کھیللکھاری

سمیع چوہدری کا تجزیہ : پی ایس ایل 6 ، پی سی بی” مہربانی “ میں مارا گیا

اگر پی ایس ایل کی ایونٹ کمیٹی بے جا ’کامن سینس‘ کے استعمال سے گریز کرتی تو شاید بہت سی رسوائی اور جگ ہنسائی سے بچا جا سکتا تھا۔ مگر شاید یہ کامن سینس نہیں، کمپرومائز تھا جو اس ساری مصیبت کی وجہ بنا۔ فرنچائز مالکان اور لیگ کے منتظمین کا رشتہ خاصا پیچیدہ ہوتا ہے۔ اس میں سمجھوتے ضروری ہوتے ہیں مگر بعض چیزیں ایسی ہیں جن پہ سمجھوتہ مہنگا پڑ جاتا ہے۔
سیزن شروع ہونے سے ایک دن پہلے زلمی کے مالک جاوید آفریدی نے ضابطے کی خلاف ورزی کی اور بائیو سکیور ببل کو توڑا۔ مگر ایونٹ کمیٹی نے ضابطے کی بجائے ’ہمدردی‘ سے لبریز کامن سینس کو ترجیح دی۔ قاعدے قانون صرف کاغذوں کا پیٹ بھرنے کے لیے نہیں ہوتے کہ لکھ کر رکھ دیے جائیں اور سند رہے، بھلے بوقتِ ضرورت کام آئیں، نہ آئیں۔ جیسے اگر کامن سینس کا اطلاق کیا جائے تو کوئی بھی بارہ سالہ جوان با آسانی سڑک پہ گاڑی چلا سکتا ہے مگر قانون اصرار کرتا ہے کہ لائسنس اٹھارہ سال کی عمر میں ہی ملے گا۔
جب یہاں اپنے ہی طے کردہ قاعدے میں درج تھا کہ ببل کی خلاف ورزی کی صورت میں تین روز کے قرنطینہ سے گزرنا ہو گا تو پھر کس لاڈ کے تحت زلمی کو چھوٹ دے دی گئی؟ جاوید آفریدی کی ’درخواست‘ کے جواب میں یہ کیوں نہ کہا جا سکا کہ ’حضور! آپ ہمارے لیے بہت قیمتی ہیں مگر اصول اصول ہیں۔‘
اور اسی شام ڈیرن سیمی ڈریسنگ روم میں تشریف فرما تھے۔ وہاب ریاض بائیس کھلاڑیوں اور دو امپائرز کے ہمراہ میدان میں موجود تھے۔ جاوید آفریدی ’ڈگ آؤٹ‘ میں میچ سے محظوظ ہو رہے تھے۔
بھلے ان تینوں میں سے کسی کو کورونا نہیں ہوا تھا اور متواتر ٹیسٹ کلئیر کر چکے تھے مگر اس معاملے سے باقی سبھی شراکت داروں کو پیغام کیا ملا؟ اگر یہیں ان کی درخواست اصولی طور پہ مسترد کی گئی ہوتی تو پوری دنیا کو یہ پیغام پہنچ جاتا کہ یہاں کووڈ پروٹوکولز کی خلاف ورزی پہ کوئی نرم گوشہ نہیں رکھا جائے گا۔ مگر وہاب ریاض کے میدان میں اترنے سے سبھی کو یہ حوصلہ سا مل گیا کہ گھبرانا نہیں ہے، مالک دیکھ لیں گے۔
وسیم خان اپنی پریس کانفرنس میں بار بار یہ دہراتے پائے گئے کہ فرنچائزز پی سی بی کے لیے بہت اہم ہیں۔ بلاشبہ، اس سے کون انکار کر سکتا ہے مگر اب شاید وقت آ گیا ہے کہ اس قیمتی اور نازک رشتے کو کسی ضابطے کے دھاگے سے پرویا جائے۔ پی سی بی اور فرنچائز مالکان بھلے اس احساس سے عاری ہوں مگر جب یوں فرنچائز مالکان بات بات پہ پی سی بی کو لٹا لیتے ہیں تو اس سے دنیا میں پاکستان کرکٹ کا کوئی اچھا امیج نہیں جاتا۔ بالآخر، یہ امیج اور توقیر ہی تو ہے جس کی بحالی کے لیے پہلے پاکستان کرکٹ کو کوئی دس سال کی جلا وطنی کاٹنا پڑی۔
یہی نہیں، ایونٹ کے آغاز سے ایک ہی روز پہلے لاہور قلندرز کے سکواڈ میں ایک مثبت کیس سامنے آیا جسے فوری الگ کر دیا گیا۔ اگر ایونٹ کمیٹی تھوڑی سی کامن سینس یہاں بھی استعمال کر لیتی اور حفظِ ماتقدم کے تحت لاہور کے میچز کو شیڈول میں آگے کر دیا جاتا تو اس سے بھی ایک بہتر پیغام جاتا۔
کورونا ویکسینیشن بھی وہ پہلو ہے جس پہ کچھ پہلے کام کیا جا سکتا تھا۔ زمبابوے، جنوبی افریقہ سیریز اور ڈومیسٹک سیزن کی کامیابی کی بنیاد پہ یہ تعین کرنا ہی غلط تھا کہ سات مختلف ملکوں سے آئے کھلاڑی اس قدر تعداد میں ایک ساتھ اتنے دن رہ لیں گے اور ایونٹ نکل جائے گا۔
اب المیہ یہ بھی ہے کہ اس سال پاکستان کا کرکٹ کیلنڈر فیوچر ٹور پروگرامز اور دیگر ایونٹس سے اس قدر لبریز ہے کہ پی ایس ایل کی بار پیمانہ چھلک جائے گا۔ جنوبی افریقی دورے، زمبابوے کے دورے اور ایشیا کپ کے ساتھ ساتھ آئی سی سی ورلڈ کپ کی کیلنڈر میں موجودگی کے باعث پی ایس ایل کو اپنے لیے کوئی ‘وِنڈو’ کھوجنے میں بہت مشکل ہو گی۔
مگر یہ نقصان تو صرف مالی نہیں، اخلاقی بھی ہے۔ پی سی بی کی انتظامی صلاحیتوں پہ تو سوال اٹھیں گے ہی، پی ایس ایل کو بھی متواتر دو بار ملتوی ہونے کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
برائن ڈی پاما کی فلم ’کارلیٹوٗز وے‘ میں موت سے کچھ لمحے پہلے مرکزی کردار (ایل پے چینو) خود کلامی کرتا ہے:
“Favour is gonna kill you faster than a bullet”
یعنی ’مہربانی‘ تمہیں گولی سے بھی جلد قتل کر ڈالے گی، پی سی بی بھی اس سانحے میں اپنی ’مہربانیوں‘ کے ہاتھ ڈھیر ہوا۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker