کالمکشور ناہیدلکھاری

کشور ناہیدکا کالم:یہ باطن نکوکار۔ بہ ظاہر گنہگار

عورتوں کی نفسیات پر تو ہزاروں کتابیں موجود ہیں۔ البتہ مردوں کی نفسیات پر یا تو لکھا ہی نہیںگیا اور اگر لکھا بھی گیا ہے تو وہ بھی عورت کو مرد کو سمجھنے کے طریقے اور گھر میں سکون رکھنے کے رویے پر زور دیا گیا ہے۔ ہمارے پاکستانی ماہر نفسیات جس نے تھائی لینڈ، سری لنکا، کینیڈا کے علاوہ پاکستان میں بھی ملازمت کی۔U.N.D.Pکے ساتھ کام کیا اور مردوں کی نفسیات کو بیان کرنے کے لئے کوئی سائنسی یا فلسفیانہ تھیوری پیش نہیں کی بلکہ انسانی تعلق کی تہوں کو مکالمے، بحث اور عورت، مرد کی شادی کے علاوہ دوستی کو، مثبت طورپر بیان کیا ہے۔ یہ جائزہ یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم نوجوان لڑکے لڑکیوں، دفتروں میں کام کرتی خواتین اور مردوں اور شہوت کی نفسیات کو کسی مرد نے پیش کرتے ہوئے محسوس کیا ہے کہ ہم سب مرد خود کو فرشتے کے طور پر ساری عمر ثابت کرتے رہتے ہیں۔ صاف گوئی سے دیکھا جائے تو اندر چھپی اور ظاہر خباثت کو نہ تسلیم کرتے اور نہ ہی بیان کرتے ہیں۔ البتہ ہپناٹائز کرکے سنا ہے اُگلوا لیتے ہیں۔
یہ ماہر نفسیات ہیں ڈاکٹر کامران احمد جنہوں نے اپنے سارے تجربات اور مکالمات کا تجزیہ کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ نوجوان لڑکے، کسی لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوں تو ہمارے مذہب کے مطابق فوراً شادی کے سوال پہ اڑ جاتے ہیں جبکہ لڑکی سوچ سمجھ کرجواب دیتی اور جذبات کا اظہار کرتی ہے۔ عشق یا تعلق کے دوران، لڑکی کو بچپن کی تربیت، معاشرتی ماحول اور تہذیبی روایات کو سامنے رکھنا ہوتا ہے۔ جو لڑکیاں جذبات کی رو میں بہہ جاتی ہیں، ایسی شادیوں کی عمر کم اور تلخیوں کی زیادہ ہوتی ہے۔ مرد اپنے آپ کو ماہر نفسیات کے سمجھانے کے باوجود بہت دیر میں دوستی اور عشق میں فرق کو سمجھتا ہے۔
ڈاکٹر کامران بہت سلیقے اور شائستگی سے رومی اور شمس کے درمیان یا بلھے شاہ اور شاہ عنایت، شاہ حسین اور مادھو کے درمیان جو شیفتگی تھی، اس کو بیان کرتے ہیں۔ وضاحت اس لئے ضروری ہے کہ عشق کامیابی میں کبھی مجذوبیت میں ڈھل جاتا ہے اور کبھی شاعری میں اظہار پاتا ہے۔ لڑکے عشق میں ناکامی کو مجنوں بن کے مزاروں پر صوفی شاعری سن کر کبھی دل کی بھڑاس نکالنے کو روتے ہیں تو کبھی، زندگی میں سنجیدگی کی طرف لوٹتے ہیں۔ اردو شاعری میں یوں تو کلاسک سے شروع ہوں تو بہت مثالیں ہیں۔ ہمارے زمانے میں میرا جی اور فراق صاحب کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ فراق صاحب کو لڑکوں سے تعلق نے مارا ہوا تھا۔ اور میرا جی، خود ساختہ میرا سے عشق، یہی مثال زاہد ڈار پر بھی منطبق ہوتی ہے۔
آیئے اب ایک اور بیانیے کی جانب توجہ دیں۔ ابھی ابھی طالبان نے، افغانستان فتح کیا ہے۔ یہ اصلی فتح ہے کہ ظاہری، اس کا اندازہ کچھ دن گزرنے پر ہوگا۔ البتہ زمیں پر بسنے والے بار بار بغیر کسی معقول جواز کے یہ کہہ رہے ہیں کہ طالبان عورتوں کو گھروں میں بند اور بچوں سے وہ سارے کام کرواتے رہیں گے جو ان کو واسکٹ پہن کر خود کش دھماکوں میں استعمال کرتے آئے ہیں۔ یہ سب اندازے وقت سے پہلے اور دنیا کے نقشے پر پھیلے ممالک کی نظروں کو اور جائزوں کو سامنے رکھ کر نہیں کئے گئے ۔ ابھی تو اس ملک کا نام افغانستان کی جگہ ’’دولت اسلامیہ‘‘ رکھ دیا جائے گا۔ یہ سوال بھی قبل ازوقت ہے ابھی تو ان کی کابینہ بننی ہے۔ آئین بننا ہے۔ افغانی کرنسی کی جگہ اور کونسی کرنسی چلے گی۔ کیا ان کا ذریعہ معاش وہی رہے گا جو اب تک تھا کہ وہ خود کو اسلامی کہتے ہوئے، کونسی شریعت اور قوانین نافذ کریں گے موجودہ زمانے کے قوانین کو اختیار کریں گے کہ مدرسوں میں پڑھے ہوئے اسباق کو عملی اور بین الاقوامی تعلقات اور قوانین پر حاوی کریں گے۔
یہ سب سوالات، سب جانتے ہیں کہ قبل ازوقت ہیں۔ مگر ہم پاکستانیوں کو، ہر ایک کے معاملے میں دخل دینے اور ہمارے رپورٹرز وہ بیان اخبار میں شائع کرکے، اپنے ملک کی سیاسی حیثیت جو پہلے ہی بہت اچھی نہیں، اس کو مزید خراب کرنا چاہتے ہیں۔ کیا طالبان نہیں جانتے کہ گزشتہ بیس برس میں ان پر کتنی لعن طعن کی گئی۔ اب اگر امریکہ فوجیں واپس بلا رہا ہے تو اپنے سیاسی نظریات بھی اپنے پاس ہی رکھے۔ پاکستان ہو کہ افغانستان، ان کی عورتیں موم کی گڑیا نہیں ہیں۔ ہم نے آمریت کے دور میں انسانیت کی تذلیل ہوتی اور خواتین کا اس پر ردعمل، ساری دنیا نے دیکھا ہوا ہے۔ گری ہوئی دیواریں دوبارہ نہیں کھڑی کی جاسکتیں۔ وہ حکومت کرنا چاہ رہے ہیں۔ وہ ایک ملک میں ہیں جس کی سینکڑوں سالہ تاریخ میں کوئی قوت ان کو زیر نہیں کرسکی۔ البتہ یہ لونڈے جو ایئرپورٹ پر جہازوں سے لپٹ رہے تھے یہ سب بیروزگاری سے ستائے ہوئے تھے۔ اب ملک میں قانون کی عملداری، انصاف اور نوکریاں بغیر کسی تعصب کے دی جائیں گی تو لوگ کہیں نہیں جائیں گے۔
اور آخر میں یہ کہ محرم میںملک کی 33فیصد پڑھی لکھی آبادی کو برگشتہ مت کریں’’ تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں‘‘خواتین سے ڈرتے کیوں ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker