کالمکشور ناہیدلکھاری

کشور ناہیدکاکالم:سیلاب کے بعد فوٹو سیشن اور بس

پاکستان میں قائداعظم کے بعد سے ساری کابینائیں کچے دھاگے سے ایک دوسرے سے بندھی، گھسٹتی رہیں اور ایک کے بعد دوسرا، کبھی کبھی تو صبح اُٹھ کر ریڈیو سے پتہ چلتا کہ حکومت بدل گئی۔ اس طرح 75برس گزر گئے۔ زلزلے ہوں کہ سیلاب، ہم نے دنیا کو باور کرایا کہ اب پاکستان کے لوگوں کی قسمت بدل جائے گی، ایسی انقلابی تبدیلیاں رونما ہوں گی کہ دنیا دیکھتی رہ جائے گی۔ زلزلے کے بعد دیکھا کہ کشمیر میں چشموں نے اپنی جگہ خود ہی بدل لی، سڑکوں کے لئے نئے راستے کھل گئے اور جب ہم نے اونچائی پر چڑھ کر کشمیر میں مظفر آباد کو دیکھا تو کہا ارے یہ تو سب ٹھیک ہے۔ میرے گائیڈ نے زہر ناک لہجے میں کہا ’’سب گھروں کی چھتیں زمین پر نظر آرہی ہیں، آپ اس کونیچے چل کر تو دیکھیں‘‘۔
بس یہی کیفیت آج کل ہولناک سیلاب کے بعد نظر آرہی ہے۔ انسانی المیہ تو دیکھا نہیں جاتا، مگر سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں اب تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ٹرینیں ڈیڑھ مہینے سے بند ہیں۔ واللہ کیا حسنِ کارکردگی ہے۔ اُدھر ہو یہ رہا ہے کہ ابھی کسی بھی اعلیٰ عہدے دار کو آنا ہے، سب سر کار سوٹ پہن کر، کیمرے لگوا کر اردگرد بچوں کو گھیر کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اعلیٰ عہدے دار کے آتے ہی تھیلے اُٹھا کر دیئے جاتے ہیں، کیمرے کلک کلک کرتے ہیں اور پھر ان کے جاتے ہی ’’کیا ہوگئی چمن کی صورت‘‘ سب واپس اپنے کونوں یعنی دفتروں میں بیٹھ کر نئے آنے والے کے لئے، نئے اعداد و شمار کی شیٹ تیار کرتے ہیں۔ اس فوٹو شوٹ کو لوگوں نے بہت برداشت کیااور اب جب صبر کی انتہا ہوگئی تو تھرپارکر تک عورتوں نے اپنے گھونگھٹ اونچے کئے اور سندھ کے وزیراعلیٰ کی گاڑی کے سامنے کھڑے ہوکر کچھ بھی نہ ملنے کا شور مچا دیا۔ یہ تو خیر جگہ جگہ چیف منسٹر نظر آرہے ہیں اور کشتیوں میں بیٹھ کر دوردراز علاقوں میں آرمی کے ساتھ سامان تقسیم کررہے ہیں۔ یہ تو سندھ میں فوٹو سیشن ہیں، کچھ کام بھی۔ مگر بلوچستان میں تو نہ خیر خبر نہ فوٹو سیشن، کس کی حکومت ہے کون کون مر گیا، کون بھوک سے اور کون مچھروں سے اور کون سردی سے مررہا ہے۔ کوئی خبر ہی نہیں۔ اللہ بھلا کرے چند دلیر صحافیوں کا کہ سڑک تک نہ ہونے کے باوجود، کسی نہ کسی طرح سیلاب سے بچے ہوئے ٹیلوں پر بیٹھے لوگوں سے حال پوچھا۔ بس اکیلا شہباز شریف، شنگھائی تنظیم میں دہائی دیتے ہوئے، اس وقت انہیں پاکستان سے زیادہ افغانستان یاد آیا۔ کہا بیرونی ممالک توجہ کریں، ہم کہہ رہے ہیں کہ آپ سوات میں طالبان کی یلغار پہ دہائی دیں۔بے مطلب مذہبی جنونیت کو روکیں۔
اب 70 افراد پر مشتمل کابینہ کے سارے وزیر باری باری اپنی سی ہانک رہے ہیں۔ کوئی کہتا ہے آباد کاری میں کئی سال لگیں گے، کوئی کہتا ہے کہ دنیا بھر کے ملکوں کو فنڈز فراہم کرنے چاہئیں۔ پہلے لوگ پوچھتے ہیں، وہ جو ڈیم بنانے کے لئے فنڈز اکٹھے کئے تھے۔ ان کا تو حساب دو۔ اکلوتی حزبِ اختلاف جلسے کئے جارہی ہے۔ ایک طرف سیلاب زدگان احتجاج کر رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف فوٹو شوٹ میں کوئی خاتون ہنس کر جھنڈا لہرا رہی ہوتی ہے۔ اب بہت سے سیاست دانوں کو اپنی تصویر اتروانے کا خیال آیا ہے، کوئی ہاتھ خالی جائے تو لوگ اس کو دھکے دے کر نکال دیتے ہیں۔
ب جبکہ کچھ علاقوں میں آرمی نے بچوں کو پڑھانے کا اہتمام کیا ہے۔ حکومت کو پانی اترتے ہی ترجیحی بنیادوں پر منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔ سب سے پہلی ضرورت تو بچوں کی ہے جس پر عالمی ادارۂ خوراک تک بار بار کہہ رہا ہے۔ پھر موسم کے ساتھ سردی اور وہ بھی کھلے آسمان تلے بیٹھے لوگوں کو سردی کے کپڑے اور لحاف چاہئیں۔ ساتھ ہی ساتھ جہاں پانی اُتر گیا، وہاں کھیتوں کی زمین بحال کرنے اور بچوں کے اسکولوں کی تعمیر ضروری ہے۔ بظاہر لیپا پوتی نہیں چلے گی۔ باقاعدہ اسکولوں کی عمارتیں، جن میں غسل خانے ضروری ہیں۔ مگر غضب خدا کاکہ اس عالم میں بھی پنجاب حکومت 30کروڑ کی 40گاڑیاں، وزیروں کے لئے درآمد کرنے کا اعلان کرچکی ہے۔ کے پی کو امریکی حکومت نے گاڑیاں اور فنڈز دیئے ہیں۔ ان کو جلسوں کے ہیلی کاپٹر پر مت خرچ کریں۔ پنجاب میں آج کا موضوع کتابیں ہیں۔ درسی کتابیں جو بازار میں دستیاب ہی نہیں۔ پنجاب کے جنوبی علاقوں کی جانب، سارے فنڈز رکھ دیئے جائیں اور گاڑیوں کے فضول آرڈر کو ملتوی کریں یا پھر یہ سب وڈیرے وزیر اپنی اپنی گاڑیاں استعمال کریں مگر یہ حوصلہ کہاں سے آئے۔
اُدھر یونیسکو کو بھی خیال آیا ہے کہ پاکستان کے تہذیبی آثار موہنجودڑو سندھ میں اوردشت، بلوچستان میں، اپنی نگرانی میں تعمیری کام کروائیں۔ کوئی ادارہ ایسا ہو جو پاکستان کے سارے ٹھیکیداروں کو ڈیم اور پُل بنانے کی ذمہ داری نہ دے۔ اگر فنڈز کھائے نہ جاتے تو سارے ریت سے بنےڈیم اور پل ڈھے نہ جاتے۔
کوئی ادارہ ایسا بھی ہو جو 50ہزار روپے کے عوض بیٹیاں فروخت کرنے والی عورتوں کو روکے۔ وہ جواب میں کہہ رہی ہیں میں 50ہزار روپے سے اپنا ٹوٹا گھر بناؤں گی۔ فریال تالپور، اگر کچھ نہیں کررہیں تو یہ ذمہ داری لے لیں۔ آپ کرسکتی ہیں۔
پھر سارے لکھنے اور بولنے والے فوٹو فنش کے لئے بولتے ہوئے ہر دفعہ ہر جگہ، چیف آف آرمی اسٹاف کی تقرری کو مسئلہ نہ بنائیں۔ سارے افسر، اپنی پوسٹنگ کے دوران کام کریں۔ شخصیات پہ گفتگو بے معنی ہے کارکردگی ہوتی تو جلسوں والے ٹرکوں پر گزارا نہ کرتے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker