خالد مسعود خانکالملکھاری

ریل کی سیٹی بجی اور دل لہو سے بھر گیا۔۔خالد مسعود خان

ریل گاڑی سے میرا رشتہ بہت ہی پرانا ہے‘ اور مزے کی بات یہ ہے کہ میرا یہ رشتہ ریل گاڑی سے متعلق لوگوں کے عمومی رشتے سے مختلف تھا۔ میرا یہ رشتہ ریل گاڑی اور مسافر کا رشتہ نہیں تھا بلکہ ہمسائے کا رشتہ تھا۔ پکا اور مضبوط۔ روزانہ کی بنیاد پر قائم۔ ہمارا گھر سٹی سٹیشن ملتان کے ساتھ ہی تھا۔ ریلوے سٹیشن ریلوے لائن کی دوسری طرف تھا اور اس طرف جدھر ہمارا گھر تھا‘ آئل ڈپو تھا۔ پٹرول، مٹی کے تیل اور ڈیزل کی تین عدد دیوہیکل لوہے کی ٹینکیاں تھیں۔ ان کے ساتھ حفاظتی دیوار تھی جس کے اوپر خاردار تار لگی ہوئی تھی‘ جو کئی جگہ سے کٹی ہوئی تھی۔ دیوار کے اس طرف اونچا سا ایک میدان تھا جہاں ہم اماں حجانی کی اجازت سے فٹ بال کھیلتے تھے۔ یہ میدان اماں حجانی کی ملکیت تھا۔ ساتھ ہی اماں حجانی کا گھر تھا۔ اس کے پار کنواں تھا‘ جس پر رہٹ لگا ہوا تھا۔ ایک بیل آنکھوں پر چمڑے کے ”کھوپے‘‘ چڑھائے کنویں سے پانی نکالتا رہتا تھا۔ ہم نے اس بیل کے پیچھے لگے ”پھٹے‘‘ پر بیٹھ کر بڑی ”سیر‘‘ کی ہے۔ یہ تب واقعتاً سیر ہی ہوتی تھی۔
اوپر میدان تک جانے کے لیے ایک کچی چڑھائی تھی۔ بائیں طرف کنواں آتا تھا‘ پھر اماں حجانی کا بڑا سا کچا گھر جس کے آگے بڑا سا صحن تھا اور اس پر لگا ہوا لکڑی کا بہت بڑا دروازہ‘ جو اپنے ہی وزن سے لٹک کر درمیان سے بیٹھ گیا تھا۔ اس دروازے کا ایک پٹ کھلتا اور بند ہوتا تھا‘ دوسرا پٹ مستقلاً لٹک کر زمین میں دو چار انچ دب چکا تھا‘ لہٰذا اتنی مضبوطی سے بند تھا کہ ہلانا جلانا ناممکن تھا۔ میدان اور محلے کی آبادی کے درمیان اماں حجانی کا کھیت تھا‘ جس میں سبزیاں اگتی تھیں۔ رعب اور دبدبے والی اماں حجانی کبھی کبھار ہمارے گھر بھی آتی تھیں۔ ان کی آواز دوسرے گھر تک باآسانی سنائی دیتی تھی۔ مجھے نہیں یاد کہ ان کا کوئی بیٹا وغیرہ تھا یا نہیں‘ ہاں ان کے بیلوں کو چارہ ڈالتے ہوئے، رہٹ پر ان کو جوڑتے ہوئے، ہل چلاتے ہوئے دو لوگوں کو دیکھتے تھے‘ مگر یاد نہیں کہ وہ اماں حجانی کے کیا لگتے تھے؛ البتہ ان کا ایک نواسہ تھا‘ ریاض۔ لاڈلا اور جان سے زیادہ عزیز۔ ہم نے ڈکٹیٹر ٹائپ اماں حجانی سے اس میدان میں کھیلنے کی اجازت بھی ان کے اسی نواسے کے ذریعے حاصل کی تھی۔ کھیت کے بعد محلے کے گھر شروع ہو جاتے تھے۔ محلے کی پہلی دکان چاچا ملنگ کی تھی جو دکانداری کرتے ہوئے مسلسل ”اللہ ہو‘‘ کا ورد باآواز بلند کرتا رہتا تھا۔ بڑی چھاج جیسی داڑھی، گلے میں منکوں کے بڑے بڑے درجن بھر ہار اور سر پر سفید کپڑے کی ٹوپی۔ یہ دکان گلی کی نکڑ پر تھی۔ اس گلی کے آخر میں بائیں ہاتھ میرے دادا کا گھر تھا‘ جو تین حصوں میں بٹ چکا تھا۔ پہلا تایا عزیز کا گھر تھا۔ پھر چچا رؤف کا گھر اور گلی مڑ کر ہمارا گھر تھا۔ دادا سے ملنے والا حصہ کرائے پر دیا ہوا تھا۔ دوسری گلی کے اختتام پر ہمارا بڑا سا گھر تھا۔ یہ تب محلے کا واحد دو منزلہ لینٹر کی چھتوں والا مکان تھا۔ ریل کی سیٹی کی آواز سارا دن اور ساری رات اس طرح سنائی دیتی تھی کہ لگتا تھا ساتھ والی گلی سے گزر رہی ہو۔
