام کو سڑکوں پر نکالوں گا۔
انہوں نے کہا کہ مجھےاندازہ ہوا کہ سینیٹ الیکشن میں پیسہ چلتاہے، یہ ابھی سےنہیں 30، 40 سال سے سینیٹ الیکشن میں پیسہ چلتا ہے، ارکان پارلیمنٹ کو خریدا جاتا ہے، سینیٹرپیسہ خرچ کرکے سینیٹر بن رہاہے، تب سے میں نے مہم شروع کی کہ اوپن بیلٹ ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ 2018 کے سینیٹ الیکشن میں ہمارے 20 ارکان نے ضمیر بیچا تو انہیں پارٹی سے نکالا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کیےکہ اوپن بیلٹ ہونا چاہیے لیکن اس بار سب سیکریٹ بیلٹ کے حق میں ہوگئے۔وزیراعظم نے کہا کہ جب ان جماعتوں نے اوپن بیلٹ کی بات نہیں مانی تو انہیں سپریم کورٹ سے رائے لینی پڑی، سپریم کورٹ نے بھی کہا کہ اس میں پیسہ چلتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ جب سےہماری حکومت ہے پرانی پارٹی میں موجود کرپٹ لوگوں کو خوف آگیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ان سب کی کوشش ہے کہ مجھ پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ میں مشرف کی طرح ہاتھ اٹھادوں اور انہیں این آر و دے دوں، میں نے اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ یہ سب اکٹھے ہوجائیں گے، انہوں نے اب کیا کیا ؟ انہوں نے بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔
عمران خان نے کہا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) کا بل کیا تھا، ان کے دور میں ہمیں گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا، فیٹف کی سفارشات پر عمل نہ کریں تو ملک بلیک لسٹ ہوجائے گا، اپوزیشن نے مطالبہ کیا کہ پہلے نیب کو بند کریں پھر فیٹف بل پر سپورٹ کریں گے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملک فیٹف کی بلیک لسٹ میں گیا تو پابندیاں لگیں گی، جو پابندیاں لگیں گی اس سے ہمارا روپیہ گرنا شروع ہوگا، غربت پھیل جائے گی، مہنگائی کا طوفان آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن مجھے بلیک میل کررہی تھی کہ میں انہیں این آر او دے دوں، سپریم کورٹ میں سب نے اکٹھے ہو کر کہا کہ ہمیں سینیٹ الیکشن میں خفیہ بیلٹ چاہیے، انہوں نے پلان کیا کہ سینیٹ کے الیکشن میں پیسہ چلائیں، ان کی کوشش تھی کہ مجھ پر عدم اعتماد کی تلوار لٹک جائے اور ان کے دباؤ میں آؤں اور میں این آر او دوں۔
وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر کہا کہ اپوزیشن کے ہاتھوں نہ بلیک میل ہوں گا نہ این آر او دوں گا۔
خیال رہے کہ صدر مملکت نے قومی اسمبلی کا اجلاس ہفتے کی شام 4 بجے طلب کر لیا ہے ، قومی اسمبلی اجلاس میں وزیراعظم عمران خان سینیٹ الیکشن کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر ایوان سے اعتماد کا ووٹ لیں گے۔
قبل ازیں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہےکہ اب کٹھ پتلی تماشہ، ڈرامے بازی نہیں چلے گی، اب فیصلے آپ نہیں لیں گے، اب ہم آپ کو بتائیں گےکہ عدم اعتماد کب اور کہاں ہوگا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پہلے ہی کہا تھا کہ یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ بنائیں گے، ہم آپ کا مقابلہ چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں بھی کریں گے، چیئرمین سینیٹ کا الیکشن بھی مل کر لڑیں گے اور ان کو ٹف ٹائم دیں گے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھاکہ عمران خان نےکہا تھا کہ ہم یہ نشست جیت گئے تو اسمبلی توڑ دیں گے،عمران ڈر پوک ہے، الیکشن سے ڈرتا ہے، پہلے اسمبلی توڑنے سے بھاگے اب نیا ڈرامہ سامنےلائے ہیں، اب فیصلے آپ نہیں لیں گے خان صاحب میں آپ کو بتاؤں گا،اب ہم بتائیں گے کہ عدم اعتماد کب اور کہاں ہوگا، جیسے ہی پی ڈی ایم ہمیں حکم دے گی ہم عدم اعتماد کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے سینیٹ کا الیکشن سیاست اور تعلقات کی بنیاد پر لڑا، بہت سے لوگ ایسے ہیں جوووٹ دینا چاہتے تھے لیکن نہ دے سکے، حکومتی بینچوں پر جو بیٹھے ہیں ان کے دل ہمارے ساتھ ہیں، آپ کو آپ کے لوگوں نے ریجکٹ کردیا ہے۔
انہوں نےکہا کہ ہم اپنی جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے اور ان کو ایکسپوزکرتے رہیٕں گے، پی ڈی ایم کا جو متفقہ فیصلہ ہوگا اس پر عمل ہوگا، اس حکومت کو اب کوئی نہیں بچاسکتا، ہمیں پہلے پنجاب کو بچانا چاہیے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ آج عمران خان نے کہا کہ انہیں ایک ایک نام پتہ ہے،میں جانتا ہوں،خان صاحب کو نہیں پتہ، مجھے پتہ ہے کس نے اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دیے، مجھے پتہ ہے کس نے بغض حفیظ شیخ اور بغض عمران میں ووٹ دیے۔
بلاول کا کہنا تھا کہ ہم آپ کو چین سے بیٹھنے نہیں دیں گے، آپ نے تین سال سے عوام کا جینا حرام کردیا تھا، آپ نے ہر پاکستانی کا خون چوسا ہے، ہم آپ کو نہیں چھوڑیں گے، ہم عوام کی آواز پارلیمان کے اندر پہنچائیں گے اور انہیں ٹف ٹائم دیں گے۔
(بشکریہ: جیونیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker