اسلام آباد کی ایک عدالت نے پانچ روز پہلے دو لڑکیوں کو کچل کر ہلاک کرنے والے نوجوان کو رہا کر دیا ہے۔ اس سولہ سالہ نوجوان نے ایک اسکوٹر پر جانے والی دو نوجوان لڑکیوں کو اپنی قیمت ایس یو وی گاڑی کی ٹکر سے مار دیا تھا اور موقع سے فرار ہو گیا تھا۔ یہ نوجوان اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج کا صاحبزادہ ہے اور انہی کی بیش قیمت گاڑی چلا رہا تھا۔
ملک میں کسی کو اس فیصلہ پر حیرت نہیں ہوگی۔ درحقیقت ملک کے ’نظام انصاف‘ سے اسی فیصلہ کی امید کی جا رہی تھی۔ غریب خاندانوں کی نوجوان بیٹیوں کی ہلاکت ایسا کوئی سانحہ نہیں تھا جس سے عرش کے مینارے ہل جاتے۔ دولت اور اختیار میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ ماں باپ کی محبت کو بازار میں رکھ کر اس کی قیمت لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ملک میں یہ اپنی نوعیت کا واحد واقعہ نہیں تھا۔ ماضی میں ایسے کتنے ہی جرائم کے بعد قاتلوں نے خوں بہا یا دیت کے قوانین کا سہارا لے کر سزا سے نجات پائی ہے اور دوبارہ معصوم انسانوں کو پرکاہ سمجھنے کے لیے قیمتی گاڑیوں میں گھومنے کا پروانہ حاصل کیا ہے۔ البتہ سیاست میں شفافیت کے دعوؤں کے پر جوش ماحول میں ایک لمحے کے لیے یہ سوچنا ضروری ہے کہ اگر یہی انصاف ہے تو نا انصافی اور ظلم کس کیفیت کو کہا جائے گا۔ ایک با اختیار جج اور دولت مند شخص تو اپنے بیٹے کی جان بخشی کے لیے لاکھوں یا کروڑوں روپے ادا کر کے انصاف کے تقاضے پورے کر لیتا ہے لیکن اگر یہی غلطی کسی غریب کے بیٹے سے سرزد ہو جائے تو کیا اس کی اولاد محض بنک اکاؤنٹ میں دولت نہ ہونے کی وجہ سے جیل میں سڑتی رہے گی؟
ملک میں دیگر شرعی قوانین کی طرح دیت کے قوانین بھی کسی تحقیق یا بدلتے حالات کے تقاضوں کو سامنے رکھے بغیر محض عوام کو جذباتی طور سے اسلام پسندی کا جھانسا دینے کے لیے متعارف کرائے گئے تھے۔ ملک کی اشرافیہ تو اس سے بخوبی مستفید ہو رہی ہے اور وہی لوگ اپنے گھر والوں کے خون کی قربانی دے کر اس کی قیمت ادا کرتے ہیں جنہیں مذہب کے نام پر گمراہ کر کے استحصال و نا انصافی کے نت نئے معیار قائم کیے گئے ہیں۔ بدقسمتی سے ملک کے علما اور مذہبی رہنماؤں نے ہمیشہ اشرافیہ اور با اثر طبقوں کے مفادات کے چوکیدار کا کردار ادا کیا ہے، اس لیے انہیں بھی شریعت کے ایسے غیر منصفانہ استعمال پر کوئی تشویش لاحق نہیں ہوتی۔ بصورت دیگر یہ سامنے کی بات ہے کہ جیسے بلاسفیمی قوانین اور استحصالی گروہوں کے ہاتھوں ان کے ناجائز استعمال سے سینکڑوں بے گناہوں کو طویل المدت سزائیں دی جاتی رہی ہیں بعینہ دیت کے قوانین کے ذریعے طاقت ور لوگوں کو قتل جیسے گھناؤنے جرم سے نجات پانے کا چور راستہ عطا کیا گیا ہے۔ لیکن ملک کے کسی مفتی یا دینی ماہر کو اس سقم کی طرف اشارہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ بلاسفیمی قوانین کے علاوہ دیت کے قوانین کا از سر نو جائزہ لیا جائے اور انہیں شریعت کے نظریہ انصاف کے مطابق تبدیل کیا جائے۔ تاکہ یہ قوانین معاشرے میں نا انصافی اور طبقاتی تقسیم گہری کرنے کے لیے استعمال نہ ہوں۔
دیت قوانین کے اطلاق سے قطع نظر سوموار کو رات گئے اسلام آباد کی کونسل آف آرٹس کے قریب اس سانحہ کے حوالے سے دیگر بہت سے سوالات جواب طلب ہیں۔ لیکن چونکہ سوشل میڈیا اور مباحث میں صرف لڑکیوں کی افسوسناک موت پر توجہ مبذول تھی لہذا مظلوم مقتولین کے ورثا سے معافی ناموں پر دستخط کرا کے اس بحث کو نمٹانے اور قاتل کو رہا کرانے کو ترجیح دی گئی ہے۔ اس شور میں دیگر بنیادی اور اہم سوال دب کر رہ گئے ہیں۔ اب جج صاحب کا صاحبزادہ چونکہ اپنے آرام دہ گھر میں واپس جا سکے گا اس لیے تمام متعلقہ سوالات بے معنی ہو کر رہ جائیں گے۔ (اگرچہ یہ سچ بھی کبھی سامنے نہیں لایا جائے گا کہ اس سانحہ کے ملزم نے کیا واقعی گزشتہ چار دن پولیس حوالات میں گزارے تھے یا اسے کسی شایان شان گیسٹ ہاؤس میں رکھا گیا تھا) ۔ قانون نافذ کرنے والے یا اخلاقیات کا درس دینے والے یا سیاست میں شفافیت اور مساوات لانے والے کسی طبقے یہ سوالات کریدنے اور ان کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی۔ لیکن محض حکمرانوں اور اشرافیہ کی بے حسی کی وجہ سے ان سوالوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا بلکہ انہیں ریکارڈ پر لانا اور یہ اصرار کرنا ضروری ہے کہ ان کا جواب دیا جائے۔ کوئی جرم خواہ کتنا ہی چھوٹا ہو اور اس میں ملوث کوئی شخص کتنا ہی بڑا ہو، اسے اس کا ذمہ دار سمجھا جائے۔
سب سے پہلا سوال تو اس جج کے بارے میں ہے جس کا قانونی طور سے نابالغ لڑکا ان کی قیمتی گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا؟ یہ بچہ تو کمسن اور ناسمجھ تھا لیکن مبینہ طور پر کروڑوں روپے مالیت کی گاڑی چلانے کی اجازت دینے والے باپ پر بھی کوئی فرد جرم عائد ہو گی یا وہ اس لیے بے قصور سمجھا جائے گا کیوں کہ وہ ہائی کورٹ کا جج ہے؟ اس لڑکے نے غریب خاندانوں کی دو معصوم بے گناہ بچیوں کو ہلاک کر دیا۔ لاچار والدین نے اس گناہ پر اسے معاف بھی کر دیا لیکن رات گئے بغیر لائسنس لاپرواہی سے گاڑی چلانے، ڈرائیونگ کے دوران ویڈیو بنانے اور حادثہ کے بعد جائے وقوعہ سے بھاگ جانے کے جرائم تو دیت دینے سے ختم نہیں ہوں گے۔ کیا ریاست ان غلطیوں کا حساب لے گی؟
پولیس نے اس جرم میں ملوث اعلی عدلیہ کے نابالغ بیٹے کو حادثے کے بعد ایک نجی ہسپتال سے گرفتار کیا۔ جہاں اسے چیک اپ کے لیے لایا گیا تھا۔ یعنی اس کے باپ سمیت پورا خاندان اس ایکسیڈنٹ کو نظرانداز کرنے اور مرنے والی لڑکیوں سے بے خبر رہنے کے جرم میں ملوث تھا۔ قانون کے محافظ جج صاحب اپنے بیٹے کو ہسپتال کی بجائے پولیس کے پاس نہیں لے کر گئے اور نہ ہی انہوں نے یہ زحمت کی کہ حادثہ کا شکار ہونے والی بچیوں کی خبر لے لیتے۔ البتہ جب پولیس نے بیٹے کو گرفتار کر لیا اور ایک مجسٹریٹ اس کا چار روز کا ریمانڈ دینے پر مجبور ہو گئیں تو کسی نہ کسی طرح مجبور و لاچار خاندانوں کو معافی نامے لکھ کر دینے پر آمادہ کیا گیا اور آج عدالت سے بیٹا رہا کرا لیا۔ ایک جج کی اس مجرمانہ کوتاہی یا غفلت سے یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کہ جو شخص صاف دکھائی دینے والے جرم کی پردہ پوشی میں ملوث ہونے میں قباحت نہیں سمجھتا، وہ جج کی کرسی پر بیٹھ کر کیا انصاف کرتا ہو گا؟ ایسی عدلیہ پر عوام کا اعتماد کیوں اور کیسے بحال ہو گا؟
اشرافیہ کی اولاد کے ہاتھوں غریب خاندان کے لوگوں کے قتل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جسے اب بھلایا جا رہا ہے۔ اور جس طریقے سے چند روز کے اندر دو انسانوں کے قاتل کو رہا کرایا گیا ہے، اس سے یہ بھی یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ یہ آخری واقعہ بھی نہیں ہو گا۔ کیا ہماری عدلیہ اور اس کے معزز ارکان اس صورت حال پر غور فرمانے کی زحمت کریں گے کہ جب ان کی اولادیں جرم میں ملوث ہوں اور قانونی عذر پر انہیں رہا کرایا جائے تو ریمارکس، فیصلوں اور اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں سب کے لیے فوری اور سستا انصاف فراہم کرنے کی باتیں کیسے قابل قبول ہوں گی؟ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو اس سارے معاملے کا نوٹس لینا چاہیے اور اگر ممکن ہو تو سپریم جوڈیشل کونسل کے ذریعے ایسے ججوں سے اپنی عدلیہ کی جان چھڑائی جائے۔
یہ رہائی قصاص کے قانون کے تحت ہوئی ہے لیکن مروجہ طریقہ کے مطابق صرف یہ خبر سامنے آنے دی گئی ہے کہ مرنے والی بچیوں کے والدین نے عدالت میں آ کر ملزم کو معاف کرنے کا اقرار کیا۔ اور مجسٹریٹ نے کسی حجت کے بغیر اسے چھوڑ دیا۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ اس نام نہاد ’معافی‘ کے لیے جج صاحب نے مرحوم لڑکیوں کے خاندانوں کو کیا معاوضہ دیا ہے۔ کیا دیت لے کر قتل معاف کرانے کے معاملات میں دیت کی رقم اور دیگر شرائط سامنے نہیں آنی چاہئیں؟ معلوم تو ہو کہ اس ملک کی اشرافیہ کی نگاہ میں ایک غریب کی زندگی کی کیا قیمت لگائی گئی ہے؟
(بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

