جہان نسواں / فنون لطیفہ

جمائما گولڈ سمتھ کے گھر کے باہر مظاہرے کی کال: سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی

لندن : اگرچہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ سمتھ کو پاکستان اور عمران خان سے رشتہ توڑے کئی برس گزر چکے ہیں لیکن یہ تعلق مکمل لا تعلقی میں بدلتا دکھائی نہیں دیتا۔ آج کل وہ پاکستان میں جاری سیاسی بحران سے پریشان ہیں کیونکہ اس کا براہ راست اثر ان کے گھر اور زندگی پر پڑ رہا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما عابد شیر علی نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اپنی جماعت کے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ اتوار کو جمائما گولڈ سٹتھ کے گھر کے باہر احتجاج میں شامل ہوں۔ عابد شیر علی کا ٹویٹ میں کہنا ہے کہ وہ عمران خان کے بچوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ ان کے والد کیسے ہیں۔عابد شیر علی نے نہ صرف اپنی ٹویٹ میں احتجاج کی کال دی بلکہ اس پوسٹر پر جمائما کے گھر کا پورا پتا بھی لکھ دیا ہے۔
ان کی اسی ٹویٹ میں موجود احتجاجی پوسٹر کو شیئر کرتے ہوئے جمائما نے لکھا کہ ان کے گھر کے باہر مظاہرے کیے جا رہے ہیں، ان کے بچوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انہیں سوشل میڈیا پر یہودی مخالف بیان بازی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔جمائما کا کہنا ہے کہ انہیں لگتا ہے کہ وہ ’90 کی دہائی کے لاہور پہنچ گئی ہیں۔ ‘اس ٹویٹ کے بعد پاکستانی صحافی حامد میر اور جمائما گولڈ سمتھ کے درمیان ایسے مظاہروں کے حوالے سے بحث چھڑ گئی۔
درحقیقت جمائما کی ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے حامد میر نے پی ٹی آئی اور پی ایم ایل ن دونوں کو احتجاج روکنے کا مشورہ دیا۔حامد میر نے ٹوئٹر پر لکھا ’پی ٹی آئی کو لندن میں نواز شریف کے گھر کے باہر احتجاج بند کرنا چاہیے اور پی ایم ایل (ن) کو جمائما گولڈ سمتھ کے گھر کے باہر ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ شیشے کے گھروں میں رہنے والے دوسروں کے گھروں پر پتھر نہیں پھینکتے۔‘
لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوئی۔۔۔
حامد میر کے اس ٹویٹ کے جواب میں جمائما نے انہیں یہ یاد دلانے کی کوشش کی کہ نواز شریف اور ان میں کیا فرق ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’نواز شریف اور میرے گھر کے باہر مظاہرے میں فرق یہ ہے کہ میرا اور میرے بچوں کا پاکستان کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘جمائما کا کہنا ہے کہ ان کے بچے تو سوشل میڈیا پر بھی نہیں ہیں۔
اس بات کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے حامد میر نے لکھا کہ ’نواز شریف کے گھر میں بھی ایسی خواتین موجود ہیں جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں لیکن انہیں آئے روز نازیبا تبصروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘
صحافی حامد میر کا کہنا تھا کہ جمائما گولڈ سمتھ کو کم از کم ایسے نازیبا تبصروں اور خواتین کو ہراساں کرنے کی مذمت کرنی چاہیے۔ساتھ ہی حامد میر کا دعویٰ کیا کہ جمائما گولڈ سمتھ کے بھائی پاکستان کی سیاست میں مداخلت کرتے ہیں اور یہ کہ انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔جمائما نے مزید لکھا کہ وہ اپنے سابق شوہر یا اپنے بھائی کے کسی سیاسی عمل یا بیان بازی کی ذمہ دار نہیں ہیں۔
لندن میں جمائما گولڈ سمتھ کے گھر کے باہر پارٹی کارکنان کے مظاہرے کے حوالے سے بی بی بسی اردو نے مسلم لیگ ن کے پاکستان میں مرکزی رہنماؤں سے ان کا موقف جاننے کی کوشش کی تاہم کسی نے فی الحال اس کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔
ہمیشہ کی طرح اس معاملے پر سوشل میڈیا منقسم ہے۔ بہت سے لوگ جمائما گولڈ سمتھ کی حمایت میں ٹویٹ کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ جمائما کے گھر کے باہر اس طرح کے مظاہروں کا کوئی جواز نہیں ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
برطانوی وزیر لارڈ طارق احمد کا کہنا تھا کہ ’احتجاج کا حق ایک ایسی چیز ہے جس کا ہم برطانیہ میں تحفظ کرتے ہیں، لیکن بچوں کو نشانہ بنانا اور یہودی مخالفت کا سہارا لینا گھٹیا اور ناقابل قبول ہے۔ ‘
یاد رہے کہ جمائما گولڈ سمتھ برطانیہ کے ایک ارب پتی تاجر کی بیٹی ہیں۔ انھوں نے 1995 میں عمران خان سے شادی کی۔ ان کے دو بیٹے سلیمان خان اور قاسم خان ہیں۔ یہ شادی نو سال تک چلی اور سال 2004 میں دونوں میں طلاق ہو گئی۔
جمائما سے شادی کی وجہ سے عمران خان کو ‘یہودی ایجنٹ’ بھی کہا گیا اور ان کی شادی کو ‘سازش’ قرار دیا گیا۔ تاہم جمائما سے علیحدگی کے وقت عمران خان نے کہا تھا کہ ‘میرا گھر اور مستقبل پاکستان میں ہے جب کہ جمائما پاکستان میں رہنے کی بہت کوشش کر رہی ہیں لیکن میرے سیاسی کیریئر نے ان کے لیے یہاں رہنا مشکل بنا دیا ہے۔’
ماضی میں کئی مواقع پر پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں اور ان کے حامیوں نے جمائما گولڈ سمتھ کو عمران خان کی حمایت کرنے کے لیے نشانہ بنایا ہے۔گذشتہ سال نواز شریف کی لندن میں اپنے پوتے جنید صفدر کا پولو میچ دیکھتے ہوئے کچھ تصاویر منظر عام پر آئی تھیں۔ اس پر عمران خان نے نواز شریف کو نشانہ بنایا تھا۔ اس کے جواب میں مریم نواز نے عمران خان پر شدید تنقید کی اور ان کے بچوں پر طنز کیا تھا۔
اس کے بعد جمائما گولڈ سمتھ بھی اس بحث میں آگئیں اور مریم پر یہودی مخالف بیانات دینے کا الزام عائد کیا تھا۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker