کالمکشور ناہیدلکھاری

پنشن والوں کی آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کیلئے۔۔کشور ناہید

عزیزی بشریٰ بی بی اور محترم وزیراعظم! آپ نے کبھی پہلی تاریخ کو عمر رسیدہ عورتوں کو بینک میں پنشن، وہ بھی بیس سال پہلے فوت ہوئے شوہر کی، لینے اور اس ہزار دو ہزار روپے میں گھر کا خرچ چلانے کی کوشش کرتے دیکھا ہے۔ کبھی آپ نے سوچا کہ باپ کے مرنے کے بعد، اولاد گھر بیچ کر خود تو سکون سے رہ رہی ہے اور ماں، باپ کی حقیر پنشن میں روٹی اور اچار کھا کر زندگی پوری کر رہی ہے۔ آپ کے کان میں کسی نے ’’دیہاڑی دار‘‘ پھونک دیا۔ اب صبح و شام ان کا ذکر آپ اور آپ کے کارندوں کی زبان پر ہوتا ہے۔ آپ ان پنشن والوں کو ملنے والی رقم میں بھی کٹوتی کا سوچ رہے ہیں۔ بالکل اس طرح آپ کو 1985ء سے اب تک ہونے والی آپ کے مطابق کرپشن کے کیسز کھولنے کا اشارہ کس نے دیا اور آپ نے اعلان کر دیا۔ 25کروڑ روپے سینیٹ چیئرمین کے گھر اور 15کروڑ نیب کے چیئرمین کے گھر کیلئے اس زمانے میں دینے کی تجویز کس نے پیش کی ہے جبکہ نیا پاکستان کے تحت غریب گھرانوں کو 5لاکھ روپے گھر بنانے کیلئے قرضہ دینے کیلئے بینکوں کو ہدایت دی گئی ہے۔ بیکار قسم کے لوگ تھے رضا ربانی جیسے جنہوں نے چیئرمین رہتے ہوئے سوائے پونی ٹیل بنانے کے اور کچھ نہیں بنایا۔
عزیزی بشریٰ بی بی! وہ بچی زہرہ کیا کر رہی تھی؟ اس نے غلطی سے طوطوں کا پنجرہ کھول دیا۔ صاحب اور بیگم صاحب کو اتنا دکھ ہوا کہ بچی کی ہڈی پسلی ایک کر دی۔ امریکہ میں جارج فلائیڈ کو جس طرح گورے سپاہی نے دیدہ دلیری کے ساتھ گردن دبا کر مار ڈالا، آپ جانتی ہوں گی۔ لوگوں کے غم و غصے سے ڈر کر ٹرمپ خندق میں چھپ گیا تھا اور ساری دنیا کے لوگ مظاہرہ کرتے ہوئے سڑک پر تھے۔ آپ بھی اپنی قوم میں حمیت جگائیں کہ کبھی چینی غائب، کبھی آٹا غائب، کبھی ٹرانسپورٹ غائب اور کبھی پیٹرول غائب جیسی لاقانونیت ہو تو کابینہ کے 53ارکان صرف ٹی وی پروگراموں پر اکتفا نہ کریں۔ پکڑیں گے، پکڑیں گے کہتے کہتے آپ نے معیشت کو آٹھ اعشاریہ پانچ فیصد سے پانچ اعشاریہ آٹھ فیصد تک پہنچا دیا ہے۔ آپ جانتی ہیں غریب پیسے نہیں مانگتا۔ عزت اور روزی مانگتا ہے۔ آپ کے دیے ہوئے 12ہزار میں تو دو سال کا چڑھا ہوا قرض ہی اترا ہوگا۔ کورونا نے تو گھروں میں کام کرکے، اپنا چولہا جلانے والیوں سے بھی یہ روزگار چھین لیا ہے کہ سب لوگوں نے کورونا کے ڈر کے مارے کام کرنے والیوں کو آنے سے منع کر دیا ہے۔
عزیزی بشریٰ بی بی! آپ کے پی ایم ہاؤس میں آنے سے پہلے سندھ کی حکومت نے زرعی زمین عورتوں کو دینے کا منصوبہ شروع کیا تھا۔ یہ قدم دو دفعہ اُٹھایا گیا پھر وہاں بھی سناٹا ہے۔ آپ لوگوں کو خیرات، زکوٰۃ دینے کے منصوبوں کو فروغ مت دیں۔ عورتوں اور مردوں کو شہر ہو کہ دیہات، ہنر سکھائیے، کام دیجئے۔ آپ کو شاید معلوم ہو کہ کرک اور ڈی آئی خان کے علاوہ کئی علاقوں میں سارے مصلے اور چٹائیاں گھروں میں عورتیں بناتی ہیں۔ میں عمر میں بڑی ہونے کے باعث آپ کو بتاؤں 1948ء میں پنڈت نہرو نے کہا کہ عورتیں کیا کرتی ہیں۔ بتایا گیا کہ گھروں کا کام، نہرو نے کہا ان کو کوئی ہنر نہیں آتا انہیں جھاڑو بنانا سکھائیں اور آرڈر کر دیں کہ انڈیا کے سارے دفتروں میں ان کے علاقے کی عورتوں کی بنائی ہوئی جھاڑو استعمال ہوگی۔ دو سال بعد عورتوں کو کاغذ بنانا سکھایا گیا اور صدر، وزیراعظم کے دفاتر میں صرف عورتوں کے بنائے ہوئے کاغذ کااستعمال لازمی ٹھہرا مگر ہم ان کی بھی نقل نہ کر سکے۔ سوات کے ایک گاؤں میں ایک خاندان اور اب پورا گاؤں کھڈی پہ گرم چادریں بناتے ہیں۔ اس طرح تھر میں پورے خاندان کھڈی پر کام کرتے ہیں۔ ان کو پھیلائیں۔ فی الوقت ضرورت یہی ہے کہ جاپان کی طرز پر گھروں میں ضرورت اور موقع کے مطابق چھوٹی چھوٹی فیکٹریوں کی طرز پر کام میں مصروف کیا جائے کہ اب جو 30ہزار بیکار پاکستانی آئے ہیں ان کے روزگار کا اہتمام اور پھر فیکٹریوں اور دفتروں سے نکالے ہوئے 30لاکھ لوگوں کو کون روزگار دے گا۔ کوئی نہیں دے سکتا۔ ان کو گروپ کی شکل میں، ورکشاپس وغیرہ بنانا ہوں گی۔ چین، ویتنام، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا کی طرز پر کرافٹ ویلیج بنانا پڑیں گے مختصراً یہ کہ پاکستان کے گھروں کو پورا لائف اسٹائل جس میں آپ لوگ بھی شامل ہیں، بدلنا پڑے گا۔ کیا آپ لوگ جاگیرداروں اور وڈیروں کی تہذیب بدل سکیں گے۔ اب تو میں بالکل ہی سناٹے میں آگئی ہوں۔ اِدھر پنشن ادائیگی میں کٹوتی کی جارہی ہے۔ اُدھر اسمبلی کے ممبران کے ساتھ فیاضیانہ ادائیں تو دیکھئے کہ ان کے علاوہ خاندان کے لوگ بھی مفت ہوائی سفر کرسکیں گے۔ خیر سے قانون بنانے اور لوگوں کو نوکری اور بزنس کا سرمایہ فراہم کرنے کا کام آپ نے کر دیا، معلوم کیجئے بینکوں سے اور نیا پاکستان والوں سے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر آپ کے پاس باقاعدہ اور پکی نوکری نہیں۔ آپ کا تو بینک اکائونٹ بھی نہیں کھل سکتا ہے۔غیرت کے نام پر قتل، کوئی نئی بات نہیں مگر زہرہ بچی کو مارنے کے بعد ملزم میاں بیوی اس کے نانا سے صلح کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بھی ریمنڈ ڈیوس اور اسی کے دیگر صلح ناموں جیسا ہوگا۔ساری دنیا اس وقت ہربل دوائوں کی جانب جا رہی ہے۔ ہر ملک میں ادرک، ہلدی اور لہسن کے کپسول ملتے ہیں۔ یہ چیزیں ہمارے ملک میں آنے بھائو ملتی ہیں۔ دیسی دوائیں بنانے کے طریقے دیہات میں عورتوں کو سکھائے جائیں۔ تو کورونا کے بارے میں الٹی سیدھی چیزوں کے نام ٹی وی پر مشتہر نہ ہوں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker