پاکستان کے موجودہ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں صوبوں کے درمیان عدم اعتماد، ناراضی اور لسانی منافرت ایک بار پھر سر اٹھا رہی ہے۔ ملک کی سیاسی، معاشی اور سماجی بے یقینی نے ایسی فضا پیدا کر دی ہے جس میں سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے عوام اپنے آپ کو وفاق سے دور محسوس کرنے لگے ہیں۔ یہ وہ خاموش آگ ہے جس کے شعلے اگر بھڑک اٹھے تو پاکستان کی سالمیت اور قومی وحدت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں بلوچستان وہ صوبہ رہا ہے جہاں ریاستی پالیسیوں، جبری گمشدگیوں کے الزامات، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور امن و امان کی صورتحال نے عوام میں گہری مایوسی پیدا کی۔ مقامی آبادی کا یہ شکوہ بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ گیس، معدنیات اور ترقیاتی منصوبوں میں ان کے حصے کو مسلسل نظرانداز کیا گیا۔ بعض نوجوانوں کی ہلاکتوں کے بعد پورے صوبے میں جذبات جس طرح ابھرے، وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ بلوچ معاشرے میں وفاق سے ناراضی ایک سنگین سطح تک پہنچ چکی ہے۔ سوشل میڈیا ان واقعات کو چند لمحوں میں پورے ملک تک پہنچا دیتا ہے اور یوں "بلوچ ۔۔ پنجاب” تناؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔ عمومی سروے رپورٹس کے مطابق بلوچستان میں وفاق پر عدم اعتماد کی شرح 60 فیصد سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے، جو ایک خطرناک اشارہ ہے۔
خیبر پختونخوا کی صورتحال بھی مختلف نہیں۔ یہ واحد صوبہ ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان اٹھایا، مگر عوام میں یہ احساس معمول سے زیادہ پایا جاتا ہے کہ ان قربانیوں کا اعتراف نہیں کیا گیا۔ پولیس کارروائیوں، بعض خاندانوں کے الزامات، شناختی کارڈز کے مسائل اور افغان مہاجرین کی واپسی جیسے عوامل نے پختون حلقوں میں بددلی کو جنم دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر "پٹھانوں کے ساتھ زیادتی” کا بیانیہ تیزی سے پھیل رہا ہے جس سے وفاق اور صوبے کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کے پی کے کے نوجوانوں میں بڑھتی بے روزگاری اور سیاسی کشمکش نے پہلے ہی ایک بے یقینی کی کیفیت پیدا کر رکھی ہے، جسے لسانی جذبات مزید بھڑکا دیتے ہیں۔
سندھ میں تقسیم کا منظر نسبتاً زیادہ پیچیدہ ہے، جہاں ایک طرف سندھی نوجوان تاریخی محرومیوں کا ذکر کرتے ہیں، تو دوسری طرف شہری علاقوں میں بسنے والی مہاجر آبادی اپنی شکایات رکھتی ہے۔ روزگار میں کوٹہ سسٹم، زبان کا مسئلہ، کراچی کی تقسیم اور انتظامی معاملات نے سندھی—مہاجر تناؤ کو پھر سے سر اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ سندھ کے قوم پرست حلقے پنجاب کے کردار پر کھلے عام اعتراضات اٹھاتے ہیں جبکہ شہری سندھ میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ ان کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ نتیجہ یہ کہ صوبہ اندرونی طور پر تقسیم اور وفاق سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
صوبوں کے درمیان یہ بڑھتی نفرت محض سیاسی تنازع نہیں رہی بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ جب ریاست پر اعتماد کم ہوتا ہے تو بغاوتی جذبات اور علیحدگی پسند بیانیے بڑھتے ہیں۔ ایسی صورت میں بیرونی طاقتوں کے لیے مداخلت کے مواقع بھی کھل جاتے ہیں، اور ملک کے اندر معاشی ترقی، سرمایہ کاری، سی پیک جیسے منصوبے اور وفاقی سطح کے فیصلے متاثر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ دنیا کی تاریخ ثابت کرتی ہے کہ اندرونی تقسیم بیرونی دشمنوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچاتی ہے، اور یہی وہ خطرہ ہے جو پاکستان اس وقت محسوس کر رہا ہے۔
اس صورتحال کا واحد حل ایک جامع قومی حکمتِ عملی ہے جس میں صوبوں کے ساتھ مسلسل اور سنجیدہ سیاسی مکالمہ سب سے بنیادی ضرورت ہے۔ بلوچستان اور کے پی کے میں پائے جانے والے شکوک کو صرف یقین دہانیوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے دور کیا جا سکتا ہے۔ جبری گمشدگیوں اور آپریشنز کے حوالے سے شفاف پالیسی بنانا ضروری ہے تاکہ عوام کو معلوم ہو کہ ریاست کیا کر رہی ہے اور کیوں کر رہی ہے۔ اسی طرح وسائل اور ترقیاتی بجٹ کی منصفانہ تقسیم، خاص طور پر NFC ایوارڈ کا جدید تقاضوں کے مطابق جائزہ، صوبوں کے درمیان اعتماد کو بڑھا سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر نفرت انگیز بیانیے کی روک تھام بھی ایک اہم مرحلہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قانون سخت بھی ہو اور شفاف بھی، تاکہ آزادیٔ اظہار متاثر نہ ہو اور نفرت کا کاروبار بھی ختم ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی نصاب میں صوبائی تاریخ اور ایک دوسرے کے کلچر کا حصہ شامل کرنا نئی نسل کے ذہن میں غلط فہمیوں کو ختم کر سکتا ہے۔ بچوں کو یہ سمجھانے کی یہ وقت ہے کہ ہم بطور قوم یہ فیصلہ کریں کہ نفرت کی ان دیواروں کو مزید اونچا کرنا ہے یا انہیں گرانا ہے۔ اگر یہ دیواریں آج نہ گرائیں گئیں تو کل بہت دیر ہو چکی ہوگی۔

