ہماری جنریشن کو اظہر لودھی اچھی طرح یاد ہوں گے ، پی ٹی وی پر خبریں پڑھتے تھے ، سرکاری تقریبات کی میزبانی کرتے تھے اور ان پر رواں تبصرہ بھی فرماتے تھے ، جنرل ضیاء الحق کے چہیتے تھے ، ان کے جنازہ کی کمنٹری کرتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے تھے اور یہ بھی کہا تھا کہ جناب صدر آپ زندہ ہوتے تو دیکھتے کہ آپ کے جنازے میں کتنا بڑا عوامی سیلاب امڈ آیا ہے ، اگرچہ ان کی آہ و بکا کے بارے میں ایک واقف حال نے بتایا تھا کہ وہ مرد حق کو نہیں رو رہے تھے اسلام آباد کے اس پلاٹ کو رو رہے تھے جس کی فائل پر دستخط کرنے سے پہلے ہی وہ جاں بحق ہو گئے تھے یا اپنے اعمال کا حساب دینے کے لیے طلب کر لیے گئے تھے ۔
انہی اظہر لودھی صاحب کے بارے میں مستنصر حسین تارڑ صاحب نے بتایا تھا کہ وہ میرے ساتھ لاہور اسلام آباد موٹر وے کے افتتاح کی تقریب پر کمنٹری کے لیے جا رہے تھے تو راستے میں انہوں نے مجھ سے کہا تارڑ صاحب آپ میرے ساتھ موٹر وے پر اسلام آباد تک سفر کریں اور سفرنامہ لکھیں تو میں نے کہا لودھی صاحب میں آپ کے ساتھ ہرگز سفر نہیں کروں گا ، انہوں نے پوچھا کیوں تو میں نے ہنس کر کہا لودھی صاحب ایک تو آپ کا انجن پرانا اور ناقابل اعتبار ہے اور کہیں بھی دھواں دے سکتا ہے اور دوسرا آپ کی ڈرائیونگ پر بھی مجھے اعتماد نہیں آپ بایاں انڈیکیٹر دیتے ہیں اور دائیں مڑ جاتے ہیں ۔
اس تقریب کے بارے میں بھی ایک دلچسپ واقعہ یا چٹکلہ تارڑ صاحب نے سنایا تھا کہ متعلقہ وزیر شاید اعظم خان ہوتی نے سپاس نامے میں کہا کہ میاں صاحب آپ اس دور کے شیر شاہ سوری ہیں تو میاں صاحب نے ساتھ بیٹھے شیخ رشید سے پوچھا اے شیر شاہ سوری کون سی ؟ تو انہوں نے کہا ہندوستان کا بادشاہ تھا جس نے پشاور سے کلکتہ تک جرنیلی سڑک بنائی تھی تو میاں صاحب مسکرا کر بولے بڑا کمیشن کھادا ہونا اے۔
تارڑ صاحب بیان اور تخیل کے شیر شاہ سوری ہیں، اگر چاہیں تو موٹر وے پر پانچ گھنٹے کے سفر پر پانچ سو صفحات کا سفر نامہ لکھ سکتے ہیں ۔
میں نے جب اپنے دوست غلام سرور خان کے بارے میں سنا کہ انہوں نے ایک کتاب چوٹی بالا سے چوٹی زیریں تحریر کی ہے تو ایک دن میں نے ان سے کہا اسے چھپوانے کا بندوبست کریں اور جب تک یہ سفر نامہ چھپتا ہے آپ اس کا پارٹ ٹو چوٹی زیریں سے چوٹی بالا لکھ ڈالیں تو انہوں نے ہنس کر کہا سائیں یہ سفر نامہ نہیں میری سوانح عمری ہے اور یہ اگر میری زندگی میں چھپ گئی تو میری شہادت کا باعث بن سکتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ انہیں عمر خضر عطا فرمائے اور پاکستانی شہادت سے اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔
یہاں تو شہادت اتنی سستی ہے کہ بے احتیاطی سے ڈرائیونگ کرتے ہوئے مرنے والا اور کئی بیچاروں کو اپنے ساتھ لے جانا والا بھی شہید ہوتا ہے یعنی اس کی گاڑی کے نیچے آ کر مرنے والے بھی شہید کہلاتے ہیں ،زلزلے اور سیلاب میں مرنے والے بھی شہید اور کورونا کی وبا میں مرنے والے بھی شہید ۔ مسجد میں خود کو بارود سے پھاڑنے والا بھی شہید اور اس کے مقتولین بھی شہید اور ایسوں کے ساتھ لڑتے ہوئے جاں بحق ہونے والے بھی اتنے ہی شہید۔ میں نے ایک بار کچے کے ایک ڈاکو کا ویڈیو کلپ دیکھا تھا جس میں وہ اپنے مارے جانے والے ساتھیوں کو شہید کہہ رہا تھا اور اسے سینکڑوں لائیک ملے ہوئے تھے ، اتنی تعداد میں تو میری نیچر پر بنائی گئی ویڈیوز کے دیکھنے والے بھی نہیں ہوتے۔
بات اظہر لودھی اور ان کے آقاؤں سے شروع ہوئی اور کچے کے ڈاکوؤں تک آ پہنچی ، در اصل یہ تمہید تھی ، مجھ سے کچھ دوست پوچھتے ہیں کہ نیا سفرنامہ کب ا رہا ہے تو جناب میں نے عرصہ دراز سے کوئی سفر ہی نہیں کیا ، سفرنامہ کہاں سے آئے گا ،بس گھر سے کلینک اور کلینک سے گھر ۔۔ تارڑ صاحب جتنا قادر الکلام ہوتا تو دو سفرنامے لکھتا ایک گھر سے کلینک تک اور پارٹ ٹو کلینک سے گھر تک۔ یہ سفر کوئی ساڑھے تین ایکڑ کا ہو گا ۔۔۔ لیکن رکیے ، اس پر سفرنامہ لکھا جا سکتا ہے ، اس راستے میں جتنے پیڑ پودے جھاڑیاں پھول بوٹے پرندے حشرات چھوٹے جانور گھر عمارتیں ، ملنے والے انسان اور مویشی ،سب کے ساتھ بہت وقت گزرا ہے ، سب میرے طویل مدت کے ہم سفر ہیں ،کئی سوکھے ہوئے مردہ درختوں کے بچپن سے لے کر لمحہ موجود تک کی کہانی بھی مجھے یاد ہے ، کئی ایسے بھی ہیں جو ہوا کرتے تھے اب نہیں ہیں لیکن آج بھی میں گزرتا ہوں تو اپنے معدوم وجود کا احساس دلاتے ہیں۔ ضخیم سفرنامہ لکھا جا سکتا ہے ۔۔ لیکن اب وہ رعنائیِ خیال کہاں
اور
دل میں طاقت جگر میں حال کہاں
اور تاب و تواں، وہ ولولے کہاں سے لاؤں ۔۔۔۔ وغیرہ ۔۔۔
کاش میں لکھ سکتا ۔۔ شاید اسی کو کہا گیا تھا ۔۔
تمنا مختصر سی ہے مگر تمہید طولانی ۔
فیس بک کمینٹ

