پہلی سطر میں ہی وضاحت کرد وں کہ سن پچاس کے میرے بزرگوں کی سوچ سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی سوچ سے بدرجہا بہتر، پاک اور سائینٹفک تھی ۔ بد قسمتی سے وقت کے ساتھ ساتھ پاکسانی قوم (اگر یہ قوم ہے تو) کی سوچ ، فکر اور اقدار تنزلی کا شکار ہوئی ہیں اور ہم ہر اہم شخصیت کی باتوں کو بلا تحقیق سننے اور ماننے اورپھر پونجے والی قوم بن گئے ہیں ۔ حالانکہ سوشل سائینسز کے حوالے سے یہ تحقیق بہت آسان اور کم قیمت ہوتی ہے۔۔۔مثلا جب ہم کہتے ہیں کہ کلونجی میں تمام بیماریوں کی شفا ہے تو ہم اپنے اس دعوی کو بآسانی قبول یا رد کر سکتے ہیں سو پچاس چوہوں پر تجربہ کرکے۔۔۔جیسا کہ مغربی ممالک میں لوگ کرتے ہیں اوراپنے ان دعووں کو سوشل سائینس کے زمرے میں لاسکتے ہیں مگر ہم تشکیکیت کو کفر اور یقینیت کو ایمان مانتے ہیں لہذا اس طرف نہیں آتے ۔اس بات کو ہمارے حکمران بخوبی سمجھتے ہیں اور اپنا ووت بنک بڑھانے کے لئے بخوبی استعمال کرتے ہیں۔۔
عمران خان کہتے ہیں کہ مرد کو زنا پر عورت کی ننگی پنڈ لیاں اکساتی ہیں لہذا اگر عورتٰیں بن سنور کر گھروں سے باہر نہ نکلیں تو اس قباحت سے بچ سکتی ہیں۔۔ہماری قوم اس بات پر سیٹیاں بجاتی ہے اور تمام ایسی برائیوں کی ذمہ داری عورت پرعاید کرکے سکھ کی نیند سو جاتی ہے جب تک کہ ایسے واقعات فرداً فرداً ان کے اپنے گھروں تک نہیں پہنچ جاتے۔
اس تحریر میں آج میں اپنے بزرگوں کی ثقافت کے تجربے سے ثابت کروں گا کہ زنا اور عورتوں کے ساتھ زیادتی کا لباس، ننگی پنڈ لیوں اور فیشن سے کوئی تعلق نہیں۔
جیسا کہ سماجی سائینس کے ماہرین وضاحت کرتے ہیں کہ ہر انسانی رویہ انسا ن کی سوچ کا مظہر ہوتا ہے اور انسانوں کے مجموعی رویوں سے مل کر ثقافت یا کلچر جنم لیتا ہے-
سوچ کیاتھی یہ معلوم نہیں ۔مگر میرے بزرگوں کی ثقافت میں ایک رویہ یہ بھی تھا کہ ان کے ہاں تایا،چچا اور پھوپھی کی بیٹی سے شادی حرام تھی لہذا ہم ان تینوں رشتوں کی بیٹیوں کو اپنی بہنیں سمجھتے تھے اور کوئی پوچھتا کہ کتنی بہنیں ہیں تو سب کو ملا کر بتاتے تھے۔۔کہتے ہیں کہ پہلے یہ رویہ مڈاڑھ گوت کی سب بیٹوں تک پھیلا ہوا تھا۔یعنی مڈاڑھ راجپوت مڈاڑھ گوت میں شادی نہیں کرتا تھا چاہے وہ کسی گاؤ ں میں ہی کیوں نہ رہتے ہوں۔۔پھر جب ان میں سے کچھ مسلمان ہو گئے تو یہ رویہ گاؤں تک محدود ہو گیا ۔ہم ہندوستان چھوڑ کر جب یہاں آئے تو بھی یہ رویہ ہماری نسل تک قائم رہا اور ہم حتی کہ گاؤں میں رہنے والی غیر ذات کی بیٹیوں کو بھی بہنوں کا درجہ دیتے۔
دوسری طرف مقامی لوگوں میں یہ رواج نہیں تھا بلکہ ان تمام رشتوں میں آپسی شادیاں روا تھیں۔یہاں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ کونسا رویہ بہتر یا کمتر تھا- میں یہا ں ان رویوں کے نتائج کی بات کروں گا کہ اس رویے کی وجہ سے ہماری نسل تک ہمارے گاؤں میں کوئی آپسی جنسی واقعہ نہیں ہوا دوسری طرف اس کے برعکس رویے کی وجہ سے مقامی لوگوں میں ان واقعات پر آئے روز پنچائیتیں ہوتی تھیں اور ہوتی ہیں۔
رے دیکھیا ایک دیس نرالا
جن کی چھت کا نئیں پرنالا
تیڑ میں نئیں کوئی نالا
ار نا ہی کسی کا کوئی سالا
بات یہ ہے کہ ان دو متضاد رویوں کے نتائیج مختلف کیوں ہیں؟؟؟ جواب ہے تربیت۔ ۔مختلف تربیتوں کے مختلف نتائج۔ایک ہی صنف یعنی عورت کی جانب دوسری ایک ہی صنف یعنی مرد کا رویہ؟ (جو لوگ کہتے ہیں عشق آسمانوں پر پلتے ہیں ان رویوں سے یہ بھی غلط ثابت ہوتاہے عشق بھی وہیں ہوتا ہے جہا ں شادی جائیز سمجھی جاتی ہے)-
اب آپ تصور کریں کہ آپ گھر جاتے ہیں اچانک اور دیکھتے ہیں کہ ماں ، بہن یا بیٹی کے جسم کا کوئی پہلو بے خیالی میں ننگا ہے تو کیا آپ کے اندر شہوت جاگے گی ؟نہیں۔۔ ایک مہذب انسان فوراً دوسری طرف منہ پھیر لے گا کیوں ؟ عورت تو عورت ہے- لیکن نہیں کیونکہ آپ کی تربیت ہوئی ہے کہ ان رشتوں کا آپ کی ثقافت میں کیا درجہ ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ہم اور ہمارے بزرگ گاؤں کی تمام بیٹیوں کا احترام کرتےتھے ۔ اور اس وقت تک کرتے رہے جب تک کہ ان رشتوں کے ساتھ شادیاں یا جنسی تعلقات جائز نہیں قرار پائے۔
ثابت یہ ہوا کہ برائی یا زنا کا تعلق ننگی پنڈلی سے نہیں تر بیت سے ہے۔۔۔
ایک اور عمومی تجربہ جو میں اپنے گاؤں سے اس ثبوت میں پیش کر سکتا ہوں وہ نابھے دوکاندار کا ہے اس کی بری نظر کی وجہ سے لوگ اسے بد چلن سمجھتے تھے۔ایک دن میں سودا لینے اس کے پاس کھڑا تھا کہ ایک عورت ٹوپی والے برقعے میں پاس سے گذری تو وہ اس کے پیروں پر نظریں جما کر دیکھنے لگا میں نے اس سے پوچھا چاچا تمہیں ٹوپی والے برقعے میں کیا نظر آتا ہے تو وہ ٹھنڈٰ ی سانس بھر کے بولا ” بچڑے تجھے کیا پتہ عورت اپنے پیروں ہی سے تو پہچانی جاتی ہے“۔لوگ اسے گندی ذہنیت کہتے تھے تو ٹھیک ہی کہتے تھے۔ثابت یہ ہوا کہ عورت چاہے ٹوپی والے برقعے میں ہی کیوں نہ ہو گندی ذہنیت کو دور کی ہی سوجھتی ہے۔
عورت کی جنگ کنیز بننے سے چلی تھی ۔چار دیواری تک آئی ٹوپی والے برقعے تک پہنچی اور پھر چادر۔ چادر سے دوپٹے تک اور اب دوپٹہ بھی ہونا چاہئے یا نہیں ؟ یہ عورت ہی فیصلہ کرے گی ۔ انسانی برابری کا تقاضہ بھی فیصلہ کرے گا۔ اس ترقیاتی سفر کا مرد مذ اق اڑا سکتے ہیں کفر کے فیصلے صادر کر سکتے ہیں مذہبی پابندیاں عائد کر سکتے ہیں مگر روک نہیں سکتے یہ سفر جاری ہے اور جاری رہے گا۔۔ مرد کو چاہئیے اپنی تر بیت درست کرے اپنی نیت کی تہذیب کرے اور اس ترقی کے سفر میں عورت کا ساتھ دے نا کہ رکاوٹ بنے۔
میں نے اپنی زندگی کے تجربات میں یہ بھی محسوس کیا کہ جب عورت چار دیواری میں محدود تھی تو گندی ذہنیت آواز سن کر ہی ہوس پر اتر آتی تھی اور جب ٹوپی والا برقعہ آیا تو پاؤں دیکھ کر ۔عورت ٹوپی والے برقعے سے فینسی برقعے میں آئی تو ٹوپی والا برقعہ پیچھے چلا گیا اور با حیا بن گیا اور فینسی برقعہ بے حیا۔۔دوپٹہ اور چادر آئی تو چادر بے حیائی اور فینسی برقعہ یا عبا حیا کی علامت بن گیا جیساکہ بھارت کی ایک یونیور سٹی میں ایک مسلمان طالبہ نے اپنے اظہار سے کیا۔ تو یہ سفر چل رہا ہے جب ایک رویہ عام ہو جاتا ہے تو اس سے اگلا رویہ قابل مذمت ہو جاتا ہے پھر اگلا پچھلے کی جگہ لے لیتا ہے-آپ امریکہ یا یورپ کی مثال لے لیں وہاں ہم جیسے نو وارد تو ٹرین میں بیٹھی ہوئی ننگی پنڈلیوں کو گھور کر دیکھتے ہیں مگر وہاں کے باشندے بے خبر سفر کرتے رہتے ہیں کیونکہ ان کے لیے یہ بات زندگی کا حصہ ہے۔ ان کے رویوں کی تر بیت اور ہو ئی ہوتی ہے- شروع شروع میں ٹی وی پر عورت کو دیکھتے ہی مردوں کے ذہن فارغ ہو جاتے تھے اور با حیا مرد گھر میں ٹی وی نہیں چلنے دیتے تھے بعدازاں ٹی وی عام ہو گیا اور با حیا مرد بھی بچوں کے ساتھ بے حیا ہو گئے۔
زنا کا تعلق مرد کی ذہنیت کی تر بیت ، عورت کی کمزوری اور قانون کی گرفت میں کمی سے ہے نا کہ ننگی پنڈلیوں، فیشن اور پردے سے۔۔۔کبھی آپ نے سنا کہ کسی نے سر بازار اور کسی خود سے تگڑی عورت پر ہاتھ ڈالا ہو۔بھیڑئیے وار ہی اس وقت کرتے ہیں جب عورت کمزور ہو بچی ہو یا بچہ ہو اور اکیلی ہو۔ عورت کو مضبوط کریں ذہنیتوں کی تربیت کریں اور قانون کو عملی بنائیں ۔ زنا کے واقعات نہیں ہونگے-
اور ہاں جنت میں عورت نہیں حوریں ملیں گی لہذا عورت کے بارے میں اس طرح سوچنا بھی بند کریں)—
فیس بک کمینٹ

