کراچی / کوئٹہ : پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں طوفانی بارش کے دوران حادثات میں کم از کم 21 افراد ہلاک ہوگئے ہیں، محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کا سلسلہ دوسرے روز جمعرات کو بھی جاری رہے گا۔
بلدیہ کے علاقے سیکٹر 11 میں دیوار گرنے سے کم از کم 13 افراد ہلاک ہوئے، ڈپٹی کمشنر کیماڑی امیر حیدر اویسی نے بی بی سی کو بتایا کہ پی ٹی سی ایل کی 12 فٹ اونچی چار دیواری تھی شدید بارش سے بچنے کے لیے لوگ نے اس دیوار کا سہارا لیا تھا لیکن تیز ہواؤں کی وجہ سے یہ دیوار گر گئی نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے بی بی سی کو بتایا کہ بلدیہ سمیت کل 15 لاشیں لائی گئیں جن میں سے 13 کی قانونی کارروائی کی گئی جبکہ دو لاشیں رشتے دار بغیر پوسٹ مارٹم کے ساتھ لے گئے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق بارش کے دوران مختلف حادثات اور واقعات میں کم از کم 21 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
محکمہ موسمیات نے بدھ کے روز بارش کی پیشگوئی کی تھی تاہم جب ساڑھے 8 بجے کے قریب شدید ہواؤں کے ساتھ بارش شروع ہوئی تو لوگوں کی ایک بڑی تعداد عید کی خریداری کے لیے بازاروں میں موجود تھی۔
ڈیفنس اور ناظم آباد کے علاقوں میں عید کی خریداری کے لیے آنے والے شہری بھی بارش کی وجہ سے پھنس کر رہے گئے جبکہ سمندر کے کنارے دو دریا میں موجود ریستوران کا لکڑیوں سے بنا ایک حصہ بھی گر گیا۔
صدر، شاہراہ فیصل سمیت کئی علاقوں میں درخت بھی جڑ سے اُکھڑ گئے اور کئی گھروں میں کھڑکیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق کلفٹن ڈرائیور لائسنس برانچ کے قریب درخت گرنے سے ایک خاتون ہلاک اور اس کا بیٹا زخمی ہو گیا۔ حکام کے مطابق بارش سے بچنے کے لیے اُنھوں نے درخت کے نیچے پناہ لی تھی۔
محکمہ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ امیر حیدر لغاری نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ روز کراچی میں کم ازکم 8 ملی میٹر بارش جناح ٹرمینل پر ریکارڈ کی گئی جبکہ 30 ملی میٹر ناظم آباد اور زیادہ سے زیادہ 56 ملی میٹر کورنگی میں ریکارڈ ہوئی ہے۔
اُنھوں نے بتایا کہ طوفانی ہواؤں کی فی گھنٹہ رفتار ایئرپورٹ اور شاہراہ فیصل پر 90 کلومیٹر فی گھنٹہ اور ماڑی پور پر اس کی شدت زیادہ تھی جہاں رفتار 98 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی ہے۔
چیف میٹرولوجسٹ کے مطابق یہ موسم کی تبدیلی کا وقت ہوتا ہے جس میں موسم سرما بہار میں داخل ہوتا ہے۔۔ ان کے مطابق اس تبدیلی میں بارشیں کم ہی ہوتی ہیں ان کے پاس موجود ریکارڈ کے مطابق 15 مارچ 1976 کو 24 گھنٹوں میں 62 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔
بارش اور طوفانی ہواؤں کی وجہ سے ڈفینس، کلفٹن، منگھو پیر، کورنگی سمیت شہر کے کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی میں بھی تعطل آیا، کے الیکٹرک کے ترجمان عمران رانا کے مطابق 2100 میں سے تقریبا 1540 فیڈرز سے بجلی جاری رہی تھی جبکہ بحالی کی کوششیں جاری ہیں آخری اطلاعات کے مطابق 1950 فیڈرز بحال کیے گئے ہیں۔
بلوچستان
کراچی سے متصل بلوچستان کے ضلع حب میں گزشتہ شب طوفانی ہوائوں اور بارشوں سے جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔
ڈپٹی کمشنر حب اسماعیل ابراہیم نے جام غلام قادر ہسپتال کے دورے کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ساکران میں رمضان مری گوٹھ سمیت ضلع حب کے دو مختلف مقامات پر دیواریں گرنے سے ایک بچی سمیت دو افراد ہلاک ہوئے ۔
ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے دیگر واقعات میں 15 افراد زخمی ہو گئے جن کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے جام غلام قادر ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ وندر کے علاقے میں طوفانی ہوائوں کے باعث آتشزدگی سے بڑی تعداد میں پولٹری کا نقصان ہوا ہے جبکہ اس سے گھروں اور دیگر املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ متاثرین کو ریلیف کی فراہمی کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جبکہ مالی نقصانات کا تخمینہ لگایا جارہا ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

