فیصل آباد : تحصیل جڑانوالہ میں قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کے واقعے کے بعد مشتعل مظاہرین نے ایک گرجا گھر کو نذرِ آتش کر دیا ہے اور سرکاری عمارتوں اور کرسچین کالونی میں توڑ پھوڑ بھی کی گئی ہے۔
پولیس کی جانب سے مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے دو افراد کے خلاف توہین رسالت اور قرآن کی بے حرمتی سے متعلق دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
آج دوپہر سے ہی سوشل میڈیا پر جڑانوالہ سے ایسی ویڈیوز شیئر ہونا شروع ہوئی تھیں
اے سی جڑانوالہ شوکت مسیح نے بی بی سی کو فون پر بتایا ہے کہ اس وقت صورتحال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ’صبح آٹھ سے نو بجے کے درمیان ہمیں جڑانوالا کے محلے عیسیٰ نگری میں مشتعل مظاہرین کی جانب سے احتجاج اور آگ لگائے جانے کی اطلاع ملی تھی۔’اصل واقعہ کیا ہے اس بارے میں ابھی مکمل تفصیلات موصول نہیں ہوئی ہیں۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ ’مشتعل مظاہرین نے ہاتھوں میں ڈنڈے اٹھا رکھے ہیں اور ایسے ہی ایک گروہ کی جانب سے اے سی جڑانوالہ کے دفتر پر بھی حملہ کیا گیا۔‘
وہاں موجود ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’باہر کیا ہو رہا ہے ہمیں نہیں معلوم لیکن ہم اپنے دفتر میں بند ہیں۔ مظاہرین نے ہمارے دفتر کی کھڑکیاں اور شیشے توڑے ہیں۔‘
بشپ آزاد مارشل نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ جب میں یہ لکھ رہا ہوں تو میرے الفاظ میرا ساتھ نہیں دے رہے۔ ہم بشپ، پادری اور عام افراد کو جڑانوالہ میں ہونے والے واقعے سے شدید تکلیف ہوئی ہے۔جب میں یہ پیغام لکھ رہا ہوں تو ایک گرجہ گھر کی عمارت کو نذرِ آتش کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اس دوران انجیل کی جلدوں بے حرمتی کی گئی ہے اور مسیحی افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے اور ان پر قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے کا جھوٹا الزام عائد کیا گیا ہے۔‘ان کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مدد کی اپیل بھی کی گئی ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

