اسد اللہ غالبکالملکھاری

وارث میر سے حامد میر تک: انداز جہاں/ اسد اللہ غالب

وارث میر کو میں زیادہ جانتا تھا حامد میر کو کم کم،وارث میرسے گہری دوستی کا رشتہ تھا، اس قدر گہرا کہ وہ میری کسی فرمائش سے انکار نہیں کر سکتے تھے۔ وارث میر سے جس جس کاتعلق تھا، ، اسی قدر گہرا تھا۔حامد میر سے میری دوستی کا وہ لیول نہیں جو ان کے گرامی قدر والد سے عمر بھر قائم رہا۔ میں وارث میر کے معاملے میں اس پالیٹکس کا شکار کبھی نہیں ہوا، جس کا وہ نشانہ بنے اور ایک مخصوص لابی نے انہیں زچ کر کے رکھ دیا تھا۔
وارث میر ایک ایسے علمی مرتبے پر فائز تھے کہ کوئی معاصر ان کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتا تھا، میں تو یہ بھی کہوں گا کہ وارث میر نے جو اسلوب تحریر اپنایا، انہوں نے جو ڈکشن استعمال کی اور ان کے ایک ایک لفظ کے پیچھے سے نظریئے کے ساتھ ایک پختگی جھلک رہی تھی، وہ آج تک کسی کو نصیب نہیں ہو سکی۔وارث میر بھولے بھالے انسان تھے، باتوں میں فوری آ جانے والے۔مطلب یہ ہے کہ وہ عیار ہرگز نہ تھے۔ صاف ستھرے اور سادہ مزاج اور سادہ دل اور دماغ کے مالک تھے۔ وہ عقیدے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ کوئی قوت انہیں نظریات سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہو سکتی تھی۔ ان کا قبلہ ایک ہی تھا۔ جبکہ ان کے ارد گرد لوگوں کی عادت یہ تھی کہ آج قبلہ اور ہے اور کل کوئی دوسرا قبلہ۔
میں نے انہیں ایک عام انسان کی نظر سے دیکھا ، وہ ہنس مکھ طبیعت کے مالک تھے۔ دوست نواز، مہمان نواز، دوستوں کے دوست مگر دشمنوں سے تکالیف سہنے کے باوجود کوئی حرف شکائت ان کی زبان سے میں نے نہیں سنا۔
حامد میر اپنے والد کا پرتو ہیں، ایک حکمران سیاست دان کے سامنے میں نے ان کے بیٹے کی تعریف کر دی تو وہ آگ بگولہ ہو گئے اور سر پیٹتے ہوئے کہنے لگے کہ کیا میرا بھیجہ ختم ہو گیا، میرے ذہن نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر میں وارث میر کے سامنے ان کے بیٹے حامد میر کی تعریف کرتا اور یہ کہتا کہ ۔۔ لائیک فادر لائیک سن۔۔ تو وہ نہال ہوجاتے۔ اور وہ رد عمل نہ دکھاتے جو مجھے ایک حکمران کے سامنے ان کے بیٹے کی تعریف پر سننے کو ملا۔ میاں ممتاز دولتانہ تھے تو میرے بزرگ مگر سچ بتاؤں تو وہ بھی میرے دوستوں جیسے تھے اور جب میں نے ان سے کہا کہ ان کا بیٹا جو چھ سال تک گورنمنٹ کالج میں میرے ساتھ رہا تھا، ان جیسا صاحب فضل اور صاحب علم نہیں بن سکا تو میاں صاحب کے چہرے پر ایک مسکان آئی جو عام طور پر سچ سننے پرکسی خالص انسان کے لبوں پر بے اختیار ہو کر رقص کرتی ہے۔ میں بہت ناپ تول کر بات کروں تو یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ حامد میر اپنے عظیم والد کی فوٹو کاپی ہے، وہی علمیت، وہی تحقیق سے دل چسپی، وہی نظریئے کی پختگی اور عقیدے سے وابستگی اور ایک ہی قبلہ، کسی میں ہمت نہیں کہ حامد میر کا قبلہ تبدیل کروا سکے ، گولی کی طاقت سے بھی نہیں۔حامد میر نے گولیاں کھائیں مگر جواب میں گالیاں نہیں دیں، وارث میر گالیاں کھاتے تھے ا ور بدمزہ نہیں ہوتے تھے۔یہ جو میں نے میاں ممتا زدولتانہ کا ذکر کیا تو یونہی نہیں کیا۔میری انکے ساتھ اکثر بحث ہوتی کہ انہوں نے نوائے وقت کیوں بند کیا۔ ایک دن تنگ آ کر کہنے لگے کہ مجھے اپنے دفتر بلاؤ ، ایک انٹرویو کرو ،اس سوال کا جواب دہاں دوں گا۔ میں نے اپنے مرشدمجید نظامی سے کہا کہ دولتانہ صاحب کو ایوان وقت میں مدعو کرنا چاہتا ہوں، انہوں نے فوری پروگرام طے کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی کہا کہ پینل میں اپنے ساتھ پروفیسر وارث میر کو ضرور شامل کر لینا تاکہ دولتانہ صاحب کو مناسب پروٹوکول دیا جا سکے۔چند روز بعد دولتانہ ہمارے دفتر تشریف لائے۔ بڑھاپے کے باوجود وہ سیڑھیاں چڑھ کر تیسری منزل تک پہنچے تھے مگر ان کاسانس نہیں پھولا تھا۔ سانس تو انٹرویو کے دوران بھی ان کا نہیں پھولا۔ وارث میر کی سوال کرنے کی مہارت کا مشاہدہ میں نے پہلی بار کیا تھا۔ نوائے وقت کے ساتھ چپقلش والا قصہ بھی میں نے انہی کے کان میں ڈالا تھا کہ وہ سوال کریں تو صحیح تاریخی تناظر میں کریں گے اور دولتانہ کے پسینے بھی چھوٹ جائیں گے، یہ موضوع تو وارث میر نے چھیڑا اور بڑے شدو مد سے حملہ کیا مگر دولتانہ بھی چالاک شخص تھے۔انہوں نے نہایت مختصر جواب دیا کہ میں نوائے وقت کی بندش پر معافی مانگنے آیا ہوں۔دولتانہ کو اندازہ تھا کہ اگر انہوں نے کوئی کہانی بنانے کے کوشش کی تو وارث میر کے حملوں سے بچ کے نہ جا پائیں گے۔ اب حامد میر اپنے ٹی وی ٹاک شو میں مہمانوں سے سوال کرتا ہے تو کسی میں جرات نہیں ہوتی کہ ان سے حقائق چھپا سکے یا ادھر ادھر کی ہانک سکے۔ جدید دور میں اوریانہ فلاسی انٹرویو کے فن کی ماہر مانی جاتی ہے،مگر اس کے انٹرویو بڑے طویل ہوتے ہیں ۔ حامد میر مختصر وقت میں اتنی ہی باتیں کہلو الیتا ہے جو اوریا فلاسی دو دو گھنٹے میں بھی نہیں کہلو اسکی ۔
کچھ لوگ حامد میر کو متشدد سمجھتے ہیں، وہ وارث میر کے بارے میں بھی ایساہی کہتے تھے۔ لیکن جب انسان نظریاتی ہو اور بے پیندے کا نہ ہو تو وہ متشدد ہی لگتا ہے۔وارث میر نے پرنٹ صحافت میں مہم جوئی کی اور حامد میر نے الیکٹرانک صحافت میں کئی مہمات سر انجام دیں۔وہ خطرات سے یوں کھیلتا ہے جیسے بچے کھلونوں سے دل بہلاتے ہیں۔دہشت گردی کی جنگ کا وہ ا نسائیکلو پیڈیا کہلانے کا حقدار ہے۔ایک زمانے میں ہمارے دوست مختار حسن جیو اسٹریٹیجک موضوعات میں مہارت تامہ رکھتے تھے، اب حامد میر ان سے بھی کہیں آگے نکل چکا ہے۔وہ اس میدان میں رحیم اللہ یوسف زئی کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے کھڑا نظر آتا ہے۔
یہ دور نظریات پر قائم رہنے کا نہیں، نظریات کی خریدو فروخت کا ہے۔ حامد میر کب تک وارث میر کے راستے پر چلتا ہے۔ سوال بڑا ہم ہے مگر وراث میر کا بیٹا ان کے راستے کو ترک کرنے کا خیال تک ذہن میں نہیں لاسکتا۔اگرچہ ہم دونوں میں سخت ان بن ہے مگرمجھے وہ اسی لئے پسند ہے کہ ایک نظریئے پر تو کار بند ہے۔
وفا داری بشرط استواری اصل ایماں ہے
مرے بت خانہ میں تو کعبہ میں گاڑو برہمن کو
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker