کوئٹہ : پاکستان اور افغان طالبان نے ایک بار پھر ایک دوسرے پر چمن، سپین بولدک سرحد پر حملے کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
جمعے کی رات وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ترجمان برائے غیرملکی میڈیا مشرف زیدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’افغان طالبان نے چمن سرحد پر بلااشتعال فائرنگ کی ہے، جس پر ہماری مسلح افواج نے فوری اور شدید ردِ عمل دیا ہے۔‘
’پاکستان مکمل طور پر چوکنّا ہے اور اپنی علاقائی سالمیت اور شہریوں کی حفاظت کے لیے پُرعزم ہے۔‘
ایسا ہی بیان افغان طالبان حکومت کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی جاری کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ: ’بدقسمتی سے آج شام پاکستان نے ایک بار پھر سپین بولدک، قندہار میں افغانستان کی طرف حملے شروع کر دیے، جس پر امارتِ اسلامیہ کے دستے بھی ردِعمل دینے پر مجبور ہوئے۔‘
دوسری جانب چمن میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ڈاکٹر محمد اویس نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’افغانستان کی جانب سے ہونے والی فائرنگ سے زخمی ہونے والے تین شہریوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کی ہدایت پر نہ صرف چمن بلکہ کوئٹہ شہر سمیت صوبے کے دیگر ہسپتالوں میں بھی ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی )

