کالملکھاریمظہر عباس

مظہر عباس کا کالم : لاپتہ افراد کا قبرستان

کراچی 70 کی دہائی تک اتنا گدلہ نہیں تھا جتنا بنادیا گیا یعنی ایک جماعت کو ختم کرنا ہے تو دوسری لائی جائے۔ ایک مسلح گروہ کو ہٹانا ہے تو دوسرے کو مسلح کردو۔ اس چکر میںہزاروں لوگ مر گئے مسئلہ وہیں کا وہیں موجودرہا۔ پھر جب بات ہاتھ سے نکل گئی تو 2013 میں جاکر ’’بلا امتیاز‘‘ آپریشن کا فیصلہ کیا گیا مگر سیاست میں ہیرا پھیری پھر بھی جاری رہی اور آج تک جاری ہے۔ مہاجر اور اردو بولنے والوں کے نام پراتنے گروپ بنادیے گئے ہیں کہ کوئی بھی مسئلہ حل نہ ہوسکے۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ پی پی پی کا مقابلہ کرنا ہے اب کہا جاتا ہے پاکستان تحریک انصاف میں ضم ہوجائو۔ یہی حال جماعت اسلامی کا کیا گیا۔ بھٹو کی پھانسی کیلئے سیاسی حمایت حاصل کی گئی تو بعد میں اسی کی کمر توڑنے کے لئے طلبہ یونینز پر پابندی لگادی گئی۔
ویسے تو ہر الیکشن میں یہاں کھیل تماشہ ہوتا رہا ہے مگر 2018 میں عجب سیاست کی غضب کہانی رہی۔ اب کہا تو یہ جاتا ہے کہ دہشت گردوں کی صفائی ہوگئی، نالوں کی صفائی ہوگئی یا ہورہی ہے، جوکھیل کے میدان بچ گئے ہیں ان پر تجاوزات نہیں ہونےدی جائیں گی اور سیاسی میدان میں کھل کر مقابلے کی اجازت ہوگی۔ مگر جعلی مردم شماری کراکے اور تین ساڑھے تین کروڑ کے شہر کو پونے دو کروڑ کا دکھا کر پری پول دھاندلی پہلے ہی کردی گئی۔ بدقسمتی سے شہر کے دعویداروں نے جن کی کمر پہلے ہی توڑ دی گئی ہے اس کو تسلیم کرلیا ہے۔
یہ ایک الگ کہانی ہے کہ ایسا کیا ہوا کہ وفاقی وزیر امین الحق کو کابینہ اجلاس کے دوران کراچی سے تعلق رکھنے و الے ایک اور وزیر کی پرچی ملی اور انہوں نے جن سفارشات کو پارٹی پالیسی کے تحت منظور کیا تھا انہی پر یو ٹرن لے لیا۔ اب پرچی دینے والا بھی اپنا ہی ہوگا چاہے وہ آپ کے کوٹے پر آیا ہو یا نہیں تو پھر وہی کریں گے جو انہوں نے کیا۔ اب یہ کس کے کہنے پرکیا ،یہ رہنے دیں۔ اس پس منظر میں جتنا آزادانہ الیکشن ہوسکتا ہے کرادیا جائے گا۔ اب دیکھتے ہیں 2017 کی مردم شماری کے نتیجے میں کیا حلقہ بندیاں ہوتی ہیں؟ کہتے ہیں، اس سال بلدیاتی الیکشن ہوجائیں گے۔
اختیارات نچلی سطح تک لے جانے کو کوئی تیار نہیں۔ 18؍ ویں ترمیم بھی وفاق سے صوبوں تک محدود ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کا میئر صرف 34؍ فیصد علاقے پر اختیار رکھتا ہے اور اگر وہاں بھی کوئی اہلیت سے عاری شخص آجائے تو بس سمجھ لیں نتائج کیا ہونگے۔لہٰذا جب تک صحیح مردم شماری، نچلی سطح تک اختیارات کی تقسیم نہیں ہوتی شہر کے معاملات پیچیدہ ہی رہیں گے۔ اس وقت کراچی کے رہے سہے ’’سیاسی میدان‘‘ میں مقابلہ حکومتی اتحاد یعنی پاکستان تحریک انصاف، متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان)، جی ڈی اے کا پاکستان پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت اور حزب اختلاف یعنی جماعت اسلامی، پاک سر زمین پارٹی اور 2018 میں حیران کن ووٹ لینے والی تحریک لبیک پاکستان سے ہونا ہے۔ ابھی کچھ تماشہ تو سینیٹ میں ہونا ہے۔
وزیراعظم عمر ان خان کی اس بات کی میں پوری تائید کرتا ہوں کہ ’’سیکرٹ بیلٹ‘‘ اراکین کو خریدنے کا بہترین ذریعہ ہوتا ہے۔ میری اطلاع کے مطابق سندھ میں حکمراں اتحاد شاید اپنے اراکین کوقابونہ کر پائے۔ ایسا ہوتا ہے تو ممکن ہے متحدہ کو ایک بھی سیٹ نہ مل پائے۔ پی ٹی آئی اور جی ڈی اے کے ساتھ بھی ہاتھ ہوجائے، اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ بھی ’’این آر او‘‘ کی ایک شکل ہی ہوگی۔ مگر محترم وزیراعظم یہی کام تو پنجاب میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کررہے ہیں اورا ٓپ تو ترقیاتی فنڈز کو ’’رشوت‘‘ کہا کرتےتھے، ختم کرنے کی بات کرتے تھے۔ دوسرے کو چور ڈاکو کہنے سے کام نہیں چلے گا پہلے اندرکی چوری روکیں۔ کے پی کی طرح پنجاب اور سندھ میں بھی مثال قائم کریں۔
کراچی کی گدلی سیاست میں میدانوں کی صفائی جاری ہے۔ اسی امید کے ساتھ اس وقت تمام جماعتیں ’’نیٹ پریکٹس‘‘ کررہی ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکمران جماعتیں ترقیاتی کاموں کے دعوے کے ساتھ میدان میں ہیں تو دوسری طرف جماعت اسلامی، پی ایس پی اور تحریکِ لبیک بھی پوری طرح متحرک ہیں۔ جماعت نے’’حق دو کراچی کو‘‘ کے نام سے بھرپور مہم چلائی ہوئی ہے۔ دھرنے، مظاہرے اور ایک ریفرنڈم بھی کرایا ہے ۔ ماضی میں جماعت کے دو میئر جناب عبدالستار افغانی مرحوم اور نعمت اللہ مرحوم کی مثالوں کے ساتھ وہ کوٹہ سسٹم، مردم شماری اور بلدیاتی اختیارات کی بات بھی کررہے ہیں۔دوسری طرف سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال جن کا بلدیاتی معاملات میں خاصہ تجربہ ہے ایک اچھے منتظم انیس قائم خانی کے ساتھ ’’کراچی سب کا ہے‘‘ کے نظریہ کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ مگر 2018 کی طرح ان پر دبائو ہے کہ پی ٹی آئی میں ضم ہوجائیں ورنہ نقصان ہوگا۔رہی بات تحریک لبیک کی تو شائد اس بار وہ کچھ حیران کن نتائج دے سکتی ہے خاص طور پر بلدیاتی الیکشن میں ۔
ایسے میں پی ٹی آئی اور متحدہ (پاکستان) جن کے پاس اب بھی نشستوں کے حوالے سے کراچی میں اکثریت ہے کیا ’’کراچی ٹرانسفارمیشن‘‘ پلان کے ذریعہ کامیابی حاصل کرسکتی ہیں، اگر ایسا ہوتا ہے تو میئر پی ٹی آئی کا ہوگا۔مگر شاید پی پی پی یہ بازی بھی جیتنا چاہتی ہے۔ ماضی میں اس کے پاس دوبار ڈپٹی میئر رہا ہے کئی ٹائون رہے ہیں اور اب تو اختیارات بھی اسی کے پاس ہیں۔ بدقسمتی سے ’’منی پاکستان‘‘ کی تعمیر بنیادی مسئلہ کو حل کئے بغیر کی جارہی ہے۔
عمارت کمزور بنیاد ڈال کر کی جائے تو خطرہ بلڈنگ کے گرنے کا ہوتا ہے۔ کراچی کی بنیادیں تو ویسے بھی ہلا دی گئی ہیں اب تعمیر کا ٹھیکہ بھی انہی غیر تجربہ کار ’’انجینئرز‘‘ کو دے دیا گیا جن کی و جہ سے شہرکا برا حال ہوا ہے، کوئی بحث کرنا چاہے تو حاضر ہوں۔ جب تجاوزات زیادہ ہوں تو گھٹن محسوس ہوتی ہے، اسی لئے یہ واحد شہر ہے جہاں لاپتہ افراد کا قبرستان موجود ہے۔

( بشکریہ : روزنامہ جنگ )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker