خالد مسعود خانکالملکھاری

صوبہ جنوبی پنجاب اور مستعفی ہونیوالے ارکان اسمبلی: کٹہرا / خالدمسعودخان

اس وقت نئے صوبے کے معاملے پر ملک بھر میں سب سے زیادہ معاملہ جنوبی پنجاب کا گرم ہے اور اس کی وجہ بلکہ وجوہ بڑی جینوئن ہیں۔ صوبہ بہت بڑا ہے بلکہ بہت ہی بڑا ہے انتظامی طور پر اسے لاہور سے چلانا ناممکن ہو چکا ہے کہ موجودہ فرسودہ طرز حکومت یہ بوجھ اٹھانے سے قاصر ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، سارے ترقیاتی فنڈز کا صرف لاہور پراستعمال اور مسلسل ناانصافی ، استحصال اور پسماندگی۔ یہ وہ وجوہ ہیں جنہوں نے ایک علیحدہ صوبے کے مطالبے میں جان ڈال دی ہے۔ اب یہ جن تا دیر بوتل میں بند رکھنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو چکا ہے۔
اس مسئلے پر گزشتہ چند سال میں جنوبی پنجاب والوں کے ساتھ مسلسل فراڈ بھی ہوتا رہا ہے اور ہر فریق نے اپنی اپنی جگہ پر اہل وسیب کو جی بھر کر غچہ دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے صوبہ جنوبی پنجاب کی قرار داد جمع کروانے کے جواب میں میاں شہباز شریف نے پیپلز پارٹی کی اس حرکت کا جواب دینے کی غرض سے 2013 ء میں پنجاب اسمبلی سے دو صوبوں کی قرارداد منظور کروالی۔ صوبہ بہاولپور اور صوبہ ملتان ، یہ محض وسیب کے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف قرار دادیں تھیں اور ان کے پیچھے رتی برابر اخلاص یا سچائی نہ تھی۔ یہ صرف اور صرف پیپلز پارٹی کی قرار داد کا جواب تھا یعنی یہ صرف قرار داد برائے قرار داد تھی۔ اس وقت تو پنجاب حکومت کا موقف تھا کہ مرکز میں ان کی حکومت نہیں ہے تاہم اس ڈرامے بازی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ خود مسلم لیگ ن کی منظور کردہ یہ قرار داد گزشتہ پانچ سال سے قومی اسمبلی کے کسی ریکارڈ روم میں گل سڑ رہی ہے۔
پھر ایک اور لالی پاپ کا آغاز ہوا، بارہ مارچ 2014 ء کو پنجاب حکومت نے ایک نوٹیفکیشن نمبر So (Staff) To ACS/1-50/2014 جاری کر دیا۔ اس نوٹیفکیشن کے تحت ایک کمیٹی بنائی گئی جس کا چیئر مین رانا ثناء اللہ اور شریک چیئر مین حمزہ شہباز شریف تھا۔ اس کمیٹی میں کل چونسٹھ ارکان تھے۔ ان ارکان میں بڑے بڑ ے نام شامل تھے۔ تب کے سینیٹر ملک محمد رفیق رجوانہ (موجودہ گورنر پنجاب) اس علاقے کے تیرہ ایم این اے، سولہ ایم پی اے، انیس ٹاپ بیورو کریٹس چار پانچ ریٹائرڈ بیورو کریٹس ،ایک سابق جج ، دو سابقہ ایم این اے جن کا تعلق جنوبی پنجاب سے تھا اور ایک دو لوگ سول سوسائٹی سے تھے اور دو تین کا تعلق مختلف تعلیمی اداروں وغیرہ سے تھا یہ کل ملا کر چونسٹھ لوگ تھے اور اس کمیٹی کا مقصد جنوبی پنجاب میں ایک چھوٹے یعنی سب سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں لانا تھا تاکہ وسیب کے لوگوں کو یہ تسلی کروائی جا سکے کہ تخت لاہور ان کے لئے آسانیوں کا بندوبست کر رہا ہے۔
اس نوٹیفکیشن کے پانچ دن بعد سترہ مارچ 2014 ء کو ایک مزید نوٹیفکیشن جاری ہوا اور وسیب میں صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر، معاشی ترقی اور انتظامی امور بارے پانچ سب کمیٹیاں بنا دی گئیں۔ یہ عاجز صحت کے معاملات کی بہتری کیلئے بنائی جانے والی کمیٹی میں شامل تھا۔ اس کمیٹی میں کل سات ارکان تھے، اس کمیٹی کا چیئر مین سیکرٹری ہیلتھ پنجاب تھا جبکہ دیگر ارکان میں سردار اویس خان لغاری ایم این اے، رانا بابر حسین، مخدوم ہاشم جواں بخت، محمود قادر خان لغاری، محمد عمر جعفر ایم پی ایز اور یہ عاجز بھی شامل تھا۔ دیگر کمیٹیوں کا کیا حال تھا یہ تو مجھے معلوم نہیں لیکن ہیلتھ کمیٹی کے چار پانچ اجلاس ہوئے جن میں صرف میں، رانا بابر حسین، مخدوم ہاشم جواں بخت اور محمد عمر جعفر ایم پی ایز باقاعدگی سے لاہور آتے رہے۔ پہلی ہی میٹنگ میں سیکرٹری صحت پنجاب نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کمیٹی کے ارکان سے سوال کیا کہ ”کیا آپ کو معلوم ہے اس کمیٹی بنانے کا کیا مقصد ہے ؟ ‘‘ باقی تینوں غیر سرکاری ارکان یعنی تینوں ایم پی ایز جو بالکل نوجوان تھے خاموش رہے۔ میں نے کہا کہ عام طور پر حکومت کمیٹیاں اس لئے بناتی ہے کہ کسی معاملے پر مٹی ڈالی جا سکے۔ میرے خیال میں یہ کمیٹیاں بنانے کا بنیادی مقصد علیحدہ صوبے والے معاملے پر مٹی ڈالنا ہے۔ سیکرٹری صاحب بڑے کھسیانے ہوئے، انہیں یہ ہرگز امید نہ تھی کہ کمیٹی کا کوئی ممبر اتنا منہ پھٹ ہوگا اور ایسی گستاخی کرے گا۔ تینوں نوجوان ایم پی ایز بھی ہکے بکے رہ گئے۔ بہ سیکرٹری صاحب نے میرے ہی جواب پر مجھے شرمندہ کرنے کی غرض سے پوچھا کہ پھر آپ اجلاس میں کیوں آئے ہیں ؟ میں نے جواب دیا کہ محض اتمام حجت کی غرض سے۔ روز جزا اللہ تعالیٰ کے سامنے سرخرو اٹھ سکوں کہ کم از کم میں سو فیصد نیک نیتی سے آیا تھا، یہ کہہ کر میں نے اپنی لکھی ہوئی تجاویز کی پہلی قسط ان کے ہاتھ میں پکڑا دی کہ جنوبی پنجاب کو صحت کے معاملے میں کن مسائل کا سامنا ہے اور ان کے حل کیلئے فوری طور پر کیا کیا جا سکتا ہے۔ چار پانچ میٹنگز کے بعد پانچ کمیٹیاں ختم کر دی گئیں اور ان کی تجاویز کو ایک ایڈمنسٹریٹو کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا جس کے سربراہ ملک محمد رفیق رجوانہ تھے۔ اس ہائی پاور کمیٹی کے چند اجلاس ہوئے، پھر ملک محمد رفیق رجوانہ صاحب گورنر بن کر لاہور کی سب سے بڑی رہائشگاہ یعنی گورنر ہاؤس میں مقیم ہو گئے اور سب کچھ گول ہو گیا۔ رفیق رجوانہ صاحب کو گورنر ہائوس میں جا کر اس کمیٹی کی نہ تو کبھی یاد آئی اور نہ ہی اس کمیٹی کی تجاویز کی فائل کی گرد جھاڑنے کا خیال آیا۔
اس کمیٹی کے تیرہ ایم این ایز اور سولہ ایم پی ایز یعنی کل انتیس عوامی نمائندوں کو بھی اگلے چار سال تک کسی سب سیکرٹریٹ کی یاد نہ آئی اور علیحدہ صوبے کی قرار دادوں کا خیال نہ آیا۔ کسی بہاولپوری عوامی نمائندے نے اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر یہ سوال نہ کیا کہ جناب وہ صوبہ بہاولپور والی قرار داد کا کیا بنا؟ اس کا کیا مستقبل ہے ؟ اور نہ ہی صوبہ ملتان کے معاملے پر ملتان اور ڈیرہ غازیخان کے چھتیس ارکان قومی اسمبلی میں سے دو تین آزاد ارکان کو چھوڑ کر کسی بھی شخص کو اس معاملے کی یاد آئی۔ بہاولپور کے پندرہ ارکان قومی اسمبلی جن میں مسلم لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے آٹھ اور بعد از اںآزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے خسرو بختیار (فرار شدہ) سید محمد اصغر اور اعجاز الحق کو ملا کر کل گیارہ ارکان بن گئے۔ ان گیارہ میں کسی کو کبھی بھی بہاولپور صوبے کی یاد نے آواز نہ دی۔ ان کے ضمیر نے کبھی بھی ان کے پہلو میں دھڑکنے والے دل کو کوئی کچوکہ نہ مارا۔ قریب پچاس ارکان قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے ایک سو چار ارکان کو علیحدہ صوبے کی کبھی یاد نہ آئی حتیٰ کہ اگلے الیکشن سر پر آ گئے۔ اور ان کو اچانک صوبہ جنوبی پنجاب کے معاملے پر پیٹ میں مروڑ اٹھنا شروع ہو گئے۔
اب الیکشن سے تین چار ماہ اور حکومتی کی رخصتی سے ڈیڑھ ماہ قبل مستعفی ہونے والے ارکان اسمبلی کی بھی سن لیں، ان مستعفی ہونے والے چھ قومی اسمبلی کے ارکان میں سے خسرو بختیار، رضا حیات ہراج، طاہر اقبال چودھری یعنی تین ارکان تو وہ ہیں جو 2013 ء کے الیکشن میں آزاد حیثیت سے جیتے تھے اور بعد ازاں مسلم لیگ ن میں شامل ہو گئے تھے۔ طاہر بشیر چیمہ، باسط بخاری اور رانا قاسم نون مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے مگر ان میں اکثریت کا سابقہ ریکارڈ الحمد للہ خاصا خراب ہے اور اسی ریکارڈ کی بنیاد پر ان کو اوپر والوں نے اِدھر سے اُدھر کرنے کا اہتمام کیا ہے۔
ان مستعفی ہونے والوں کی اکثریت یا تو پی ٹی آئی جوائن کر لے گی یا پی ٹی آئی ان کے مقابلے پر امیدوار کھڑا نہیں کرے گی۔ رانا قاسم نون کے سابقہ تاریخی ریکارڈ کے مطابق اسے اس بار پی ٹی آئی سے الیکشن لڑنا چاہئے مگر شجا عبادیوں اور جلالپوریوں کے بارے میں یقین سے کچھ لکھنا کسی کے بس کی بات نہیں یہ عاجز کس باغ کی مولی ہے ؟
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker