حکومت نے اپوزیشن لیڈروں سے کہا کہ وہ عمران خان کی صحت پر سیاست نہ کریں۔ جبکہ حکومت خود اس معاملہ کو غیر معمولی طور سے اچھالنے، مؤخر کرنے اور اسے سیاسی بیانیہ کے مقصد سے استعمال کرنے کی حتی الامکان کوشش کررہی ہے۔ ملک کے سابق وزیر اعظم، ایک بڑی پارٹی کے لیڈر اور ایک قیدی کے حوالے سے یہ طریقہ کار ہر لحاظ سے افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔
گزشتہ دنوں ایڈووکیٹ سلمان صفدر نے’فرینڈ آف کورٹ‘ کے طور پر اڈیالہ جیل کا دورہ کرکے عمران خان سے طویل ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کی جو رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی، اس میں عمران خان کو حاصل سہولتوں کو تو اطمینان بخش قرار دیا گیا لیکن تحریک انصاف کے بانی کہ اس شکایت کو بیان کیا گیا تھا کہ ان کی ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہوئی ہے اور انہیں مناسب علاج کی سہولت نہیں مل سکی۔ سلمان صفدر کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کا خیال ہے کہ ان کی متاثرہ آنکھ کی 85 فیصد بینائی ضائع ہوچکی ہے۔ وہ اس کی شکایت گزشتہ تین ماہ سے جیلروں سے کرتےے رہے ہیں لیکن اس پر توجہ نہیں دی گئی۔ سپریم کورٹ نے اس رپورٹ پر چار روز کے اندر عمران خان کا مکمل طبی معائنہ کرانے اور ان کی اپنے بیٹوں سے فون پر بات کرانے کا حکم دیا۔
سلمان صفدر کی رپورٹ کی تفصیلات منظر عام پر آنے کے بعد تحریک انصاف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے لیڈروں نے بیان بازی کی حد تک یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے جیسے حکومت عمران خان کی کسی بیماری کی ذمہ دار ہے اور اسی کی کوتاہی کی وجہ سے عمران خان کی بینائی متاثر ہوئی ہے۔ حالانکہ اس ماہ کے شروع میں عمران خان کا پمز ہسپتال میں آنکھ کا علاج کیا گیا اور امراض چشم کا ماہر ان کا مسلسل معائنہ بھی کرتا رہا ہے۔ فروری کے پہلے ہفتے کے دوران ہونے والے اس علاج کے چند دن بعد عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے اپنے عزیزوں سے ملاقات کے دوران اس علاج کی تصدیق کی اور کہا تھا کہ یہ علاج عمران خان کی مرضی سے کیا گیا۔ تاہم سلمان صفدر کی رپورٹ سامنے آنے سے قبل تحریک انصاف کے کسی لیڈر یا عمران خان کی بہنوں کی طرف سے عمران خان کی بینائی یا صحت کے حوالے سے کسی تشویش کا اظہار نہیں کیا گیا۔ تاہم سپریم کورٹ کی ہدایت پر تیار ہونے والی رپورٹ کے بعد اچانک یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جیسے عمران خان کئی ماہ سے علاج کے لیے تڑپ رہے ہیں لیکن سفاک حکومت نے ان کی آنکھ ضائع کردی لیکن علاج مہیا نہیں کیا۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے لیڈروں نے دو روز سے پارلیمنٹ میں ’دھرنا ‘ دیاہؤا ہے جبکہ خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے ایسے ہی ’دھرنے‘ کا اہتمام اسلام آباد کے کے پی ہاؤس میں کیا ہے۔ بادی النظر میں ٹی ٹی اے پی اور پی ٹی آئی کے لیڈر اس تنازعہ کو بنیاد بنا کر کسی بھی طرح ملک بھر میں کوئی سیاسی طوفان بپا کرنا چاہتے ہیں۔ البتہ اس کے امکانات دکھائی نہیں دیتے۔ 8 فروری کو کی جانے والی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی ناکامی کے بعد اپوزیشن لیڈروں کی یہ پریشانی قابل فہم تو ہے لیکن انہیں اس مقصد کے لیے اپنے ہی لیڈر اور ساتھی کی صحت کے معاملہ پر جھوٹ اور مبالغہ آرائی سے کام نہیں لینا چاہئے۔ اول تو اگرچہ سلمان صفدر نے عمران خان کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ تین ماہ سے آنکھ میں بینائی کم ہونے کی شکایت کرتے رہے ہیں لیکن اس پر توجہ نہیں دی گئی۔ اس بیان سے یہ تاثر قائم کیا جارہا ہے جیسے عمران خان کو کسی ڈاکٹر نے نہیں دیکھا اور نہ ہی ان کا علاج ہؤا ہے حالانکہ یہ بات واقعاتی طور سے غلط ہے۔ اگر عمران خان کی آنکھ میں بینائی متاثر تھی تو انہوں نے جیل حکام کے علاوہ آئی اسپیشلسٹ سے ملاقات یا پمز میں علاج کےدوران اس پر اصرار کیوں نہیں کیا۔ بہتر ہوگا کہ عمران خان کی آنکھ کے علاج کا ریکارڈ اور اس ماہ کے شروع میں ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کی طبی رپورٹ سامنے لائی جائے تاکہ درست تصویر سامنے آسکے۔
یہ بات بھی نوٹ ہونی چاہئے کہ سلمان صفدر نے عمران خان سے گفتگو کا حوالہ دے کر ایک آنکھ میں 85 فیصد بینائی ختم ہوجانے کی بات کہی ہے۔ اس کا کوئی میڈیکل ریکارڈ یا ثبوت موجود نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر ہونے والے طبی معائنے کے بعد ہی پتہ چل سکے گا کہ ان کی آنکھ کتنی اور کس حد تک متاثر ہے ، اس کی کیا وجوہ ہوسکتی ہیں اور اب اس کا کیاعلاج ممکن ہے۔ حکومت کی طرف سے عمران خان کے ساتھ ملاقاتوں پر پابندی کی وجہ سے اپوزیشن کو عمران خان کی صحت کے حوالے سے غیر ضروری تشویش ظاہر کرنے کا موقع ملا ہے۔ اس سے پہلے تحریک انصاف کے لیڈروں یا عمران خان کی بہنوں نے کسی پریشانی کا اظہار نہیں کیا۔ خاص طور سے پمز ہسپتال میں علاج اور بشریٰ بی بی کے بیان کے بعد بھی اس معاملہ پر کوئی تبصرہ یا رائے سامنے نہیں آئی۔ کیا وجہ ہے کہ بشریٰ بی بی نے عمران خان کے علاج کی تصدیق کرتے ہوئے بینائی ضائع ہونے کا ذکر نہیں کیا؟ اس کوتاہی کا ادراک کرنے کی بجائے اب اپوزیشن لیڈر سیاسی طوفان بپا کرنے کے لیے آشوب چشم کو عذر کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔
اس کے برعکس حکومتی وزرا بار بار یہ مشورہ دیتے ہیں کہ عمران خان کی صحت پر سیاست نہ کی جائے لیکن خود حکومت اس معاملہ میں سیاست بھی کررہی ہے اور تساہل سے کام بھی لے رہی ہے۔ حکومتی وزرا کا کہنا ہے کہ عمران خان کو جیل میں اعلیٰ سہولتیں حاصل ہیں اور انہیں ہر قسم کی طبی سہولت اور بہترین علاج فراہم کیاجائے گا لیکن یہ پہلو ناقابل فہم ہے کہ عمران خان کی صحت اور آنکھ کے عارضہ کے بارے میں سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ہی کیوں سرگرمی دیکھنے میں آرہی ہے؟ کیا وجہ ہے کہ عمران خان کی نگرانی کا جو نظام جیل میں قائم کیا گیا ہے، اس کے ذریعے حکومت تک ان کی تکلیف کے متعلق کی رپورٹ نہیں پہنچی یا اس پر مناسب اقدام نہیں کیا گیا۔ آج ہی وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ ’وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘۔ حالانکہ یہ اعلانات کرنے کی بجائے مناسب اقدام کیا جاتا تاکہ اگر عمران خان کی صحت متاثر ہے تو انہیں مناسب طبی نگرانی میسر آسکے۔
تحریک انصاف کا یہ مطالبہ یا دعویٰ کہ عمران خان کا علاج کسی خاص ہسپتال یا مخصوص ڈاکٹروں کی نگرانی میں کرایا جائے، بھی کوئی خاص وزن نہیں رکھتا۔ حکومت، اپوزیشن اور عدلیہ کو اب یہ ڈھونگ رچانے سے بھی گریز کرنا چاہئے کہ عمران خان کے ساتھ بھی کسی عام قیدی جیسا سلوک ہونا چاہئے اور ملک کا قانون سب کے لیے برابر ہے۔ عمران خان اگر اپنی موجودہ پوزیشن میں نہ ہوتے یا ملک میں ان کی سیاسی فالونگ نہ ہوتی تو سپریم کورٹ بھی عام قیدی کے طور پر ان کی حالت زار پر توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہ کرتی اور نہ ہی متعدد حکومتی وزرا بار بار عمران خان کی سہولتوں اور صحت کے بارے میں بیان بازی کرتے۔ عمران خان کی قید مشکوک اور قابل اعتراض ہے لیکن جب تک وہ قید میں ہیں حکومت کو ان کی مناسب دیکھ بھال کا خصوصی خیال رکھنا چاہئے۔ اس معاملہ پر احسان جتانے یا سیاست کرنے کی کوشش نہیں ہونی چاہئے۔
طرفین اس معاملہ میں جس سیاسی سرگرمی کا مظاہرہ کررہے ہیں اور جیسے سپریم کورٹ نے اچانک عمران خان ہی کے ایک وکیل کو ’فرینڈ آف کورٹ‘ قرار دے کر تحریک انصاف کے بانی کی صحت کے حوالے سے پیش رفت کی ہے، اسی وجہ سے ملک میں یہ’ خبریں‘ بھی گشت کررہی ہیں کہ ماضی کی متعدد مثالوں کی طرح عمران خان کی آنکھوں کی بیماری بھی کسی خفیہ ڈیل کا پیش خیمہ ہے جس کے تحت تحریک انصاف کے بانی بعض ’وعدے‘ کرکے علاج کے لیے بیرون ملک جاسکیں گے۔ شاید انہیں افواہوں کو بے اثر کرنے کے لیے وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کسی قسم کی ڈیل کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ تاہم ملک کے ماضی پر نگاہ دوڑائی جائے تو تردید کے بعد رونما ہونے والے واقعات بعینہ وہی ہوتے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ’نہیں ایسا کچھ نہیں ہوگا‘۔ویٹامن اور سپلیمنٹس خریدیں
گو کہ اس سے اچھی کوئی خبر نہیں ہوسکتی کہ عمران خان کسی بھی عذر پر جیل سے رہا ہوں اور ان کا مناسب علاج ہوسکے۔ اس مقصد کے لیے اگر وہ ملک سے باہر جانا چاہیں تو حکومت کو خوشدلی سے اس کی اجازت دینی چاہئے۔ یہ اقدام کرنے کے لیے وعدے لینے یا ضمانتیں مانگنے کا فائدہ نہ تو ماضی میں ہؤا اور نہ اب ان سے کوئی بڑا مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

