نئی دہلی : انڈیا کی ریاست گجرات کے علاقے موربی میں دریا پر بنا ایک پل گرنے سے اب تک کم از کم 132 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔تقریباً ایک صدی پرانے اس پل کو حال ہی میں مرمت کے بعد عوام کے لیے کھولا گیا تھا۔گجرات کے وزیر داخلہ ہرش سنگھ سانگھوی نے کہا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد 132 ہو گئی ہے۔
راجکوٹ سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ موہن بھائی کلیان جی کنڈاریا نے بی بی سی کے نامہ نگار دلنواز پاشا کو بتایا کہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’زخمیوں کی تعداد اب بھی کم ہے لیکن پانی میں ڈوبے ہوئے لوگوں کی تلاش کا کام جاری ہے۔‘
بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے خدشہ ظاہر کیا کہ مرنے والوں میں زیادہ تر بچے ہو سکتے ہیں۔
کنڈاریا کا کہنا ہے کہ 15 منٹ میں 50 سے زیادہ ایمبولینسیں موقع پر پہنچ گئیں۔موربی کے ضلع کلکٹر کا کہنا ہے کہ رات تک 170 لوگوں کو بچایا جا چکا تھا۔
برسوں سے بند پُل کو تزئین و آرائش کے بعد کھولا گیا تھا۔انھوں نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ پل پر زیادہ لوگ موجود تھے جس کی وجہ سے پل ٹوٹ گیا، اب پل پر جانے کے لیے کتنے ٹکٹ کٹے ہیں اس کی معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔‘
اطلاعات کے مطابق جس وقت پل گرا اس وقت اس پر 400 کے قریب افراد موجود تھے۔
راجکوٹ ضلع مجسٹریٹ دفتر کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل سے بتایا گیا کہ موربی پل کے جائے حادثہ کے لیے راجکوٹ ضلع سے 22 ایمبولینس، 7 فائر بریگیڈ اور چھ کشتیاں بھیجی گئی ہیں۔یہ پل برسوں سے بند تھا۔ اسے حال ہی میں تزئین و آرائش کے بعد عوام کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا تھا۔
یہ نیا پل گجراتی نئے سال پر دیوالی کے بعد کھولا گیا تھا اور دیوالی کی تعطیلات اور اتوار کی وجہ سے پل پر لوگوں کی کافی بھیڑ تھی۔تاہم یہ صدیوں پرانا پل گرنے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ پل گرنے کی وجوہات جاننے کے لیے پانچ رکنی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔
انتظامیہ فی الحال امدادی کاموں میں مصروف ہے۔ این ڈی آر ایف کے ڈائریکٹر جنرل اتل کروال نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ این ڈی آر ایف کی تین ٹیمیں موقع پر روانہ کی گئی ہیں۔ دو ٹیمیں گاندھی نگر اور ایک بڑودہ سے بھیجی گئی ہیں۔ریاست کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے ٹویٹ کیا، ’میں موربی میں پل کے گرنے سے غمزدہ ہوں۔ حکام کی طرف سے راحت اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری ہیں۔ میں نے زخمیوں کے فوری علاج کے انتظامات کرنے کی ہدایات دی ہیں۔ میں مسلسل فکر مند ہوں۔ یہ ضلع میں ہے۔ میں انتظامیہ سے رابطے میں ہوں۔‘
گجرات کے وزیر اعلی بھوپیندر پٹیل نے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے لیے 4 لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے 50 ہزار روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے۔
موربی میں دریائے ماچھو پر بنایا گیا یہ جھولتا پل جدید یورپی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا ہے جس کا مقصد موربی کو ایک منفرد شناخت دینا ہے۔
موربی شہر کی سرکاری ویب سائٹ پر دی گئی معلومات میں اس پل کو انجینئرنگ کا معجزہ بتایا گیا ہے۔یہ پل 1.25 میٹر چوڑا اور 233 میٹر لمبا تھا اور دریائے ماچھو پر واقع دربار گڑھ پیلس اور لکھدھیر جی انجینئرنگ کالج کو جوڑتا تھا۔
فیس بک کمینٹ

