2018 انتخاباتاختصارئےکاشف رفیقلکھاری

نمبر گیم ۔۔ کسی پارٹی کے پاس کتنے نمبر ؟ : چَنگی گَل / کاشف رفیق

2018 کے انتخابات کے بعد حکومت بنانے کے لیے سیاسی جوگیوں کا جوڑ توڑ عروج پر ہے، کوئی عمران کے نمبر میں کمی کا پراپیگنڈا کررہا ہے تو کسی کو اپوزیشن کا اتحاد مضبوط دکھائی دے رہا ہے ۔۔۔اس افواہ زدہ ماحول میں عددی برتری سے متعلق حقائق کو آپ کے سامنے رکھنا ضروری سمجھا۔۔۔اس وقت تحریک انصاف کے پاس 116 قومی اسمبلی کی نشستیں ہیں جبکہ 7 آزاد امیدوار بھی تحریک انصاف کا حصہ بن چکے ہیں ان کی کل تعداد123 ہےخواتین کی مخصوص نشستوں کا فارمولہ سادہ ہےپنجاب میں قومی اسمبلی کی4.27 نشستوں پرایک مخصوص نشست ملتی ہے ۔ اس طرح تحریک انصاف اور آزاد ملاکر 16 نشستیں ملنے کا امکان ہے، بلوچستان میں4نشستوں پر1خواتین نشست ملے گی،کے پی کے میں 5.66 نشستوں پر 1 مخصوص نشست ملتی ہے پی ٹی آئی کی 36 نشستوں پر 6 مخصوص نشستیں ملنے کا امکان ہے،سندھ میں 4.35 ارکان پر ایک نشست ہو توتحریک انصاف کی 12 نشستوں پر 3 خواتین اسمبلی میں آئیں گی۔۔ اقلیتوں کی بھی 5 نشستیں ملنے کا امکان ہے اس اعتبار سے تحریک انصاف کےپاس154 نشستیں بنتی ہیں جبکہ عمران خان کی 4،میجر طاہرصادق1،غلام سرور کی 1 نشست کو منفی کردیں توتحریک انصاف کا نمبر 148 بنتا ہے اس میں ق لیگ کی 4،بلوچستان عوامی پارٹی کی 4 ،جی ڈی اے کی 2،عوامی مسلم لیگ کی 1 اور ایم کیوایم کی 6 شامل کریں تو کل تعداد165 بنتی ہے،اتحادیوں کی خواتین کی نشستیں 4 اور اقلیتی 1بنے گی ،اس اعتبار سے عمران اور
اتحادیوں کی تعداد 170ہوجائےگی،لیکن ق لیگ کی 2قومی اسمبلی کی نشستیں چھوڑنے کی صورت میں یہ تعداد168 ہوجائےگی،جبکہ وزیراعظم بننے کے لیے 172 کا نمبر ہونا ضروری ہےجس تک پہنچنے کے لیے تحریک انصاف کو 4 ووٹ درکار ہیں۔۔۔ اب آئیے اپوزیشن کے نمبروں پر تو ن لیگ 64 پیپلزپارٹی 43 اور ایم ایم اے 13اے این پی 1ہے ان کو یکجا کریں تواپوزیشن اتحاد کا نمبر 121ہے بقیہ خواتین اور اقلیتی نشستوں کو اپوزیشن اتحاد میں جمع کریں تو 155 کا نمبر حاصل ہوتا ہے اس تمام نمبر گیم میں ابھی تک 6 آزاد ارکان،بلوچستان کے اختر مینگل 2 اور جمہوری وطن پارٹی کی 1 نشست نے فیصلہ نہیں کیا،اس نمبر گیم میں ابھی تک سادہ اکثریت کسی کے پاس نہیں لیکن یہ توقع ہے کہ اکثریتی نمبر کے حساب سے عمران خان وزیراعظم بن جائیں گےلیکن سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب خفیہ رائے شماری سے ہوتا ہے جس میں ووٹ ادھر اُدھر ہونے کا اندیشہ رہتا ہے،اوریاد رہے کہ اپوزیشن کی جانب سے سپیکر کا امیدوارپیپلزپارٹی سے آنا ہے۔۔
نوٹ !یہ نمبرمورخہ 2 اگست کے الیکشن کمیشن کےاعداد کے حساب سے ہیں !!

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker