جب میں نے کتاب نگر کا آ غاز کیا تو تب سے لے کر اب تک ایک شخصیت باقاعدگی سے کتاب نگر میں تشریف لاتی ہے بلکہ ہر نئی کتاب کی وہ خوشبو سونگھتے ہیں اور پھر کچھ دیر کتاب کے مندرجات کو دیکھنے کے بعد یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اس کو میرے پاس ہونا چاہیے اس کے علاوہ وہ واحد شخصیت ہے جو گاہے گاہے فون کر کے مختلف کتابوں کی اشاعت کے بارے میں بتاتی بھی ہے اور ساتھ یہ حکم بھی صادر کرتی ہے کہ مجھے یہ کتاب فوری طور پر درکار ہے ۔
کتابوں سے محبت کرنے والا یہ شخص ادبی دنیا میں ڈاکٹر علی اطہر شوکت کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ڈاکٹر علی اطہر کے والد شوکت علی ملتان کے معروف ماہر تعلیم تھے ،جنہوں نے ہزاروں نہیں لاکھوں بچوں کو زیور تعلیم سے آ راستہ کیا والد کی تربیت کے باعث ڈاکٹر علی کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے زمانہ طالب علمی میں ہی قلم کے ساتھ رشتہ جوڑ لیا تھا ۔آ غاز میں شاعری کی ،پھر تنقید لکھی ،خاکےبھی خوب لکھے اس کے علاوہ پروفیسر لطیف الزماں خان کی صحبت کی وجہ سے غالب کے عاشق زار بھی رہے ،شاید افسانے بھی لکھے ہیں، لیکن اصل بات یہ ہے کہ وہ ادب کے ایسے طالب علم ہیں جو ہر نئی کتاب کو نہ صرف پڑھتے ہیں بلکہ اس پہ خوبصورت انداز سے اپنا تبصرہ بھی کرتے ہیں۔
کئی برس پہلے ملتان میں پہلے ایف ایم ریڈیو 103کا آ غاز ہوا تو اس کے یہ مقبول ترین میزبان بنے،وجہ یہ ہے کہ ان کا شعری ذوق اور بات کرنے کا انداز اتنا بھلا ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں لوگ ان کے مداح بن گئے ایک زمانے میں وہ ملتان میں اپنا کلینک بھی کیا کرتے تھے پھر نہ جانے کیا ہوا کہ وہ پاکستان کی مختلف این جی او کے ساتھ کام کرنے لگے اور اپنے شہر سے دور چلے گئے ۔ چونکہ گھر ملتان میں تھا بیوی بچے بھی یہیں پر رہتے ہیں۔اس لیے ملتان سے رابطہ کبھی ختم نہ کر سکے گزشتہ دنوں علی اطہر شوکت کتاب نگر تشریف لائے تو ان کی بغل میں ایک کتاب تھی نام “فاصلوں کے درمیاں“ نظر آ یا ۔ورق گردانی کی ،معلوم ہوا کہ یہ افریقہ کے قریب ایک ملک ملاوی کا سفرنامہ ہے، سچی بات تو یہ ہے کہ ہم نے ملاوی کا نام پہلی مرتبہ اس کتاب میں پڑھا اور پھر ملاوی کو دیکھنے کے شوق میں یہ کتاب پڑھتا ہی چلا گیا علی اطہر کا خوبصورت اسلوب مجھے اس کتاب کے قریب لے گیا ،تو معلوم ہوا ،ڈاکٹر علی اطہر شوکت کی نثر بہت ہی شاندار ہے یہی وجہ ہے صلاح الدین حیدر اور ارشد وحید نے کتاب کے اسلوب کو بہت پسند کیا بلکہ یہ کہا کہ اس کا انداز داستان سنانے والا ہے۔
ڈاکٹر علی بھی اپنی دنیا کا عجیب و غریب آ دمی ہے کہ وہ پاکستان جیسے ملک میں سب سے اچھے میڈیکل کالج کی ایم بی بی ایس کی ڈگری اپنے پاس رکھتا ہے اگر وہ چاہتا ایک عالی شان کلینک بنا کر روزانہ ہزاروں روپے جیب میں ڈال کر اپنے کلاس فیلوز کی طرح شاندار زندگی گزار سکتا تھا، میڈیکل کمپنیوں کے سپانسر غیر ملکی دورے کرتا ان کی مہنگی مہنگی ادویات مریضوں کو لکھ کر ہر ماہ لاکھوں جیب میں ڈالتا بڑی گاڑیوں پر گھومتا لیکن اس کا تمام خرافات سے کوئی تعلق نہیں وہ ایک ایسی دنیا کا باسی ہے جہاں پر وہ پروفیسر خالد سعید کو اپنا مرشد مانتا ہے،اب آ پ سوچیں کہ جو شخص خالد سعید کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارے، کیا وہ سفاک ہو سکتا ہے کیا ہم اس کو دنیا دار کہہ سکتے ہیں وہ تو شہر کے ہر لکھنے والے کی غمی خوشی میں سب سے پہلے دکھائی دیتا ہے اور تو اور وہ ایک ایسے شخص کے ساتھ بھی ابھی تک تعلق رکھے ہوئے ہے جو تعلق رکھنے کے قابل نہیں ہے لیکن کیا کریں ڈاکٹر علی اطہر کی شخصیت میں ایک خاص قسم کی مقناطیسیت ہے جو اسے ہر شخص سے جوڑے ہوئے ہیں وہ کسی بھی محفل میں بیٹھ کر اپنے ڈاکٹر ہونے کا رعب نہیں جھاڑتا لیکن جب کبھی کسی صنف غزل، نظم، افسانہ، ناول ،تنقید وتحقیق یا کسی ترجمے پر بات ہو تو وہ سب سے پہلے اظہار خیال کرتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا پہلا اور آ خری عشق ادب ہے اس ادب کی وجہ سے اس کو پوری دنیا میں توقیر ملی ۔وہ دوستوں کے برے وقت میں چھاؤں بن کر ان کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے اور جب شخصیت اتنی کھری ہو تو قلم میں بھی خدا برکت ڈال دیتا ہے میں سمجھتا ہوں کہ وہ ہر وقت اپنے دوستوں کے لیے سوچتا ہے اور اسی سوچ میں سے کچھ وقت لکھنے پڑھنے کو دے کر کچھ نہ کچھ تخلیق کر دیتا ہے اس کی نظمیں مستقبل کی نظمیں ہیں اس کے خاکے اور تنقید سب کو بھاتے ہیں لیکن یہ جو داستان کی طرح سنانے والا اس کا سفرنامہ جب میں پڑھنے بیٹھا تو پڑھتا ہی رہ گیا اس کی نثر میں ایسی چاشنی ہے کہ جو آ ج کے دور میں کم کم دکھائی دیتی ہے مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ ڈاکٹر علی نے پروفیشنل مصروفیت کے باوجود اپنے قلم کو زنگ نہیں لگنے دیا اور آ خر کار اس نے ایک شاندار سفر نامہ لکھ کے بتایا کہ وہ جس بھی صنف میں ہاتھ ڈالے گا اس کو سونا بنا دے گا سفرنامہ ملاوی ڈاکٹر علی کا نیا روپ ہے جو علی کے نئے روپ سے ملنا چاہتے ہیں ان کو چاہیے کہ اس کتاب کو فورا پڑھیں یہ نہ ہو کہ وہ کوئی اور کتاب پڑھتے رہ جائیں اور اتنی خوبصورت کتاب مطالعے کی منتظر رہ جائے
فیس بک کمینٹ