ہم دوسرے تیسرے دن اور گرمیوں کی چھٹیوں میں خاص طور پر جب گھر والے سو جاتے تو دو تین کزن اور دوست مل کر ریلوے سٹیشن پر چلے جاتے۔ پلیٹ فارم پر داخلے کا دروازہ بالکل دوسری سمت تھا۔ ہم تو ریلوے لائنوں کو پھلانگتے ہوئے ادھر آتے اور شیڈ کے نیچے لگے لکڑی کے بنچوں میں سے کسی پر بیٹھ جاتے اور بلا مبالغہ گھنٹوں بیٹھے رہتے تا وقتیکہ کوئی مسافر ٹرین آتی۔ ایکسپریس ٹرینیں یہاں رکے بغیر آگے چلی جاتی تھیں۔ یہاں سے محض ڈیڑھ دو کلومیٹر دور ملتان چھائونی کا ریلوے سٹیشن تھا۔ ملتان کا اصلی اور بڑا ریلوے سٹیشن یہی تھا۔ سٹی سٹیشن پر صرف پسنجر ٹرینیں یعنی پھسڈی والی گاڑیاں رکتی تھیں۔ دوسری طرف مال گودام تھا۔ یہاں مال گاڑیاں سامان اتارتی تھیں۔ سب سے زیادہ مزہ ہمیں تب آیا جب ایک بار مال گاڑی پر ملتان میں لگنے والی کسی سرکس کے تین ہاتھی آئے تھے اور مال گودام سے تھوڑا ہٹ کر بنے لوہے کے جنگلے میں دو دن رہے تھے۔ تب اس ویران سے پلیٹ فارم پر بچوں کی بڑی رونق لگی رہی۔
تب ایک عجب شوق تھا۔ کنگرے دار آنہ یا چورس ”دوانی‘‘ کو ریلوے لائن سے گزرنے والی ٹرین کے نیچے رکھ کر پتلا اور دوگنا چوڑا کیا جاتا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ ایکسپریس ٹرین کے آنے سے پہلے دو آنے کا سکہ ریلوے لائن پر رکھ دیا۔ تیز رفتار سے آنے والی ریل گاڑی اس سکے کو چوڑا کرنے کے بجائے اپنے پہیے کے ساتھ چپکا کر ساتھ ہی لے گئی۔ ہمیں کئی دن تک ملال رہا کہ دو آنے ضائع چلے گئے حالانکہ اگر وہ وہیں بھی رہ جاتا تو بیکار ہی جاتا کہ اس چپٹے سکے کی نہ کوئی مالی قدر باقی بچی ہوتی تھی اور نہ کوئی دکاندار اسے کبھی لیتا تھا‘ اس کے باوجود کئی دن تک بڑا ملال رہا۔ اس کے بعد ہم نے ایکسپریس ٹرین کے نیچے سکہ رکھنے سے توبہ کر لی۔
ایک بار ایسا ہوا کہ میں خالو منظور کی وفات کے سلسلے میں ماں جی کے ہمراہ لائلپور گیا۔ تب فیصل آباد لائلپور ہی تھا۔ واپسی پر رات کو دس گیارہ بجے ملتان پہنچے۔ گاڑی ملتان سٹی سٹیشن پر رکی۔ یہ سردیوں کی رات تھی۔ وہاں ابا جی ہمیں لینے آئے ہوئے تھے۔ میں چھ سات سال کا ہوں گا۔ میں نے ضد کرکے اپنی آدھی ٹکٹ اپنی جیب میں ڈال لی تھی۔ ٹرین سے اترتے ہوئے میں نے ٹکٹ نکال کر ہاتھ میں پکڑ لی۔ اس رات عجب ہوا۔ پلیٹ فارم کے آخر میں ٹکٹ کلکٹر کھڑا تھا۔ یہ ہمیشہ اس دروازے پر ہوتا تھا جدھر سے تانگے کی سواریاں باہر جاتی تھیں، مگر اس رات وہ ادھر کھڑا تھا۔ اترنے والے صرف ہم دو مسافر تھے۔ ٹکٹ مانگنے پر ماں جی نے اپنی ٹکٹ اسے دی۔ میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو ٹکٹ ندارد۔ ٹکٹ کلکٹر نے ٹکٹ مانگی تو میں نے بجائے جواب دینے کے رونا شروع کر دیا۔ ٹکٹ کلکٹر نے بجائے ٹکٹ کا مزید تقاضا کرنے کے مجھے دلاسا دیا اور کہا کہ اگر ٹکٹ نہیں تو کوئی بات نہیں۔ میں نے اور زور زور سے رونا شروع کر دیا اور کہا کہ میں بغیر ٹکٹ نہیں ہوں‘ میری ٹکٹ تھی لیکن گم ہو گئی ہے۔ ٹکٹ کلکٹر نے کہا کہ ہم چلے جائیں‘ مگر میں اکڑ گیا کہ پہلے میری ٹکٹ ڈھونڈی جائے۔ ٹرین جا چکی تھی۔ رات اندھیری تھی اور پلیٹ فارم پر دور دروازے پر مدھم سا بلب جل رہا تھا‘ جس کی روشنی وہیں آٹھ دس فٹ کے دائرے میں دم توڑ رہی تھی۔ ٹکٹ کلکٹر اندر گیا اور ٹارچ لایا۔ تھوڑی دیر میں پلیٹ فارم پر پڑی میری آدھی ٹکٹ مل گئی۔ اب میں نے اور زور زور سے رونا شروع کر دیا۔ ٹکٹ کلکٹر نے گھبرا کر پوچھا کہ برخوردار اب کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا: آپ نے مجھے بلا ٹکٹ کیوں کہا تھا؟ ٹکٹ کلکٹر ہنسا اور کہا: اچھا بھئی مجھ سے غلطی ہو گئی۔ اس دوران ابا جی بھی ہنسنے لگ گئے۔ تب مجھے ابا جی پر دل ہی دل میں بڑا غصہ آیا۔
ہمارا ایک دوست حافظ وقار عظیم ریلوے سٹیشن کا عجب شیدائی تھا۔ رات آٹھ نو بجے چھائونی ریلوے سٹیشن کے چائے کے سٹال پر آ کر بیٹھ جاتا۔ اس کے دو چار اور دوست بھی آ جاتے اور وہاں منڈلی جما لیتے۔ وہ لوگ وہاں رات ڈیڑھ دو بجے تک بیٹھے رہتے۔ چائے پیتے، گپیں مارتے اور آتی جاتی ٹرینوں کے زنانہ ڈبوں پر وہیں بیٹھے بیٹھے نظریں دوڑاتے اور سرگوشیوں میں تبصرے کرتے۔ نہ کوئی گھٹیا حرکت کرتے اور نہ ہی کبھی کوئی اشارہ کیا۔ یہ نظر دوڑانا بھی صرف مشغلہ تھا‘ بلکہ چائے پینے کے اصل مشغلے کے ساتھ جڑا ہوا ضمنی مشغلہ۔ ایک دو بار ان کے ساتھ رات گئے تک تو کیا بیٹھتے، دس گیارہ بجے واپس آئے تو گھر سے وہ ڈانٹ پڑی کہ چھائونی ریلوے سٹیشن پر جانے سے توبہ کر لی۔
کئی سال تک تو ایسا ہوا کہ روزانہ علی الصبح نماز کے فوراً بعد گھر سے دوڑنا شروع کرتے اور سٹی ریلوے سٹیشن سے ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ ممتاز آباد ریلوے سٹیشن تک دوڑ لگائی جاتی اور واپسی پر پلیٹ فارم کے بنچ پر آدھا گھنٹہ آرام کیا جاتا اور ایک آدھ ٹرین کو گزرتا دیکھ کر گھر واپس جاتے۔ 1978ء میں محلہ چُھوٹا اور اس کے ساتھ ہی ریلوے سٹیشن اور ریل گاڑی۔ جب میں ٹولیڈو آیا سردی تھی اور گھر کی کھڑکیاں بند۔ صبح فجر کی نماز کیلئے اٹھا تو کمرے میں گرمی تھی۔ تھوڑی سی کھڑکی کھولی کہ ہوا آئے۔ ہوا کے ساتھ ریل کی سیٹی کی آواز آئی۔ علی الصبح عشروں بعد ریل کی سیٹی کی آواز قریب پچاس سال پیچھے لے گئی۔ یادِ ماضی۔ منیر نیازی مرحوم بہت یاد آئے‘ اور ساتھ ہی ان کا شعر
صبح کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیرؔ
ریل کی سیٹی بجی اور دل لہو سے بھر گیا
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker