اہم خبریں

بھارت آٹھویں بار سلامتی کونسل کا رکن بن گیا : کوئی آسمان نہیں ٹوٹے گا ، شاہ محمود

اقوام متحدہ : انڈیا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوگیا ہے۔ اسے دو تہائی اکثریت کے لیے 192 رکن ممالک میں سے 128 ووٹ درکار تھے۔ لیکن اسے 184 ووٹ ملے۔
امریکہ کے شہر نیو یارک میں بدھ (17 جون) کو اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کے غیر مستقل اراکین کے لیے جنرل اسمبلی کی خفیہ ووٹنگ ہوئی جس میں ایشیا پیسیفک خطے سے انڈیا آئندہ دو سال کے لیے منتخب ہوا ہے۔انڈیا کے علاوہ آئرلینڈ، میکسیکو اور ناروے بھی سکیورٹی کونسل کے انتخابات میں سرخرو ہوئے ہیں۔ کینیڈا کو ان انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
انڈیا آخری بار 2010 میں سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوا تھا جب اس نے 190 میں سے 187 ووٹ حاصل کیے تھے۔انڈیا نے آٹھواں مرتبہ یہ رکنیت حاصل کر لی ہے۔ سکیورٹی کونسل میں اس کے نئے سفر کا آغاز جنوری سنہ 2021 سے ہوگا اور دسمبر 2022 میں اختتام پذیر ہوگا۔
سنہ 2002 میں انڈیا کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب وجے نمبیار عراق میں مداخلت کے مسئلے پر اپنے ملک کا مؤقف بیان کرتے ہوئے
یہ سب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جبکہ انڈیا کی شمالی سرحدوں پر اس کی اور چین کی فوجیں آمنے سامنے کھڑی ہیں اور جھڑپوں میں کئی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔
گو کہ پاکستان نے اس سے قبل کبھی انڈیا کی رکنیت پر اعتراض نہیں اٹھایا تھا تاہم اس بار ایسا نہیں ہے اور پاکستان نے انڈیا کی مستقل رکن یا غیر مستقل رکن بننے کی اہلیت پر اعتراضات اٹھائے تھے۔
اس بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انڈیا کے سلامتی کونسل کا رکن بننے سے کوئی آسمان نہیں ٹوٹ پڑے گا۔’انڈیا اس سے پہلے بھی سات بار سلامتی کونسل کا عارضی رکن بن چکا ہے لیکن اس سے کشمیر کے مسئلے پر کوئی اثر نہیں پڑا۔’شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم اس موقع پر جو نکتہ اٹھانا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرنے والے ملک کو سلامتی رکن میں رکنیت نہیں ملنی چاہیے۔
اس بار انڈیا اور پاکستان میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ انڈیا سلامتی کونسل میں اس مرتبہ غیر مستقل رکن بننے کا فائدہ اٹھا سکتا ہے، خاص کر سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کی اپنی کاوشوں میں۔
اب جبکہ انڈیا نے اپنے زیرِ انتظام جموں اور کشمیر ریاست کی آئینی حیثیت کو بدل دیا ہے تو چین اور پاکستان دونوں ہی اس متنازعہ پیش رفت کے بعد اس خطے کی ایک نئی جہت میں داخل ہوچکے ہیں۔ لیکن کیا انڈیا واقعی اس رکنیت سے فائدہ حاصل کر سکتا ہے؟
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker