مالمو : سویڈن میں قرآن پاک کو نذر آتش کیے جانے کے بعد پُرتشدد مظاہروں پر کم از کم تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔اتوار کو عراقی نژاد شخص سلوان مومیکا کی جانب سے قرآن پاک کو نذر آتش کیا گیا جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے مالمو میں امن و امان کا مسئلہ پیدا کرنے کے الزام میں مجموعی طور پر 10 افراد کو حراست میں لیا ہے۔ واقعے کے ردعمل میں سینکڑوں افراد جمع ہوئے اور کئی کاروں کو نذر آتش کیا گیا۔سلوان مومیکا نے شہر کے مرکزی علاقے میں قرآن پاک کو نذر آتش کیا تھا۔ ماضی میں بھی وہ متعدد اسلام مخالف احتجاجی مظاہروں میں حصہ لے چکے ہیں جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں سفارتی تناؤ بڑھ گیا ہے۔
مشتعل مظاہرین کے ایک گروہ نے قرآن جلانے سے روکا جس پر ان کا پولیس کے ساتھ تصادم ہوا۔ افسران کے مطابق ان پر پتھر پھینکے گئے اور بعض مظاہرین نے تو پولیس کی گاڑیوں پر الیکٹرک سکوٹر بھی پھینکے۔
مالمو کے علاقے روزنگارڈ میں پولیس کی متعدد گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا۔ یہ ایک گنجان آباد علاقہ ہے جہاں ماضی میں بھی پُرتشدد مظاہرے ہوچکے ہیں۔مالمو پولیس ایریا کمانڈر پیٹرا ستنکولا نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ’مجھے معلوم ہے کہ ایسا عوامی اجتماع جذبات ابھارنے کا کام کرتا ہے لیکن ہم سنیچر کی شب جیسی بدامنی اور پُرتشدد واقعے کو برداشت نہیں کر سکتے۔‘
رواں سال سکینڈینیویا میں قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کے کئی واقعات ہوئے ہیں۔ جون میں سلوان مومیکا نے عید الاضحیٰ کے پہلے روز سٹاک ہوم کی مرکزی مسجد کے باہر قرآن پاک کے ایک نسخے کو نذر آتش کیا تھا۔
سویڈش پولیس نے ملک میں آزادی اظہار رائے کے قوانین کے تحت سلوان مومیکا کو مظاہرے کی اجازت دی تھی۔ بعد ازاں یہ اس حوالے سے بھی تحقیقات ہوئیں کہ آیا یہ واقعہ اشتعال انگیزی کا باعث بنا۔
جنوری میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت ’ہارڈ لائن‘ کے رہنما راسموس پالودان نے سٹاک ہوم میں ترک سفارتخانے کے باہر قرآن پاک کا نسخہ نذر آتش کیا تھا۔گذشتہ ماہ ڈنمارک میں بھی ایسے کئی واقعات سامنے آئے جس کے بعد وہاں کی حکومت نے مقدس کتب کی بے حرمتی پر پابندی کی منصوبہ بندی شروع کی۔
دوسری طرف سویڈن میں حکام نے کہا ہے کہ وہ قانونی راستے سے اس نوعیت کے مظاہرے روکنے کی کوشش کریں گے۔
سٹاک ہوم میں پاکستانی صحافی عارف محمود کسانہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ’سویڈن میں پہلی مرتبہ قرآن پاک کو ملک کے سب سے بڑے شہر مالمو میں 28 اگست 2020 کو نذرِ آتش کیا گیا تھا۔ ایسا سویڈن کے سیاستدان راسموس پلوڈن نے کیا تھا۔‘
اس کے بعد سنہ 2022 کو ایسٹر کے موقع پر بھی پلوڈن نے سویڈن کے کئی شہروں میں یہ عمل دہرایا۔ 21 جنوری 2023 میں پلوڈن نے ترکی کے سفارتخانے کے سامنے پھر قرآنپاک کو نذرِ آتش کیا۔
سنہ 2023 میں ہی 28 جون کو عین عید الضحیٰ کے روز سویڈن میں سیاسی پناہ لینے والے 37 سالہ عراقی شہری سلوان مومیکا نے بھی سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم کی سب سے بڑی مسجد کے سامنے قرآن پاک کو نذرِ آتش کیا۔
( بشکریہ : بی بی سی )

